اعظم سواتی نازیبا ویڈیو بارے بار بار بیان کیوں بدل رہے ہیں؟


تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اپنی اور اہلیہ کی ایک نازیبا ویڈیو خفیہ نمبر سے بھیجے جانے کا معاملہ پراسرار ہوتا جا رہا ہے اور یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟ سپریم کورٹ کی پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر اعظم سواتی نے کوئٹہ میں سپریم کورٹ کے ججز کے ریسٹ ہاؤس میں قیام نہیں کیا بلکہ سپیشل برانچ کے بقول سواتی جوڈیشل اکیڈمی کےریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ جوڈیشل اکیڈمی نے سپیشل برانچ کے دعوے کی تردید کر دی ہے تو پھر سچ کیا ہے؟

اعظم سواتی نے دعوی ٰکیا ہے کہ یہ ویڈیو خفیہ کیمرے سے تب بنائی گئی جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کوئٹہ میں واقع سپریم کورٹ کے جوڈیشل لاجز میں ٹھہرے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اعظم سواتی کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اسکے جوڈیشل لاجز میں صرف موجودہ اور ریٹائرڈ ججز قیام کر سکتے ہیں اور ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے پتہ چلے کہ اعظم سواتی یہاں ٹھہرے تھے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے لاجز کے انتظامی امور رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس ہیں جنہوں نے وضاحتی بیان جاری کیا۔ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے سپریم کورٹ جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام نہیں کیا بلکہ بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں قیام کیا جو سپریم کورٹ کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

تاہم اعظم سواتی کا دعویٰ تب اور بھی مشکوک ہو گیا جب بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل راشد محمود نے بھی ان کے جوڈیشل اکیڈمی میں قیام کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس تو کسی قسم کے رہائشی لاجز موجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی 2019 سے وزیراعلیٰ ہاؤس سے ملحقہ انسکب روڈ پر ایک پرانی عمارت میں کام کررہی ہے جہاں کوئی ریسٹ ہاؤس نہیں اور نہ ہی قیام کا کوئی بندوبست ہے۔ ایسے میں اعظم سواتی پتہ نہیں کیوں وہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر رہنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس وضاحت کے بعد اعظم سواتی نے ایک مرتبہ پھر اپنا بیان بدلتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ دراصل کوئٹہ کے فیڈرل لاجز میں ٹھہرے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیڈرل لاجز کی جانب سے بھی کوئی تردید آتی ہے یا نہیں؟

اس دوران 7 نومبر کو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے سواتی سے کہا کہ آپ کے ساتھ جو ہوا وہ بہت ہی دردناک ہے۔چیف جسٹس نے سواتی سے کہا کہ آپ کا کیس ہیومن رائٹس سیل میں ہے، عدالت اس معاملے میں محتاط ہے، کیس کو قانون کے مطابق دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے سواتی سے پوچھا کہ کیا آپ کبھی سپریم کورٹ کے ریسٹ ہاؤس میں نہیں ٹھہرے، اس پر سواتی نے جواب دیا کہ جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، میں دراصل کوئٹہ فیڈرل لاجز میں ٹھہرا تھا۔ سواتی نے سوال کیا کہ کیا میں اپنی اور اہلیہ کی نازیبا ویڈیو ججزکے علاوہ کسی کو دکھا سکتا ہوں؟ اس پر چیف جسٹس نے بات بدلتے ہوئے کہا کہ ہم پیمرا اور پی ٹی اے کو فوری ویڈیو ہٹانے کا حکم دے دیتے ہیں، اس پر سواتی نے کہا کہ ہو سکتا ہے جو ویڈیو ہٹائی جائے وہ اس سے مختلف ہو جو کہ مجھے بھیجی گئی۔ اس پر چیف جسٹس نے اعظم سواتی سے کہا کہ آپ چیک کر لیں کہ کون سی ویڈیو وائرل ہے تاکہ اسی کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

Related Articles

Back to top button