اسحاق ڈار کی واپسی سے نواز شریف کا راستہ بھی ہموار

وفاقی وزارت خزانہ کا حلف اٹھانے کے لئے پانچ برس بعد پاکستان پہنچنے والے لیگی رہنما اسحاق ڈار کی واپسی سے نواز شریف کی بھی وطن واپسی کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتاح اسمٰعیل کی جگہ وزیر خزانہ کا حلف لینے کے بعد شہباز شریف کابینہ میں اسحاق ڈار کی حیثیت نائب وزیراعظم کی ہوگی، یاد رہے کہ اسحاق ڈار پچھلے پانچ برس سے لندن میں مقیم تھے جبکہ نواز شریف کو لندن پہنچے تین برس ہو چکے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اسحاق ڈار کی واپسی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسحاق ڈار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ عمران دور حکومت میں ان کے خلاف جھوٹے کیسز درج کیے گئے اسلیے وہ حفاظتی ضمانت لے واپس کر آئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس کے بغیر ممکن نہیں تھی اور اس کام میں کئی مہینے لگ گئے، اسحاق ڈار کی واپسی کے بعد حکومتی ذرائع اس اُمید کا اظہار کر رہے ہیں کہ پارٹی قائد نواز شریف بھی جلد پاکستان پہنچ جائیں گے اور یوں نواز لیگ کی اے ٹیم کی واپسی کا عمل مکمل ہو جائے گا، ن لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت شہباز شریف کی زیر قیادت حکومتی معاملات ن لیگ کی بی ٹیم چلا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی اے ٹیم کے سربراہ نواز شریف نے بھی اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے بعد پاکستان لوٹنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں نئے آرمی چیف کی تقرری پر ون آن ون ملاقات میں جنرل قمر باجوہ کے متبادل نام کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان اگلے ماہ متوقع ہے۔ دونوں نے عمران خان اور جنرل باجوہ کے مابین خفیہ ملاقات کے بعد آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی تجویز پر بھی غور کیا۔ اس سے پہلے عمران خان نے رواں ہفتے کے اوائل میں موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لیے آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن پھر گوجرانوالہ کی طرح رحیم یار خان میں بھی انہوں نے اپنی کال پر یو ٹرن لے لیا۔
اب اطلاعات ہیں کہ انہوں نے مارچ کی کال پھر ملتوی کر دی ہے اور جلسوں سے خطاب جاری رکھیں گے۔ پی ٹی آئی والے اس اقدام کو محاذ آرائی سے بچنے کے لیے عمران کی ایک آخری کوشش قرار دے رہے ہیں تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران بنیادی طور پر ایک اور لانگ مارچ کے فلاپ ہونے کا رسک نہیں لینا چاہتے جیسا کہ 25 مئی کو ہوا تھا۔ ان کے مطابق عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان کا لانگ مارچ ناکام ہو گیا تو نہ صرف انکی حکومت مخالف تحریک ختم ہوجائے گی بلکہ وہ گرفتاری کے خطرے سے بھی دوچار ہوجائیں گے۔
دوسری جانب عمران اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھاتے چلے جارہے ہیں اور ایک تازہ واردات میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے پہلی مرتبہ سر عام نیوٹرلز کے خلاف نعرے بازی بھی کروا دی۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کا بنیادی مقصد اپنے خلاف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں زیر سماعت مقدمات میں نا اہلی سے بچنا ہے۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں؟

Related Articles

Back to top button