اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی عمران کے گلے کیسے پڑ گئی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ اپنے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان اب حکومت کی منت ترلوں پر اتر آئے ہیں کہ خدا کے واسطے نئے الیکشن کروا دو، لیکن مستقبل قریب میں فوری الیکشن کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اسی لیے خان صاحب اب صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی دے کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت نے یہ دباؤ بھی مسترد کردیا ہے لہذا موصوف اب اس دھمکی سے بھی پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔

 

اپنے یوٹیوب چینل پر سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی نے کہا کہ عمران خان کی گزشتہ چند ماہ کی جتنی “پریشر” ڈالنے والی سیاست تھی اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور حکومت نے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا ہے لہٰذا عمران خان کے پاس دستیاب آپشنز ختم ہوتی جارہی ہیں۔ اسی لیے اب خان صاحب کی “ٹون” میں نمایاں تبدیلی سنائی دے رہی ہے اور وہ حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جنرل باجوہ کے جانے کے بعد اب عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرنے کی بجائے حکومت کو مخاطب کیا ہے اور مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ کل تک یہی موصوف بار بار اسٹیبلشمٹ سے مطالبے کررہے تھے کہ وہ حکومت سے نئے انتخابات کی تاریخ لے کر دے۔

 

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ عمران آخری وقت تک جنرل باجوہ کی زیر قیادت فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مداخلت کی امید لگائے ہوئے تھے جو نئے آرمی چیف کے آنے سے دم توڑ گئی ہے لہذا اب انہوں نے اپنا فوکس بدلتے ہوئے حکومت کو مخاطب کرنا شروع کر دیا ہے تا کہ انتخابات کے حوالے سے معاملات طے پا سکیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے عمران خان کو صاف جواب دے دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ ہمت کریں اور دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں تاکہ وہاں نئے الیکشن کروائے جا سکیں۔ عاصمہ نے کہا کہ اتحادی حکومت بھی تیار ہے کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں ٹوٹیں گی تو بغیر لیت و لعل کئے دونوں صوبوں میں الیکشن کروا دیں گے۔ ایسے میں خان صاحب کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ جو “تُرپ کا پتّا” انہوں نے گیم چینجر کے طور پر پھینکا تھا وہ الٹا پڑ گیا ہے۔

 

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ عمران خان دراصل اسمبلیاں توڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے دھمکی دے ڈالی جو ضائع گئی۔ انکے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ جب اسمبلیاں ٹوٹیں گی تو  صوبے میں عبوری سیٹ اب بنے گا اور وہی نئے انتخابات کروائے گا۔ ایسے میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہیں پی ٹی آئی کی حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور معاملات الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ اسلئے عمران خان کو سمجھ آگئی ہے کہ ان دو صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتوں کے خاتمے کی صورت میں معاملات ان کے  ہاتھ سے مکمل طور پر نکل سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ عمران خان نے جتنا سخت اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنا رکھا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگلے الیکشن سے پہلے بہت سارے الیکٹیبلز ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔مختصر یہ کہ جب تک عمران خان کے پاس دو صوبائی حکومتیں موجود ہیں انہیں سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے۔ ان کے پاس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی ہے۔ دیکھا جائے تو وفاق اور دو صوبوں کے علاوہ پورے ملک پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ لہذا اسمبلیاں تحلیل کر کے وہ مکمل خسارے میں ہوں گے۔

 

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اگر عمران اپنی حکومتیں توڑ دیں اور وہاں دوبارہ انتخابات ہو جائیں تو بھی انہیں کچھ خاص حاصل ہونے والا نہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ ان کی جھولی میں واپس یہی دو حکومتیں گریں گی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ تاہم یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگلے الیکشن میں مختلف نتائج سامنے آئیں اور پی ڈی ایم  پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے۔ اسی لئے اب عمران نئے الیکشن کی خاطر حکومت کے منت ترلوں پر اترتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button