افغان طالبان پاکستان کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں؟


ماضی میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے تمام تر احسانات بھلاتے ہوئے برسر اقتدار آنے کے بعد افغان کی طالبان حکومت اب پاکستان کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود افغانستان سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی دراندازی میں کمی نہیں آ رہی، افغانستان سے مسلسل حملوں کے بعد پاک فوج کے جوابی فضائی حملے میں درجنوں دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد افغان طالبان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی طرح پاکستان کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔
افغان سروس کے مطابق طالبان کے نائب آرمی چیف حاجی مالی خان نے خوست کے علاقے میں پاکستانی فضائی حملے کے مقام کا جائزہ لینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ ہم بزدل نہیں، امریکہ کے پاس بھی ایسی ہی فضائی قوت تھی لیکن طالبان نے انہیں شکست سے دوچار کیا، طالبان جنگجو اپنی قیادت کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کو آئندہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا، ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اگر ہم امریکہ سے جنگ لڑ سکتے ہیں تو پاکستان کے خلاف بھی کھڑے ہو سکتے ہیں، پاکستان افغان سرزمین پر حملے کر کے طالبان کے صبر کا امتحان نہ لے۔
یاد رہے کہ ہفتے کو طالبان حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے سرحدی صوبوں کنڑ اور خوست میں بمباری کی، طالبان حکومت نے افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر کو بھی وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا، فضائی حملوں سے متعلق پاکستان کی فوج کا تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغانستان سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا مگر اس میں بھی فضائی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا، حالیہ چند ماہ کے دوران پاکستان نے متعدد بار افغانستان سے بارڈر محفوظ بنانے کی درخواست کی کیونکہ دہشت گرد افغان سر زمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی افواج کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، مقامی حکام کے مطابق پاکستانی فوج کے افغان صوبوں خوست اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی۔
افغان حکام کے مطابق خوست میں ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فوج کے حملوں میں 41 عام شہری مارے گئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ 22 افراد زخمی بھی ہوئے، ان کے بقول 24 افراد تو صرف ایک ہی خاندان کے مارے گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ سال طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری ہے، اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں موجود شدّت پسند گروہ باقاعدگی سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، طالبان پاکستان پر حملوں میں ملوث شدّت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق افغانستان کیساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا کام 90 فی صد مکمل ہو چکا، دوسری جانب افغان طالبان کو افغانستان کی سرحد پر پاکستان کی جانب سے لگائی جانے والی باڑ پر بھی اعتراضات ہیں اور اس تنازع کو سرحدی کشیدگی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

Related Articles

Back to top button