الیکشن 2018 میں ایجنسیزنے میرے خلاف دھاندلی کی


سابق وزیراعظم عمران خان نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہ انہیں الیکشن 2018 میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ دھاندلی سے اقتدار میں لائی، الٹا یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ دھاندلی تو انکے خلاف کی گئی تھی تاکہ وہ اکثریت حاصل نہ کر پائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں انٹیلی جنس ایجنسیز نے آزاد امیدواروں کی حمایت کی جنہوں نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ہرایا۔ چنانچہ بعد میں مجھے انہی آزاد امیدواروں کی مدد سے اپنی حکومت بنانا پڑی جو کہ انٹیلی جنس اداروں کے قابو میں تھے۔ اور یہی لوگ بالآخر مجھے دھوکہ دے کر دوسری جانب چلے گئے۔ یہ دعویٰ سابق وزیراعظم نے سینئر صحافی حامد میر کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

بقول حامد میر، عمران خان نے تسلیم کیا کہ بطور وزیر اعظم انکی حکومت انتہائی کمزور تھی اور اسے پارلیمان سے بجٹ پاس کروانے کے لئے بھی انٹیلی جنس اداروں کی مدد لینا پڑتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ وہ اپنے سابق انٹیلی جنس چیف فیض حمید پر حد سے زیادہ انحصار کر رہے تھے۔ جب جنرل فیض نے اپنی مدت مکمل کر لی اور انکا تبادلہ پشاور کیا گیا تو عمران خان نے اس پر عمل درآمد میں تاخیر کی کوشش کی۔ یہیں سے ان کے فوجی قیادت سے اختلافات کا آغاز ہوا۔ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو نااہلی اور گرفتاری کے خدشات کا سامنا ہے۔ 21 اگست کو حکومت نے ان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کا مقدمہ بنایا اور یکم ستمبر کو انہیں ضمانت مل گئی۔ لیکن اب 22 ستمبر کو ان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کے کیس میں فردِ جرم بھی عائد ہونے جا رہی ہے۔انہوں نے حال ہی میں مجھے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی دعوت دی۔ میں عمران کو 30 سال سے جانتا ہوں اور متجسس تھا کہ وہ اپنے سیاسی کریئر کے اگلے مرحلے کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ میں ملاقات کے لیے پہنچا تو خان صاحب نے معمول کے کپڑے پہنے ہوئے اور ذہنی اور جسمانی طور پر بالکل فٹ نظر آ رہے تھے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ 2018 کے انتخابات میں کیے گئے بہت سے وعدے اپنے دورِ حکومت میں پورے نہیں کر سکے تھے۔ انہوں نے اپنی ناکامیوں کی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ بنیادی طور پر اس کا ذمہ دار پارلیمان میں اپنے ارکان کو ٹھہرا رہے تھے جو ان کے بقول ان کے قابو میں نہیں تھے۔

فوج کے ساتھ اپنے اختلافات کی دیگر وجوہات بیان کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ “میں چین کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا تھا اور امریکہ کے ساتھ سخت لائن لی تھی، لیکن فوجی قیادت نے مجھے کہا کہ امریکہ کے ساتھ نرمی سے بات کریں۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز طور پر عمران خان نے میرے ساتھ پورے مکالمے میں امریکہ کو اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ دراصل وہ اب واشنگٹن سے اپنے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کے لئے انہیں غیر ملکی سازش کے الزامات سے پیچھے ہٹنا ہو گا۔ فوج سے تعلقات خراب ہونے کی ایک اور وجہ بتاتے ہوئے عمران نے کہا کہ میرا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں لہجہ سخت تھا۔ عمران کے مطابق فوج چاہتی تھی کہ وہ مودی کو ناجائز طور پر ہدفِ تنقید نہ بنائیں کیونکہ اس سے بیک چینل سفارتی کوششیں اثر انداز ہوں گی۔ حامد میر کہتے ہیں کہ جب میں نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سے عمران کے دعوے بارے پوچھا تو انہوں نے اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ فوج نے عمران خان کو مودی کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے کبھی نہیں روکا۔

سینئر صحافی بتاتے ہیں کہ ہماری بات چیت کے دوران عمران خان نے فروری میں اپنے ماسکو کے دورے کا بھی ذکر کیا جب یوکرین پر حملہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ فوجی قیادت کے مکمل اتفاق سے کیا گیا تھا اور انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ روس ان کے دورے کے دوران ہی یوکرین پر حملہ کر دے گا۔ عمران نے اپنی روسی صدر پوتن کے ساتھ تین گھنٹے کی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا جس میں ان دونوں نے ایک گیس پائپ لائن منصوبے پر بات چیت کی۔ عمران کا کہنا تھا کہ پوتن کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں، لیکن ان کی اہلیہ مسلمان ہیں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کے اس بیان نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ پوتن نے اپنی پہلی اہلیہ لیوڈمیلا کو کئی سال قبل طلاق دے دی تھی۔ شاید عمران علینہ کابیوا کو پوتن کی مسلمان اہلیہ قرار دے رہے تھے جو کہ ازبکستان کے ایک نصف مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ایسی افواہیں عام رہی ہیں کہ وہ پوتن کی گرل فرینڈ ہیں لیکن عوامی سطح پر کبھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ دونوں ایکدوسرے سے شادی کر چکے ہیں۔

سینئر صحافی بتاتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے قریبی ساتھی شہباز گل پر ہوئے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو بہت سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو ایسے ہی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن عمران نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے کبھی کسی صحافی پر حملے یا اس کی زباں بندی کے احکامات نہیں دیے۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ اس کے باوجود بھی وہ بطور وزیر اعظم اپنے ماتحت لوگوں کے جرائم کے لئے بھی قابلِ احتساب تھے جن کو وہ ان جرائم کی سزا ضرور دے سکتے تھے۔ مثال کے طور پر ان پر کڑی تنقید کرنے والے صحافی ابصار عالم کو جب گولی لگی تو اس پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ لیکن حیران کن طور پر انہوں نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بحران کا اصل حل ایک جلد الیکشن ہی میں مضمر ہے۔ وہ واضح طور پر پرامید تھے کہ نومبر سے پہلے چیزیں تبدیل ہوں گی۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے زیادہ طاقتور ہیں جو صرف اسلام آباد کے حکمران ہیں جب کہ پی ٹی آئی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دو صوبوں میں برسرِ اقتدار ہے۔ عمران نے تسلیم کیا کہ وہ فارن فنڈنگ کے کیس میں نااہل ہو سکتے ہیں لیکن اگر وہ گرفتار ہوئے تو وہ پنجاب اورخیبر پختونخواہ کی حکومتوں کو وفاقی حکومت کے خلاف استعمال کریں گے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے جانثار پہلے ہی اسلام آباد پر قبضے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان آگ سے کھیل رہے ہیں کیونکہ پاکستان اس سے قبل ایک وزیر اعظم کو مجرم قرار پاتے اور ایک وزیر اعظم کو نااہل ہوتے دیکھ چکا ہے۔ انکے مطابق عمران کے ساتھ بات چیت میں مجھے یہی تاثر ملا کہ وہ اپنے خلاف کیسز کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہے حالانکہ وہ ان میں سے کسی بھی کیس میں نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button