ایم کیو ایم کارکنان کا قتل، حکومت گرانے کی سازش؟


باخبر حکومتی حلقوں نے کراچی سے 2016 میں لاپتہ ہونے والے ایم کیو ایم کے تین کارکنان کے قتل کے واقعے کو حکومت گرانے کی سازش قراردیا ہے اوراس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ واردات ایک منصوبے کے تحت ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت سے علیحدہ کرنے کے لیے ڈالی گئی۔ ایم کیو ایم کے تینوں کارکنان کی لاشیں 6 برس بعد اندرون سندھ سے مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی ہیں حالانکہ ان کو کراچی سے غائب کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان دونوں نے قتل ہونے والوں کو اپنے کارکنان ظاہر کیا ہے۔ ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کارکنان کا قتل الطاف حسین کے جاں نثاروں کی جانب سے کراچی میں دوبارہ متحرک ہونے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے تینوں قتل ہونے والے افراد کو ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے ڈالی تھی۔

چنانچہ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان کو 19 ستمبر کو کراچی پہنچ کر ایم کیو ایم پاکستان کو ٹھنڈا کرنا پڑا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کے اس واقعے میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے قائدین نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ اس واقعے سے پہلے کراچی میں پارٹی کے عزیز آباد ہیڈ کوارٹر میں پراسرار آتشزدگی ہوئی جس نے پوری عمارت تباہ کر ڈالی۔ انہوں نے گلہ کیا کہ اب سندھ حکومت عزیز آباد ہیڈ کوارٹر کو غیر قانونی قرار دے کر گرانے کی تیاری میں مصروف ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 2016 میں غائب ہونے والے تین کارکنان کا قتل ایم کیو ایم کو اتحاد سے علیحدہ کر کے حکومت گرانے کی سازش کا حصہ ہے اس لیے معاملے کی نزاکت کو سمجھا جائے اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔

ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق انہوں نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ انکی جماعت کے مجموعی طور پر 105 سیاسی کارکن لاپتہ ہیں اور اب تین لوگوں کی لاشیں ملنے کے بعد دیگر 102 کارکنان کے خاندانوں میں انتہائی خوف پایا جاتا ہے کہ کہیں ان کے پیاروں کو بھی قتل نہ کر دیا جائے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی بلال غوری کا کہنا ہے کہ ایسا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ۔2012 میں سندھی مصنف عطا محمد بھنبھرو نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اس گستاخی کی یہ سزا پائی کہ 2015 میں ان کا بیٹا راجہ داہرلاپتہ ہوگیا اور پھر لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد اس کی تشدد زدہ لاش کراچی سپر ہائی وے کے قریب سے ملی۔ غوری کہتے ہیں کہ فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر آفتاب احمد تو آپ سب کو یاد ہی ہوں گے۔ 2016ء میں غداروں اور وفاداروں کو چھانٹ کر الگ کرنے کے بعد انہیں سندھ رینجرز نے 90 دن کیلئے حراست میں لیا مگر انکی بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں موت واقع ہوگئی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے ڈرتے ڈرتے عدلِ راحیلی کی زنجیر ہلائی تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انکوائری کا حکم دے دیا ۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی بنائی مگر نہ تو کوئی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دی جا سکی۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم لندن سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ ڈاکٹر حسن ظفر یونیورسٹی آف کراچی میں فلاسفی کے پروفیسر تھے جن کا شمار ترقی پسند دانشوروں میں ہوتا تھا، ضیا کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریک شروع ہوئی تو ڈاکٹر حسن عارف نے بہت متحرک اور فعال کردار اداکیا۔لیکن پھر یوں ہوا کہ 2016ء میں ایک قابل اعتراض تقریر سننے کی پاداش میں ’’غدار ‘‘ٹھہرے۔ تاریخ گواہ ہے ڈاکٹر حسن عارف جیسے لوگ محض غیر ذمہ دارانہ تقریر سننے کے جرم میں پابند سلاسل رہے۔ اکتوبر 2016ء میں حسن ظفر عارف کو تب حراست میں لیا گیا جب وہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کیلئے آرہے تھے۔ انگریزوں نے ہندوستان میں غلامی کے خلاف اُٹھ رہی آوازوں کو دبانے کے لئے ’مینٹیننس آف پبلک آرڈرآرڈیننس‘کے نام سے جو کالا قانون بنایا تھا، پہلے تو اس کے تحت انہیں 2 ماہ کراچی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا اور پھر انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ چلا کر زیر حراست رکھا گیا۔ انہیں اپریل 2017ء میں ضمانت پر رہائی ملی۔ 13 جنوری 2018 کو ان کی بیٹی کو لندن جانا تھا، ڈاکٹر حسن عارف اپنے وکیل سے ملنے کے بعد روانہ ہوئے مگر گھر نہیں پہنچے۔ 14 جنوری کی صبح تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود میں الیاس گوٹھ کے علاقے سے ان کی گاڑی ملی جس میں ان کی تشدد زدہ لاش موجود تھی۔ لیکن لاش کو جناح ہاسپٹل لے جایا گیا تو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا گیا کہ انکے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ چند روز پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم نے لاپتہ افراد کا پتہ لگانے کا وعدہ کیا تھا، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اغواکاروں کی جانب سے ایم کیو ایم کے تین لاپتہ کارکنوں کی لاشیں پھینک کر اس کا جواب دیا گیا ہے یا پھر کوئی چاہتا ہے کہ ایم کیو ایم حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے؟

Related Articles

Back to top button