ارشد شریف کے قتل میں سلمان اقبال کا کردار مزید مشکوک

کینیا میں معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کی کڑیاں ان کے میزبان بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد سے جڑ جانے کے بعد اب تفتیش کاروں کا فوکس اے آر وائے نیوز کے مالک سلمان اقبال کی طرف ہو گیا ہے جنہوں نے سینئر صحافی کو نیروبی میں مقیم ان دونوں بھائیوں کے پاس مہمان بنا کر بھیجا تھا۔ قتل کے فوری بعد وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے سلمان اقبال کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں فوری شامل تفتیش کیا جانا چاہئے کیونکہ ارشد شریف کو پاکستان سے باہر بھجوانے اور پھر کینیا میں اپنے دوستوں کے پاس ٹھہرانے میں مرکزی کردار انہی کا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سلمان اقبال نے پاکستان واپس آنے اور تفتیش میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اب حکومت پاکستان کی جانب سے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے جانے والی دو رکنی کمیٹی ان سے سوال جواب کرنے دوبئی پہنچنے والی ہے۔

سلمان اقبال نے جن سوالوں کے جواب دینے ہیں ان میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ قتل سے پہلے آخری رات جب ارشد شریف دونوں بھائیوں کے ایمو ڈمپ انٹرٹینمنٹ کمپلیکس میں بطور مہمان ٹھہرے تو وہاں کیا ہوا تھا۔ کیا وہاں ارشد شریف کو یرغمال بنا کر ان پر تشدد کیا گیا اور اگر ایسا ہوا تو اسکی وجہ کیا تھی اور تشدد کرنے والے لوگ کون تھے اور وہ کیا معلوم کرنا چاہتے تھے؟ سوال یہ بھی ہے کہ قتل کی رات خرم نے ارشد شریف کیساتھ نیروبی واپسی کے لیے چھوٹے اور آسان راستے کی بجائے مشکل اور لمبے راستے کا انتخاب کیوں کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب کار پر فائرنگ کی گئی تو ڈرائیونگ کرنے والے خرم احمد کیسے صاف بچ نکلے اور انہیں کوئی گولی کیوں نہیں لگی؟ تفتیش کار یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ جب ارشد شریف کو گولیاں لگ گئیں تھیں تو خرم احمد نے ہسپتال جانے کی بجائے ایک فارم ہاؤس کا رخ کیوں کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ قتل کے وقت گاڑی میں موجود ارشد شریف کا لیپ ٹاپ اور موبائل کہاں غائب ہو گئے؟ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر ناکے پر گولیاں چلنے کے بعد خرم نے گاڑی بھگا دی تھی تو کینیا کی پولیس نے اس کا پیچھا کیوں نہیں کیا؟

پاکستانی تفتیش کاروں یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد خرم احمد نے پہلی کال سلمان اقبال اور کراچی کنگز کے سی ای او طارق وصی کو کیوں کی تھی؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب خرم نے قتل کے فوری بعد سلمان اقبال کو فون کر کے ارشد شریف کی موت سے آگاہ کر دیا تھا تو انہوں نے اگلے چھ گھنٹے یہ خبر مقتول صحافی کے گھر والوں کو کیوں نہ دی؟ سلمان اقبال نے یہ خبر اپنے ٹی وی چینل پر بھی نہ چلائی حالانکہ جیو نیوز اسے بریک کر چکا تھا۔ تفتیشی ٹیم یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ جب سلمان اقبال کو معلوم ہوچکا تھا کہ ارشد شریف کو فائرنگ سے قتل کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنے ٹی وی پر یہ خبر کیوں چلائی کہ وہ ایک حادثے میں مارے گے ہیں۔ کینیا میں ارشد شریف کے میزبان بھائیوں سے تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے مطابق خرم اور وقار نے انہیں بتایا ہے کہ سلمان اقبال نے ارشد شریف کی موت کو کار کا حادثہ بتانے پر زور دیا تھا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خرم اور وقار اپنے مہمان ارشد شریف کی نقل و حرکت کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر سلمان اقبال کو فراہم کررہے تھے، اس کی وجہ جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ شوٹنگ رینج کا مالک ہونے کے باوجود خرم احمد رات کے وقت بغیر اسلحہ کے ایک انسان علاقے۔سے سفر کیوں کر رہا تھا؟

پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق ان سوالات کا جواب جاننا اس لیے ضروری ہے کہ خرم احمد اور اور انکے بھائی وقار احمد واضح طور پر ارشد شریف کے قتل کے اصل حقائق چھپا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیا کے دورے کے دوران وہاں کی پولیس نے پاکستانی تفتیشی ٹیم کے ساتھ کھل کر تعاون نہیں کیا اور نہ ہی ابھی تک وقار اور خرم کو شامل تفتیش کیا ہے حالانکہ ان کا ارشد شریف کے قتل کیس میں مشکوک ترین کردار ہے۔ رانا ثنا اللہ نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ شاید کینیا کی پولیس نے ارشد شریف کے قاتلوں سے کیسے پکڑ کر یہ واردات ڈالی۔

Related Articles

Back to top button