آزادی مارچ حکومت گرائے گا یا صرف وزیر اعظم گھر جائے گا؟

2014 میں عمران خان اور طاہر القادری کے لانگ مارچ اور دھرنے کے موازنے میں آج مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ اور ممکنہ دھرنے کی کامیابی کے امکانات اس لئے زیادہ ہیں کہ تب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے عمران اور قادری گٹھ جوڑ کے خلاف برسرِ اقتدار مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا تھا لہذاٰ حکومت بچ گئی لیکن آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ پانچ ووٹوں کی معمولی برتری پر قائم عمران خان کی کمزور حکومت کے لیے ایک تگڑے اپوزیشن الائنس کا مقابلہ کرنا کافی مشکل نظر آتا ہے۔
دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے معاملے پر تقسیم نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن پر اعتماد طریقے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت گراؤ مہم کا حصہ بننے کے لیے 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے اتحادی تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے لیے کافی پرامید ہیں۔ دوسری جانب حکومت بھی کسی حد تک بیک فٹ پر آچکی ہے کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر مولانا کو فوری طور پر پسپا نہ کیا گیا تو اسلام آباد آکر وہ دیدی طور پر اینٹ سے اینٹ بجا سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ مولانا کو ایزی لے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جس طرح 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری کا لانگ مارچ اور دھرنا ناکامی پر منتج ہوا شاید مولانا کا مستقبل بھی ایسا ہی ہے۔ اس خیال کے برعکس کئی سنجیدہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2014 کے سیاسی حالات اور موجودہ صورتحال کا موازنہ درست نہیں۔ 2014 میں جب تحریک انصاف نے 2013کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور پاکستان عوامی تحریک نے ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلانے کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا تو اس وقت سیاسی صورتحال یکسر مختلف تھی۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں صرف 34 نشستیں تھیں جبکہ پاکستان عوامی تحریک کی سرے سے نمائندگی ہی نہ تھی۔ جب عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد کے ڈی چوک میں پہنچ کر دھرنا دے کر بیٹھ گئے تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو جی ایچ کیو میں ملاقات کے لیے بلوایا اور انہیں تسلی دی کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس وقت کی برسراقتدار مسلم لیگ ن کو سب سے بڑی حمایت پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں سے ملی۔ تحریک انصاف کے علاوہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے سسٹم کو بچانے کے لیے ن لیگ کا ساتھ دیا تھا۔ یہاں پیپلزپارٹی نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے میثاقِ جمہوریت پر عمل کیا اور ن لیگ کی حکومت کو مصنوعی طریقے سے گرانے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا تھا۔ واضح رہے کہ بینظیر بھٹو شہید اور اور میاں نوازشریف کے مابین طے پانے والے میثاقِ جمہوریت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر کبھی بھی ایک دوسرے کی حکومت گرانے کے لیے مقتدر قوتوں کی آلہ کار نہیں بنے گی۔ اس وقت برسراقتدار ن لیگ کو دباؤ میں لانے کے لئے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے تمام نشستوں سے مستعفی ہونے کا کارڈ بھی کھیلا لیکن چونکہ ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل تھی اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی ان کی ہمنوا بن چکی تھی، اس لیے یہ کارڈ بھی فیل ہوگیا۔ نتیجتاً علامہ طاہرالقادری چند ہفتوں بعد واپس لاہور لوٹ گئے اور تحریک انصاف بھی بالآخر سانحہ آرمی پبلک اسکول کے نتیجے میں 126 دن کے بعد دھرنا کرنے میں دھرنا ختم کرنے پر مجبور ہو گئی اور استعفے واپس لے لیے۔
2014 کے لانگ مارچ اور دھرنے کا موازنہ موجودہ حالات سے کیا جائے تو یہ واضح فرق نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار ہے لیکن اس کے مقابلے میں تمام اپوزیشن متحد ہے۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن تمام مذہبی جماعتیں اور دیگر قوم پرست جماعتیں بھی آزادی مارچ اور دھرنے کے حق میں ہیں۔ اپوزیشن الائنس عمران خان کے استعفے، حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات کے اعلان پر بضد ہے۔ یہاں ایک اور واضح فرق یہ ہے کہ 2014 میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے دھرنا دیا تو اس وقت اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے بعد دھرنے والوں کے ارادے کمزور پڑ گئے لیکن موجودہ صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ اپنا یہ پتہ وقت سے پہلے کھیل کر ضائع کرچکی ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمن کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں مولانا اپنے فیصلے پر قائم رہے اور لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرچکے ہیں۔ اسی طرح یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ اپوزیشن الائنس اور حکومتی اتحاد میں نشستوں کا بہت معمولی فرق ہے۔ اس وقت اپوزیشن کے اراکین کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے اگر مولانا فضل الرحمن کی پلاننگ کے عین مطابق تمام اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تو تحریک انصاف کی حکومت اس سیاسی بحران کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ دھرنے کے نتیجے میں اگر حکومت نہیں تو کم ازکم وزیراعظم کی تبدیلی کے امکانات ضرور ہیں کیونکہ اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ایک دھڑا حکومت بچانے کے لیے متحرک ہے تو دوسرا دھڑا مولانا فضل الرحمان کی حمایت کر رہا ہے کیونکہ ان کے خیال میں وزیراعظم عمران خان ریاستی اداروں کی تمام تر سپورٹ کے باوجود ڈیلیور کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اس لیے مولانا فضل الرحمن پر امید ہیں کہ ان کا دھرنا اور آزادی مارچ کامیاب ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button