ایجنسیوں میں عمران کے مخبروں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ


سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیے جانے والے اس مسلسل دعوے کے بعد کہ خفیہ ایجنسیوں میں موجود ان کے ہمدرد انہیں اندر کی اطلاعات فراہم کر رہے ہیں، فوجی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے مخبروں کا پتہ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے ذمرے میں آتا ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت اپنے ادارے کو سیاست سے دور کرنے کا واضح اعلان کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کچھ فوجی اہلکار سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انکے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

فوجی ترجمان کی جانب سے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا جا چکا ہے کہ فوج اب ‘اے پولیٹیکل’ ہو چکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس بریفنگ میں واضح کیا تھا کہ فوج نے کلیئر پالیسی اپنا لی ہے کہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اور ادارے کو اس کی آئینی حدود تک محدود کر لیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سننے میں تو قابل تحسین تھیں مگر کچھ سوال بھی ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیا واقعی ادارے کے ہر فرد کو یہ فیصلہ قبول ہے؟ کیا ادارے کے تمام افراد نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے؟

سیاسی رہنماؤں کے بیانات اکثر و بیشتر سیاسی ہی ہوتے ہیں جنہیں عرف عام میں پاکستان میں جھوٹا مانا جاتا ہے۔ مگر سابق وزیراعظم عمران خان کا یہ دعویٰ نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ فوج کے اندر انکے ہمدرد کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو انہیں پل پل کی خبریں فراہم کر رہے ہیں۔ چونکہ عمران خان ملک کے چیف ایگزیکٹیو رہے ہیں اور تمام انٹیلی جنس ادارے ان کے ماتحت کام کر چکے ہیں لہٰذا انکے اس دعوے کو سرے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عمران نے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بار بار عوامی جلسوں میں دعوی ٰکیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افراد اب بھی ان سے رابطے میں ہیں اور ان کو آنے والے حالات اور سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اب حال ہی میں عمران خان نے عالمی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں بھی اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ان پر ہوئے حملے کے بارے میں انٹیلی جنس اداروں کے اندر سے ان کو بتا دیا گیا تھا کہ ان پر حملہ ہو گا۔

عمران خان نے حملے کے بعد بھی اس بات کا تذکرہ کیا کہ چار لوگوں نے ایک کمرے میں بیٹھ کر میرے خلاف سازش کی۔ دوسری جانب ایف آئی آر کے معاملے میں عمران خان نے جہاں اپنے سیاسی مخالفین کو نامزد کیا، وہیں ایک حاضر سروس سینئر آرمی آفیسر کو بھی کھلےعام اقدام قتل میں ملوث قرار دے دیا۔ سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اگر تو حاضر سروس جنرل کا اس حملے سے تعلق نہیں تو کیا آئی ایس پی آر کی وضاحت اس حوالے سے کافی ہے؟ کیا حکومت کو اس الزام پر سخت کارروائی اور تفتیش نہیں کرنی چاہئے کہ آخر ملک کا سابق وزیر اعظم اپنے اوپر ہوئے حملے میں کس بنیاد پر اتنے سینئر آفیسر کا نام لے رہا ہے؟ اب تو بات ایف آئی آر سے آگے نکل کر امریکی اور ترکش میڈیا گروپس کو دیے انٹریوز تک جا پہنچی ہے۔ عالمی میڈیا عمران خان کو صرف ایک سیاسی لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کے سابق چیف ایگزیکٹیو کے طور پر دیکھتا ہے۔ لہٰذا عمران خان کی جانب سے آئی ایس آئی اور فوج کے حاضر سروس افسران پر لگائے گئے الزامات کوئی چھوٹی بات نہیں۔ موصوف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا اور یہ اطلاع انہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں میں موجود افراد نے لیک کی۔ سوال یہ ہے کہ انٹیلی جنس کا اگر کوئی شخص عمران کو ایسی جھوٹی خبریں دے رہا ہے تو اسکا کیا مقصد ہے خصوصاً جب حملہ کرنے والا نوجوان نوید احمد تسلیم کر چکا ہے کہ اس نے عمران کو گستاخ رسول سمجھتے ہوئے ختم کرنے کی کوشش کی۔

سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ عمران نہ تو وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی وزیر داخلہ، ایسے میں اگر ان پر حملے کے بارے میں کوئی وارننگ کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس موجود تھی بھی تو اسے حساس اداروں کو دینے کی بجائے عمران کو کیوں دیا گیا؟ انکے مطابق آئین میں تو واضح ہے کہ انٹیلی جنس ادارے چیف ایگزیکٹیو اور وازرت داخلہ کے ماتحت ہیں، تو پھر انٹیلی جنس اداروں میں موجود عناصر جھوتی انفارمیشن عمران خان کو کیوں پہنچا رہے ہیں؟ اس کے علاوہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ اس ساری کہانی میں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور ادارے اس حوالے سے کوئی ایکشن لیتے دکھائی نہیں دے رہے۔

Related Articles

Back to top button