امریکہ مخالف عمران کونسا امریکی ایجنڈا لے کر چل رہا ہے؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے دعوی ٰکیا ہے کہ عمران خان نے نام نہاد امریکی سازش کا جو بیانیہ اپناتے ہوئے موجودہ حکومت اور فوج کو کمزور کرنے کی تحریک چلا رکھی ہے اس کا بنیادی مقصد دراصل امریکی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ رابن رافیل ایک مخصوص ایجنڈا لے کر آناًفاناً پاکستان پہنچیں، خان صاحب کو ان کے کرنے کے کام اور اگلا لائحہ عمل بتایا، اور پھر پلک جھپکتے واپس روانہ ہو گئیں۔ روزنامہ جنگ کے لئے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے لیے توسیع کا فارمولہ دینے اور امریکہ بارے پینترا بدلنے کا بنیادی مقصد سزا سے بچنا، شہباز حکومت کا خاتمہ کروانا، اگلے سال کے اوائل میں الیکشن کروانا اور پھر دوبارہ وزیراعظم بن کر نیا آرمی چیف لگانا ہے۔ اور اس ایجنڈے کے حصول کے لیے عمران ملک میں سیاسی بحران کھڑا کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کی ستمبر میں لانگ مارچ کی مجوزہ کال بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ سے یقین کامل ہے کہ عمران کی موجودہ تحریک کے پیچھے امریکہ ہے۔ملک میں سیاسی افراتفری اور اقتصادی ابتری کے ذریعے وطنی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا عمران خان کامقصد ہے، اس کارِ خیر میں اور کون کون ملوث ہے، اگرچہ تعین کرنا آسان ہے مگر نام لینا مشکل ہے۔ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے کامران خان کے ساتھ انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ ان کی رابن رافیل سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ ان کی پرانی جاننے والی ہیں۔ ظاہر ہے امریکہ کو عمران خان سے زیادہ کون جانتا ہوگا۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں امریکہ کی مداح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے بھی ملائے اور پھر اسی سانس میں جنرل باجوہ کی توسیع کا عندیہ بھی دے ڈالا۔

حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کیا یہ سب امریکی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے۔ وطن عزیز میں جس سیاستدان نے بھی اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا، اور شدت اور حدت سے اسکے خلاف شعلہ بیانی کی، اسے پذیرائی ملی، اور اس نے رفعتیں پائیں۔ ایسے میں اگر اسلامی ٹچ کا تڑکا بھی ساتھ ہو تو سیاسی مقبولیت کے ریکارڈ توڑنا بنتا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کی انہونی لہر نے انکی بطور حکمران ناکامی کو منوں مٹی تلے دفنا دیا ہے۔ عمران خان نے اقتدار سے نکلنے کے بعد جو امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنایا اس کا بنیادی مقصد بھی اپنی پونے چار سالہ حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے شاطرانہ طریقے سے اپنے یوتھیوں کو ورغلایا اور امریکہ اور فوجی قیادت پر ترکش میں پڑے سارے تیر چلا ڈالے۔ عمران خان کا ایبسلوٹلی ناٹ سے لے کر امریکی سازش اور امپورٹڈ حکومت تک کا بیانیہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا، ان کے جھوٹ کو پذیرائی ملی اور انہوں نے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت ایک بار پھر حاصل کر لی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے ماننے اور چاہنے والوں کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ اب اگر وہ دن دہاڑے قتل بھی کر دیں تو وہ انہیں معاف کر دیں گے۔ ان سے پہلے ہم الطاف حسین کو دیکھ چکے ہیں۔ موصوف کے تمام تر کرتوت اور اخلاقی اور مالی عیبوں کے باوجود ’’قائد کا ایک اشارہ، حاضر ہے لہو ہمارا‘‘ کے فلک شگاف نعرے بھی ہمیں یاد ہیں۔ لہذا عمران کی الطاف حسین سے مماثلت دلچسپ ہے۔ دونوں کو اسٹیبلشمنٹ نے ہی تراشہ، اور پھر بلندیوں تک پہنچایا، الطاف حسین کو RAW اور برطانوی MI6 نے استعمال کِیا اور عمران خان امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ماضی میں لیاقت علی خان سے بھٹو، ایوب خان، جنرل ضیاء، مشرف ،بے نظیر، نواز شریف درجنوں مثالیں ایسی جہاں امریکہ نے پاکستانی سربراہان کو مبالغے کی حد تک مغالطے میں ڈالا، اور بے جا پذیرائی دی۔

اسی طرح امریکہ کا ہماری اسٹیبلشمنٹ کے معاملات پر غیر معمولی اثرو رسوخ ہمیشہ عیاں رہا اور حقیقت بھی ہے۔ بقول جنرل حمید گُل، ہمارے فوجی سربراہ بنانے میں امریکہ کا کردار لازمی ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی چیف بھی وہی اچھا جو امریکہ من بھائے۔ لیاقت علی خان، بھٹو، جنرل ضیاء اور بے نظیر کے قتل کے نقشِ پا بھی امریکی سی آئی اے کے طریقۂ واردات سے جوڑے جاتے ہیں۔ نیازی کہتے ہیں کہ اگر امریکہ نے عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں کوئی رول ادا کیا تھا تو پھر یہ ماننے میں عار کیوں ہے کہ نواز شریف کی حکومت گرانے میں بھی امریکہ گوڈے گوڈے ملوث تھا۔ جب نواز شریف کے خلاف ابو ظہبی میں جے آئی ٹی رپورٹ تیار ہوئی تو ہمیں تب ہی معلوم ہو گیا تھا کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کا ایجنڈا ایک ہے جس کا مقصد نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ لہذا رابن رافیل کی بنی گالہ آمد کو عمران خان کے ڈرامے کے پارٹ ون کا رسمی اختتام اور پارٹ ٹو کا آغاز سمجھا جائے۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں مت بھولیں عمران خان کی موجودہ حکومت اور فوج مخالف تحریک کے پیچھے امریکہ ہے اور وہ آئندہ بھی اسی کا ایجنڈا لے کر آگے چلے گا۔

Related Articles

Back to top button