اسمبلی سے استعفے واپس لینے کی تجویز کہاں سے آئی؟


معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کے لیے ٹربل شوٹنگ کرنے والےپشاور میں تعینات سازشی جرنیل نے کپتان کو مشورہ دیا ہے کہ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد انہیں اپنی اسٹریٹیجی تبدیل کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں واپس چلے جانا چاہئے اور حکومت کو قانون سازی اور اہم ترین تقرریوں کے لئے جو کھلی چھٹی مل گئی ہے اسے روکنا چاہیے۔ عمران کو مزید مشورہ دیا گیا ہے کہ اگلے الیکشن تک اپنے اراکین قومی اسمبلی کو ساتھ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں استعفے دینے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ کسی حکومتی اتحادی جماعت کے ٹوٹنے کا انتظار کیا جائے تا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکے۔ برس ہا برس سے پاکستانی سیاست میں گند ڈالنے والے سازشی کردار نے عمران کو مشورہ دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور جون میں پیش کیے جانے والے بجٹ کے بعد ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا اور حکومت غیر مقبول ہو جائے گی لہذا اسکا کوئی نہ کوئی اتحادی ساتھ ضرور چھوڑے گا، ایسے میں صدر عارف علوی شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس دوران تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنے استعفے واپس لے کر حکومت گرانے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ کے لیے اب نہ تو حالات سازگار رہے ہیں اور نہ ہی موسم، لہذا انہیں پیچھے ہٹتے ہوئے اپنی لڑائی سڑکوں سے پارلیمنٹ میں منتقل کر دینی چاہیے۔

باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی مشورے کے پیش نظر پشاور میں ہونے والی تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفے واپس لینے کی تجویز پر بحث ہوئی۔ کچھ عمرانڈوز کا موقف تھا کہ استعفے واپس لینے کا فیصلہ تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہوگا لیکن زیادہ تر ممبران اسمبلی نے یاد دلایا کہ ان کی جماعت ماضی میں بھی قومی اسمبلی سے استعفے دے کر واپس لے چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کورکمیٹی اجلاس میں اکثریتی اراکین اسمبکی نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوئی تو سوا سال تک باہر نہیں بیٹھا جاسکتا کیونکہ اس طرح ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ عمران نے اسمبلی میں واپسی کا فیصلہ سینیئر قیادت سے مشاورت سے مشروط کر دیا اور کہا کہ اس حوالے سے جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ اسد عمر، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور پرویز خٹک سمیت تمام اہم پارٹی لیڈرز قومی اسمبلی میں واپسی کے خواہشمند ہیں۔ دلچسپ بات یہ یے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس اسمبلی سے استعفے دینے کے فیصلے پر بھی اپنے کپتان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے۔ اس حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کور کمیٹی میں اسمبلی میں جانے یا نہ جانے پر کافی بحث ہوئی ہے، فی الحال اسمبلی میں واپس جانے کا فیصلہ نہیں ہوا لیکن اس ایشو پر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی اراکین کے استعفے انفرادی طور پر منظور کرنے سے متعلق حکومت سوچ رہی ہے، لیکن اگر ایسا ہوا تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے کیونکہ ہم سب نے استعفے دیے ہیں اور سب کے استعفے ہی قبول ہونی چاہئیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے تو پھر کوئی بھی رکن اسمبلی استعفی نہیں دے گا۔

یاد رہے کہ کہ استعفے واپس لینے کا معاملہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں تب زیر بحث آیا جب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے فیصلہ کیا کہ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کے استعفوں کا فیصلہ کیا جائے۔ راجا پرویز اشرف نے گزشتہ ماہ حکومت کے خاتمے کے بعد اجتماعی طور پر استعفیٰ دینے والے عمرانڈوز اراکین قومی اسمبلی کو طلب کر لیا ہے تا کہ وہ اپنے استعفوں کے رضاکارانہ ہونے کی تصدیق کر سکیں۔ اسمبلی ترجمان نے کہا ہے کہ اسپیکر نے 6 جون کو پارٹی کے اراکین اسمبلی کو طلب کیا ہے، مستعفی ہونے والوں کی کل تعداد 131 ہے۔ عمران کے خلاف پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد ان اراکین قومی اسمبلی نے 11 اپریل کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق خطوط اراکین قومی اسمبلی کو ارسال کر دیا گیا ہے جس میں انہیں استعفوں کی منظوری کے لیے ان کی حاضری کی شرط سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اراکین اسمبلی کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ میں آپ کے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے حوالے سے مورخہ 11-4-2022 کے خط کا حوالہ دوں اور یہ بتاؤں کہ رولز 43 کے ذیلی قاعدہ (2) کے پیراگراف (ب) کے مطابق قومی اسمبلی میں کام کا طریقہ کار اور طرز عمل، 2007 کے تحت معزز اسپیکر آپ کو اپنے چیمبر میں رضاکارانہ کردار اور مذکورہ استعفے کی منظوری سے قبل اس کی اصلیت جاننے کے سلسلے میں انکوائری کے لیے مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا کہ استعفوں کی تصدیق کا عمل 10 جون تک جاری رہے گا، اور 30 ارکان روزانہ کی بنیاد پر اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ ہر قانون ساز کو استعفیٰ کی تصدیق کے لیے پانچ منٹ کا وقت دیا جائے گا۔ مجموعی طور پر 272 رکنی ایوان میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 155 ہے، ان میں سے 20 ایسے منحرف ہیں جنہیں پارٹی نے نوٹس جاری کیا ہوا ہے۔ 9 اپریل کی رات عمران کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف ان کے حلف نامے 14 اپریل کو قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیجے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران قومی اسمبلی سے استعفی واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں؟

Related Articles

Back to top button