امریکہ مخالف عمران کی پاکستان مخالف امریکی سے ملاقات


امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کا الزام لگانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی بنی گالہ رہائش گاہ پر ایک پاکستان مخالف امریکی خاتون کانگریس ویمن سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان کا یہ عمل کھلا تضاد نہیں۔ سوشل میڈیا ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پاکستانی عوام کو امریکہ کے خلاف بھڑکانے اور شہباز حکومت کو امپورٹڈ قرار دینے کے بعد کس منہ سے ایسی پاکستان مخالف امریکی کانگریس ویمن سے ملاقات کی ہے جس نے 20 جولائی 2021 کو تحریری طور پر پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والا ملک قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکی کانگریس ویمن الہان عمر نے 20 اپریل کو عمران خان سے اسلام آباد میں ان کے گھر پر ملاقات کی۔ سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے الہان اور عمران کی مسکراتی ہوئی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دونوں کی اہم ملاقات بنی گالہ میں خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ لیکن منافقت کی پیکر یہ وہی شیریں مزاری ہے جس نے قومی اسمبلی کے فلور پر 9 اپریل کو امریکہ کو للکارتے ہوئے عمران خان حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں سے مل کر سازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ شیریں مزاری کے مطابق دونوں نے اسلاموفوبیا اور دیگر معاملات پر بات چیت کی۔ انکے بقول الہان نے عمران خان کو عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف بولنے پر سراہا۔‘ تاہم سچ تو یہ ہے کہ جولائی 2021 میں اس امریکی کانگریس ویمن نے جو خط لکھا تھا اس میں نہ صرف پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والا ملک قرار دیا تھا بلکہ اس پر اسلاموفوبیا پھیلانے کا الزام بھی لگایا تھا۔
دوسری جانب شیریں مزاری کے مطابق عمران خان نے کئی معاملات پر الہان کے جرات مندانہ اور اصولی مؤقف کی بنا پر ان کی تعریف کی۔ شاید عمران الہان کے اس جرات مندانہ موقف کی بات کر رہے تھے جو انہوں نے پاکستان کے خلاف اپنایا تھا۔ تاہم شیریں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا اس ملاقات میں عمران اور الہان کے مابین اس الزام پر بھی کوئی گفتگو ہوئی جو عمران خان نے امریکہ پر لگایا تھا اور اسے حکومت گرانے کی سازش کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ الہان عمر 20 اپریل کو ہی پاکستان پہنچی تھیں اور انکی پہلی سرکاری مصروفیت عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات تھی۔
عمران کی امریکی کانگریس ویمن سے ملاقات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وہ اپنی حکومت گرانے کا الزام امریکہ پر لگا رہے ہیں حالانکہ امریکہ کو پتا بھی نہیں کہ اس نے ایسی کوئی سازش کی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اس ملاقات پر تبصرے کر رہے ہیں۔ احمد قریشی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’سابق وزیر اعظم عمران خان جو امریکی حکام اور پاکستانی سیاستدانوں کے درمیان ملاقاتوں کو مداخلت اور سازش کہتے ہیں ایک امریکی قانون ساز کی اپنی جماعت کے لیے اپنی حمایت کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔‘ ذوالقرنین طور نامی صارف نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’پچھلے کچھ دنوں سے عمران امریکہ پر اپنی حکومت گرانے اور سازش کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔‘ انہوں نے الہان سے پوچھا ’کیا اس موضوع پر عمران نے آپ سے کوئی بات کی کیونکہ آپ صدر بائیڈن کی جماعت کا حصہ ہیں۔‘
ٹوئٹر پر ایک پاکستانی خاتون سمیرا خان نے یاد دلایا کے الہان عمر وہی امریکی کانگریس ویمن ہیں جنہوں نے جولائی 2022 میں پاکستان کو اسلاموفوبیا پھیلانے والا ملک قرار دیا تھا اور اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگانے کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو مانیٹر کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب ابھی تک عمران اور امریکی کانگریس ویمن کی ملاقات کا ایجنڈا معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ الہان پہلی صومالی نژاد امریکی قانون ساز ہیں جن کا تعلق بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ الہان کی جیت نسلی و علاقائی تعصب کے خلاف ایک متبادل بیانیہ پیش کرتی ہے۔ وہ خود ایک تارک وطن ہیں جو بچپن میں خانہ جنگی سے متاثرہ آبائی ملک صومالیہ سے امریکہ آئیں۔ تب وہ 12 برس کی تھیں لیکن اب وہ امریکی کانگریس کی رکن ہیں۔ الہان کے شوہر کا نام احمد ہے جن سے ان کے تین بچے ہیں۔ وہ ماضی میں سابق امریکی صدر ٹرمپ کی ایک نفرت آمیز ٹویٹ کا سامنا بھی کر چکی ہیں جو کہ نسلی تعصب پر مبنی تھی۔
اس دوران سوشل میڈیا پر الہان عمر کی اسد مجید خان نامی اس پاکستانی سفیر کے ساتھ ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس کے لکھے گئے خط کی بنیاد پر عمران خان نے امریکہ پر اپنی حکومت کے خلاف اپوزیشن سے مل کر سازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

Related Articles

Back to top button