الیکشن میں ہار کے بعد اتحادی جماعتیں کیا کرنے والی ہیں؟


پنجاب کے ضمنی الیکشن میں نواز لیگ کی شکست کے اثرات اب وفاقی حکومت پر بھی پڑتے نظر آتے ہیں کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی جماعتوں نے نئی صورت حال میں نئی حکمت عملی بنانے کے لیے مشاورت شروع کر دی یے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حمزہ حکومت کے ممکنہ خاتمے اور تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد وفاقی حکومت کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے، یاد رہے کہ شہباز حکومت صرف دو ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی ہے اور اگر ایک بھی حکومتی اتحادی جماعت علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرے تو حکومت ختم ہو جائے گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت ضمنی الیکشن میں نواز شریف کی شکست کے بعد اتحادیوں کی جانب سے خاموشی اور عمران کی جانب سے کسی بڑے سرپرائز کے اعلان کے بعد شہباز شریف کا سیاسی مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سے اب تک حکومت کی اتحادی جماعتیں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے اپنے اپنے پارٹی اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ اسی دوران حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اندر سے فوری نئے الیکشن کے لیے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ ’ضمنی الیکشن کے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ اتحادی حکومت عوام کی تائید کھو چکی ہے۔‘ اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں ابھی تک ذہنی طور پر نوے کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہیں، آبادی میں نوجوانوں کا تناسب، کرپشن کا تدارک، اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ دور حاضر سیاست کے لازمی جزو ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہو اور عوام ہمارے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالیں۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے بعد حکومتی اتحادی جماعتیں خطرے میں ہیں، ان کو اُمید نہیں تھی کہ تحریک انصاف اتنی بڑی کامیابی سمیٹ کر ساری سیاسی صورتحال ہی تبدیل کر دے گی۔ انکا کہنا ہے کہ اب تو وفاقی حکومت بھی خطرے میں ہے۔ اگر آج ایک بھی اتحادی جماعت حکومت سے علیہدہ ہو جائے اور صدر عارف علوی وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیں تو وہ فارغ ہو جائیں گے، تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عمران خان قومی اسمبلی سے استعفے واپس لے کر ایوان میں واپس آ جائیں تو بھی وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔
ایسے میں مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کے پاس سوائے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کوئی راستہ نہیں بچا، تاہم ابھی اتحادی مسلم لیگ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اس کی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے۔افتخار احمد کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو بے یقینی کے حوالے سے مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی کیونکہ اگر انھوں نے نومبر میں اہنی مرضی کے آرمی چیف کی تقرری کر دی تو بھی ادارے کی جانب سے ردعمل سامنے آئے گا، یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نومبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ نگار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ حکومت کے اتحادی صرف مسلم لیگ ن ہی کی طرف نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ موجودہ صورت حال میں اگر فوری طور پر انتخابات کی طرف جائیں گے تو سندھ بھی پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے جو پیپلز پارٹی افورڈ نہیں کر سکتی اگر اتحادی جماعتیں فوری طور پر انتخابات میں نہیں جاتیں تو عمران خان اگلے ایک سال ان کے خلاف انتخابی مہم چلائیں گے اور یہ دفاعی پوزیشن پر رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ جس پارٹی کا وزیراعظم ہے، اس کی باقی کسی صوبے میں حکومت نہیں ہے، وزیراعظم راولپنڈی، مری اور اٹک بھی نہیں جا سکتے لہٰذا ان کے پاس نئے الیکشن میں جانے کے علاوہ کوئی راستہ بچا نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ صدر عارف علوی، شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں لیکن وہ ایسی صورت میں کہیں گے جب حکومتی اتحادیوں کی جانب سے اشارے ملنا شروع ہو جائیں گے کہ وہ اب مزید اس اتحاد میں شامل نہیں رہنا چاہتے۔
تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کی اسمبلیوں میں واپسی کا امکان اپنی جگہ موجود ضرور ہے لیکن موجودہ حالات میں ممکن نہیں کہ تحریک انصاف انتخابات میں جانے کے علاوہ کوئی فیصلہ کرے، عمران خان نے ضمنی الیکشن میں اپنی جماعت کی کامیابی کے بعد خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک کو موجودہ مشکل صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ نئے انتخابات ہیں لیکن انہیں الیکشن کمشن پر اعتماد نہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپنی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ خود کرتے ہیں یا اتحادیوں کی جانب سے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button