آرمی چیف کو توسیع کی غلطی دہرانے کا امکان کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت اپنے کھیسے میں آرمی چیف کی “توسیع ” کی فرمائش لے کر در در پھر رہے ہیں۔ کبھی کسی سے میٹنگ کرتے ہیں کبھی کسی سے تعاون کرنے کی درخواست کرتے ہیں لیکن اب حکومتی حلقوں کی جانب سے اس غلطی کو دوبارہ دہرانے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا۔ 2018 کے مقابلے میں اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ لگتا ہے سب نے سبق سیکھ لیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی صفوں میں نظم کی ضرورت سمجھ آ گئی ہے۔ اداروں نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عوام اب پروپیگنڈا کے بجائے کارکردگی کو دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں توسیع کی فرمائش بھی رد کر دی گئی ہے۔ لیکن یہ پاکستان ہے اور یہ کہانی پاکستانی سیاست کی ہے۔ یہاں چونکہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ غلطی دہرانے پر ضد کر رہے ہوں، تو ان کے لئے یہی عرض ہے کہ گیا وقت لوٹ کر تو نہیں آ سکتا مگر ماضی سے سبق ضرور سیکھے جا سکتے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں یہ درست ہے کہ گیا وقت لوٹ کر نہیں آ سکتا لیکن ماضی سے سبق ضرور سیکھے جا سکتے ہیں۔ فرض کیجئے وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا جو 2018 کے متنازعہ الیکشن میں ہوا۔ 2014 کا دھرنا اور اسکے مذموم مقاصد ملکی سیاسی تاریخ کا حصہ نہ ہوتے، سیاسی قائدین کو عدالتوں کے متنازعہ فیصلوں کے ذریعے سیاست سے باہر نہ کیا جاتا۔ میڈیا یرغمال نہ ہوتا ۔ عمران خان کا ہوا بنا کر پیش نہ کیا جاتا تو کیا ہوتا؟ توقع کی جارہی تھی کہ عمران خان 2018 کے انتخابات میں اچھی خاصی نشستیں لیں گے مگر پھر بھی ن لیگ کا پلڑا بھاری رہے گا۔ نواز شریف چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنتے اور ایک تگڑی اپوزیشن کا سامنا کرتے۔ عمران خان بھر پور اپوزیشن کرتے اور حکومت کی نااہلی پر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر عوام کی فلاح کی خاطر احتجاج کرتے۔ اس دوران توسیع جیسے فیصلے کا سپیڈ بریکر نہ آتا اور اگلے انتخابات تک بات امن و سکون سے پہنچتی۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ فرض کریں 2023 کے انتخابات میں عوام کارکردگی کی بنا پر فیصلہ کرتے۔ اگر ن لیگ کی کارکردگی اچھی ہوتی تو لوگ اس کو ووٹ دیتے یا پھررَد کر دیتے۔ عوامی نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے۔ پارلیمان کی توقیر میں اضافہ ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کی خاطر انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور اس کے لیے اے ٹی ایس سسٹم کا پٹھا بٹھا دیا گیا۔ انتخابی حلقوں میں پولنگ کی رفتار تک مینج کی گئی۔ باقی ساری سیاسی جماعتیں مینج کی گئیں۔ پریشر گروپس کے طور پر کچھ سیاسی گروہ بنوائے گئے جنہوں نے عمران خان کی حمایت میں ہی عافیت جانی۔ ایک سلیکٹڈ حکومت برسر اقتدار آئی جس نے سارے ملک کے نظام کا بھرکس نکال دیا۔ سیاست سے لے کر سماجیات تک کا جنازہ نکال دیا۔

عمار مسعود سوال کرتے ہیں کہ یہ واردات ڈالنے اور ڈلوانے والوں کو کیا فائدہ ہوا؟ ملک کسی معراج پر پہنچا یا تنزلی کا شکار ہوا اس کا جواب آج پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے۔ عمران کبھی برسر اقتدار نہیں آ سکتے تھے اگر انہیں کچھ طاقتور اداروں اور شخصیات کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ عمران کی ہر ممکن مدد کی گئی۔ ہر کام عمران کی مرضی کا ہوا۔ معیشت چلانے کی خاطر خود بیرونِ ملک سے فنڈز مینج کئے گئے۔ بیرونی ممالک میں عمران خان کے تعلقات بہتر کروانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ لوگوں کی ذہن سازی ہر ممکن حد تک میڈیا کی مدد سے کی گئی اور اسکے باوجود اپنی فیملیز کو ، جوانوں کو بھی مسلسل عمران خان سے وفاداری کا درس دیا گیا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونےسے کچھ عرصہ پہلے تک درباروں میں پروجیکٹ عمران کی تحسین و آفرین کی جارہی تھی۔ یہ سبق اتنی دفعہ دہرایا گیا کہ اب بہت سے لوگ اسی کو سچ سمجھنے لگے ہیں۔ عمران خان کی نام نہاد مسیحائی پر یقین رکھنے لگے ہیں۔ اس سعی لاحاصل کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج عمران اپنے محسنوں پر ہی دشنام کی بارش کر رہے ہیں۔ ہر شخص کو گالی دیتے ہیں ہر ادارے پر الزام دھرتے ہیں۔ عمران خان کو عمران خان بنانے والے سوچتے تو ہوں گے کہ ہم نے خود اپنے ساتھ کیا ظلم کیا۔ خود کو کس بحران کا شکار کر دیا۔ اب اگرچہ ادارے نیوٹرل ہو گئے ہیں مگر ان کو دہری دقت درپیش ہے ۔ میڈیا میں موجود عشقِ عمران میں مبتلا لوگ اس پر اپنی بساط کے مطابق احتجاج کر رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ ان جوانوں اور فیملیز کا ہے جو پانچ سال کی مسلسل محنت کی وجہ سے اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ عمران خان ہی مسیحا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے وہی اس مملکت کے کاروبارکو سنبھالنے کا اہل ہے ۔ باقی سارے چور ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں۔ گھروں سے اٹھنے والی آواز کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ انسانی ذہنوں کو ایک حکم سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب عمران جیب میں توسیع کی فرمائش لے کر در در پھر رہے ہیں۔ کبھی کسی سے میٹنگ کرتے ہیں کبھی کسی سے تعاون کرنے کی درخواست کرتے ہیں لیکن اب حکومتی کی جانب سے اس غلطی کو دہرانے کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اب حالات بہت بدل گئے ہیں اور سب نے سبق سیکھ لیا ہے۔ ان حالات میں توسیع کی فرمائش بھی رد کر دی گئی ہے۔ لیکن یہ پاکستان ہے اور یہ کہانی پاکستان کی سیاست کی ہے یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہےکچھ لوگ یہ غلطی دہرانے پر ضد کر رہے ہوں تو ان کے لئے یہی عرض ہے کہ گیا وقت لوٹ کر تو نہیں آ سکتا مگر ماضی سے سبق ضرور سیکھے جا سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button