ایم کیو ایم کا عزیز آباد ہیڈ کوارٹر گرانے کی تیاری مکمل

سندھ حکومت نے کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم پاکستان کے نائن زیرو ہیڈ کوارٹرز کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ خورشید میموریل کمپلیکس میں قائم کردہ عمارت ایک رفاہی پلاٹ پر بنائی گئی ہے لہذا یہ غیر قانونی ہے۔ یاد رہے کہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم پاکستان کا عارضی ہیڈ کوارٹرز اس وقت بہادر آباد میں ایک کثیرالمنزلہ عمارت میں واقع ہے کیونکہ عزیز آباد ہیڈ کوارٹرز اگست 2016 سے بند پڑا ہے۔ یاد رہے کہ الطاف حسین کی ایک فوج مخالف تقریر کے بعد نہ صرف انکی جماعت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی بلکہ میڈیا میں بھی ان کا چہرہ دکھانے اور گفتگو سنانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سندھ حکومت کی جانب سے خورشید میموریل کمپلیکس گرانے کا فیصلہ اس لیے حیران کن ہے کہ حکومتی اتحادی جماعت اس عمارت کے ساتھ ساتھ اپنے درجنوں دیگر سیل شدہ دفاتر بھی واپس کرنے اور اپنی معمول کی سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کراچی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن سینٹرل کے ایڈمنسٹریٹر کی ہدایات پر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو 16 ستمبر کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ‘پارکس اور رفاہی پلاٹوں کی بحالی’ کا سلسلہ جاری ہے خط میں کہا گیا کہ ‘ضلعی انتظامیہ پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں/زمین کی ملکیتی اداروں کے تعاون سے پورے ضلع میں غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔’ خط میں 9 پلاٹوں کے پتوں کا ذکر کیا گیا تھا ان میں وہ پلاٹ بھی شامل ہے جس پر فیڈرل بی ایریا بلاک 8 عزیز آباد میں خورشید میموریل کمپلیکس بنایا گیا تھا، خط میں کے ڈی اے سے کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پلاٹوں کو الاٹمنٹ کے اصل مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ جب بھی کسی بھی تجاوزات کو ہٹانے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے ضرورت ہو اس کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر طرح کی ضروری انتظامی معاونت فراہم کرے گی۔ اگرچہ خط میں استعمال کی گئی زبان مبہم ہے کیونکہ اس میں خورشید میموریل کمپلیکس یا اسے مسمار کرنے کے الفاظ نہیں لیکن حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز کی عمارت گرانے کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جسے 22 اگست 2016 سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین پر پابندی کے بعد غیر اعلانیہ طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ تاہم صوبائی حکومت کا کوئی عہدیدار اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں، رابطہ کرنے پر ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ‘آپ جانتے ہیں، یہ معاملات ہماری پہنچ سے بہت اوپر ہیں۔
ڈی سی سینٹرل کا حوالہ دیتے ہوئے مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا ہیڈ کوارٹرز غیر قانونی طور پر زمین کے ایک ٹکڑے پر بنایا گیا تھا جو درحقیقت میڈیکل سینٹر کے لیے مختص تھا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 9 ستمبر کی رات ایم کیو ایم کے عزیز آباد ہیڈکوارٹرز میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی تھی جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔ آگ کی انکوائری کرنے والوں نے بجلی کے شارٹ سرکٹ کو آتشزدگی کا ذمہ دار قرار دیا ہے حالانکہ اس کی بجلی 2016 میں کاٹ دی گئی تھی۔ سندھ پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے تحقیقات کے بعد کہا کہ آتشزدگی ایک کمرے میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ ایم کیو ایم والوں کا کہنا ہے کہ نائن زیرو کی بجلی تو برسوں پہلے منقطع کر دی گئی تھی تاکہ اسے استعمال میں نہ لایا جا سکے۔
ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی جسکا مقصد الطاف حسین کی پراپرٹی کو جلا کر خاکستر کرنا تھا۔ کراچی پولیس کے بم ڈسپوزل سکواڈ نے جو تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق کراچی سینٹرل کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 8 میں واقع ایم کیو ایم کے نائن زیرو ہیڈ کوارٹر زمیں موجود ایئرکنڈیشنرز میں ایل پی جی طرز کی گیس خارج ہوئی اور کمرے بند ہونے کی وجہ سے وہیں جمع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق برابر والے کمرے میں بجلی کے بورڈز اور تار کے گچھے لٹک رہے تھے، ایسے میں بجلی کے ایک تار میں شارٹ سرکٹ ہوا تو کمرے میں پہلے سے موجود گیس کی وجہ سے زوردار دھماکہ ہوا جس سے مکان کے فرنٹ سائیڈ کی کھڑکیاں اور دروازے اڑ کر گلیوں میں جا گرے اور ایک دیوار بھی گر گئی۔

Related Articles

Back to top button