شہری کو کچلنے پر بھارتی ہائی کمیشن کےدو اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی گاڑی کی ٹکر سے ایک شہری شدید زخمی ہو گیا جس کے بعد کمیشن کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار صبح اسلام آباد میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے جس کے نتیجے میں ایک راہگیر زخمی ہو گیا۔
اسلام آباد میں تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے شہری کو زخمی کر کے فرار ہونے والے بھارتی ہائی کمیشن کے 2 اہلکاروں کو پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے زیر حراست اہلکاروں کو رہا کردیا گیا ہے، بھارتی سفارتی عملے کےاراکین کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کی وجہ سے رہا کیا گیا۔
پولیس کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام کی موجودگی میں بھارتی ہائی کمیشن کےاہلکاروں کو رہا کیا گیا۔ آج صبح بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گاڑی نے شہری کو کچل دیا تھا جس کے بعد پولیس نے دونوں اہلکاروں کوحراست میں لےکرمقدمہ درج کیاتھا۔تھانہ سیکرٹریٹ میں دونوں اہلکاروں کیخلاف غفلت، لاپرواہی سے ڈرائیونگ کی دفعات کےتحت مقدمہ درج کیاگیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بھارتی اہلکاروں سلوا دیس پال اور داوا موبراہمو سے جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔
خیال رہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکار صبح کے وقت تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے کہ اس دوران گاڑی بے قابو ہو گئی اور اس کی زد میں آ کر ایک شخص زخمی ہو گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی اہلکاروں نے حادثے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی تاہم موقع پر موجود شہریوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو پکڑ لیا۔جب دونوں اہلکارو ں کو گاڑی سے باہر نکالا گیا تو معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں انڈین ہائی کمیشن کے اہلکار ہیں۔جس پر مقامی شہریوں نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے وہاں پہنچ کر دونوں اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔بتایا گیا ہے کہ بھارتی اہلکاروں کی گاڑی کی تیزی رفتاری کے باعث حادثے کا واقعہ اسلام آباد کی ایمبیسی روڈ پر پیش آیا۔یہ کافی پوش علاقہ ہے، دونوں اہلکاربلیک رنگ کی بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سوار تھے۔
پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گرفتاری پر بھارت میں پاکستان کے ناظم الامور سید حیدر شاہ کو بھارت کی طرف سے احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔پاکستانی ناظم الامور کو بھارتی دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا، احتجاجی مراسلے میں پاکستان سے بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button