اٹک سے رحیم یار خان تک پنجاب مسلسل لاوارث کیوں؟


’’امریکی سازش‘‘ کے الزام نے ہمارے معاشرے کے ذہین ترین ذہنوں کو بھی جس انداز میں مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اس کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی مرتبہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تین ہفتوں سے وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے حالانکہ ڈرائیور کے بغیر ایک دیوہیکل مشین کو اس کے حال پر چھوڑ دینا بڑے حادثات کا سبب ہو سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں یہ کہ میں ذاتی طورپر عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے سے خوش نہیں تھا۔ میری تمنا تھی کہ اسے پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے دی جاتی۔لیکن اقتدار کا کھیل کھیلنے والے سیاستدان عمران کی حکومت کا تختہ اُلٹنے میں کامیاب ہو گئے ۔وفاق میں اس عمل نے زیادہ سے زیادہ تین دنوں تک ماحول کو گھمبیر تربنائے رکھا۔ لیکن پنجاب میں قصہ ختم ہونے ہی نہیں دیا جارہا۔ تحریری آئین کے ہوتے ہوئے بھی یورپ کے کئی بڑے اور طاقت ور ممالک کی آبادی اور رقبے کے برابر وطن عزیز کا سب سے بڑا صوبہ حکومت کے بغیر چل رہا ہے۔اس کے ہوتے ہوئے ہمارے دشمن اگر پاکستان کو ’’ناکام ہوتی ریاست‘‘ پکاریں تو بخدا میرے پاس ان کامنہ توڑ جواب دینے کی اخلاقی قوت میسر نہیں ہے۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ میں ’’راج ہٹ‘‘ یا بادشاہوں کی من مانیاں کتابوں میں پڑھتے ہوئے اکثر یہ سوچتا تھا کہ خلق خدا انہیں کیسے برداشت کرتی رہی۔ میری بدقسمتی کہ اب انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ اس ’’من مانی‘‘ کا آغاز صدر عارف علوی سے ہوا۔ شہباز شریف اور ان کی کابینہ سے حلف لینے کے وقت وہ ’’بیمار‘‘ پڑ گئے۔ لیکن بیماری کے نام پر اپنی ضد پر وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پائے۔ کابینہ کی دوسری قسط کے حلف اٹھانے کا مرحلہ آیا تو موصوف تندرست وتوانا ہوگئے۔ خدا جانے تیسری قسط کے ساتھ ان کی صحت کا کیا عالم ہوگا۔ لیکن زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ صدر کی نقالی میں عمران خان کے دیرینہ وفادار گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ دو قدم آگے جا چکے ہیں۔ اپنے منصب پر چند روز فائز رہنے کے بعد انہیں یاد آگیا کہ عثمان بزدار نے استعفیٰ گورنر پنجاب کے نام نہیں بلکہ وزیر اعظم کے نام لکھا تھا اور چودھری سرور کی آنکھ یہ ’’باریک نکتہ‘‘ دیکھ نہیں پائی۔ مدعی سست اور گواہ چست کی اس سے زیادہ مضحکہ خیز مثال ڈھونڈنا ممکن ہی نہیں۔
اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے چند ہفتے قبل بزدار نے حکومتی قواعد وضوابط میں خاموشی سے ایسی تبدیلیاں متعارف کروائیں جو وزارت اعلیٰ سے سبکدوش ہوئے فرد کو ماضی کے سلطانوں جیسا پروٹوکول یقینی بناتی ہیں۔ مگر ہر پل کی خبر دینے کا دعوے دار میڈیا ان تبدیلیوں سے بے خبر رہا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تین ہفتے سے اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ کے بغیر چل رہا ہے۔ تحریری آئین کے ہوتے ہوئے بھی سرکاری مشینری کی نگہبانی سے محروم ہوئے پنجاب میں خدانخواستہ کوئی سنگین مسئلہ کھڑا ہوگیا تو اس سے نبردآزما ہونے کی ذمہ داری کس کے سرتھونپی جائے گی۔عمر سرفراز چیمہ مگر اپنے کپتان کی طرح ’’ڈٹ کر کھڑے‘‘ ہیں اور یوتھیے مداحین سے ’’جی داری‘‘ دکھانے کی بنیاد پر داد وصول کررہے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ عوام ریاستی خلفشار کے اس موسم میں کس کی ماں کو ماسی کہیں؟

Related Articles

Back to top button