ایک پیج پر رہنے والی فوج اور عمران جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

2018 کے الیکشن میں عمران خان کو دھاندلی سے وزیر اعظم بنوانے کا الزام لینے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ اگلے ساڑھے تین برس تک خان کے ساتھ ایک ہی صفحے پر رہتے ہوئے بیک سیٹ ڈرائیونگ کے مزے بھی لیتی رہی۔ لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عمران حکومت کی نا اہلی اور نالائقی نے ہائبرڈ نظام کو ایک گالی بنا دیا جسکی ذمہ داری فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالی جا رہی تھی۔ اس دوران خان صاحب نے اپنے محسنوں اور کو آنکھیں دکھانا بھی شروع کردی تھیں چنانچہ وسیع تر قومی مفاد میں کھڑے کیے گے ‘پروجیکٹ عمران خان’ کو قومی مفاد کے تحت جنوری 2922 میں لپیٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور اپریل میں کپتان حکومت کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ لیکن ’سیم پیج‘ کی حکومت ختم ہوتے ہیں عمران سڑکوں پر نکل آئے اور فوجی انہوں نے فوجی قیادت کو تنقید کا ہدف بنا لیا۔ کپتان حکومت کے خاتمے کے چھ ماہ بعد اب یہ صورتحال ہے کہ فوج اور عمران آمنے سامنے آ چکے ہیں اور کھلی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ عمران خان ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے اپنے فوج مخالف بیانیے میں اتنے آگے چلے گئے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پریس کانفرنس کے ذریعے سابق وزیراعظم کے الزامات کا جواب دینا پڑا۔

اس دوران عمران کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کے نام لے کر ان پر سخت الزامات عائد کیے جانے رہے ہیں اور اب تو عمران نے وزیر آباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری بھی آئی ایس آئی کے ایک سینئر افسر پر ڈال دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہی عمران خان جو کچھ عرصہ قبل تک جنرل قمر باجوہ کی جمہوریت پسندی کے دلدادہ تھے، اور انکی ہم بستری کا دم بھرتے نہ تھکتی تھے، اب اب اپنے پنجے جھاڑ کر فوجی قیادت کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ معاملہ آگے کہاں جا کر رکے گا؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے چند سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے بات کی۔ سینئیر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کے مطابق ’حالات اس نہج تک ایسے پہنچے کہ عمران کے دورِ حکومت میں عوام کی جانب سے مایوسی کا اظہار ہو رہا تھا، معاشی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی تھی اور بات قیادت پر آ گئی۔ عمران کو اس دوران پوری طرح علم تھا کہ ان کے بارے میں عسکری قیادت کیا کہہ رہی ہے اور کیا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی ایک کڑی جڑتی ہے مارچ 2021 سے جب پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی ملتان سے الیکشن جیت گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے 2021 کے سینیٹ انتخابات کے لیے گیلانی کے کاغذاتِ نامزدگی کو منظور کرتے ہوئے حکمراں جماعت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کیا تھا۔‘ نصرت جاوید کے مطابق تنازعہ عمران کو سمجھ آ گیا تھا کہ یہ عسکری قیادت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم متنازعہ صحافی سِرل المیڈا کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی بنیاد ایک ہی ہے کہ سیاست میں ایک وقت میں ایک ہی باس ہو سکتا ہے۔ جلد یا بادیر اس بات کا اندازہ سبھی سیاست دانوں کو ہو جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ عمران کے کیس میں بھی ہوا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ بظاہر تو عمران اور فوج کے درمیان تنازعہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر ہوا ’لیکن دراصل اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟‘ سِرل کا کہنا ہے کہ ’عمران اور جنرل قمر جباجوہ کے درمیان اس بات پر اتفاق تھا کہ وہ خان کو وزیرِ اعظم بنوائیں گے اور عمران بدلے میں جنرل باجوہ کو توسیع دیں گے اور ایسے چلتا رہے گا۔

سرل المیڈا کہتے ہیں کہ ’لیکن پھر اس طرح کے معاہدوں میں ہوتا یہ ہے کہ ’کیونکہ عمران مستقبل کا سوچتے ہیں تو وہ اپنے آنے والے پانچ سال کی تیاری کرنا شروع ہو گئے اور اس دوران آرمی چیف ان کے لیے غیر ضروری ہو گئے۔ یوں معاملات خراب ہونا شروع ہونگے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دراصل فیض حمید کا ساتھ ملنے کے بعد جنرل باجوہ عمران کے لیے غیر اہم ہو چکے تھے کیونکہ وہ ان کی تمام سیاسی ضروریات پوری کر رہے تھے۔ لہذا جب فیض کے عہدے کی معیاد پوری ہونے پر جنرل باجوہ نے انہیں پشاور ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کیا تو عمران غصہ کھا گئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ فیض کی ٹرانسفر کی جائے، جس کا وہ برملا اعتراف بھی کر چکے ہیں، تاہم یہ ٹرانسفر ہو گئی۔ یہ تنازعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد اپوزیشن کو ایک موقع نظر آیا جس سے اس نے فائدہ اٹھا لیا۔

سرل المیڈا کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیئے کہ فوج نے پہلی مرتبہ ایک پاپولسٹ کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور عمران کا سپورٹر فوج کے سیاسی سپورٹر سے بہت مختلف ہے۔ عمران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کو فوج اقتدار میں لائی تھی لیکن خان کا ووٹر صرف اسی کی سنتا ہے اور فوج کے تابع نہیں ہے۔ اس لیے جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو عمران کا سپورٹر فوج کی بجائے اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہو گیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ مگر نصرت جاوید کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا وقت ہے جب عمران خاصی انتہا پسندی دکھا رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت اس حد تک نہیں کہ لوگ ان کی خاطر عسکری قیادت پر حملہ آور ہو جائیں گے اور پاکستان کا جمہوری نظام اتنا مضبوط نہیں ہوا کہ فوج کے ساتھ ٹکراؤ کو برداشت کرسکے۔ عمران پر حملے کے بعد ان کو وقت مل گیا ہے اور اب انھیں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

دوسری جانب سابق آئی ایس آئی سربراہ اسد درانی کا۔کہنا ہے کہ فوج اور عمران خان کے درمیان ناراضی تو بعد میں ہوئی لیکن عمران نے پہلے سے ہی شور مچانا شروع کر دیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’فوج کو یہ مان لینا چاہیے کہ سیاسی انجینیئرنگ غلط ہو گئی ہے اور ہو جاتی ہے۔ اس کو ماننے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔‘ اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟ اسد درانی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’سیاست میں کوئی بھی لڑائی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ اگلے چھ ماہ میں یہی لوگ الیکشن کی تیاری کرتے نظر آئیں گے۔‘ سِرل المیڈا کے مطابق ’جب بھی الیکشن ہوتے ہیں تو عمران کی پارٹی سب سے مقبول جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر آئے گی۔

اب وہ سادہ اکثریت کے ساتھ آئے گی، یا سپر اکثریت کے ساتھ آئے گی، یہ الگ سوال ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران کو اگلے الیکشن کے لیے فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انھوں نے کہا ایسے میں نئی عسکری قیادت کے لیے یہ سوال ہوگا کہ آیا وہ عمران کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔ تب ہی یہ پتہ بھی چلے گا کہ وہ انکے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لیکن یہ سب تب ہی پتا چلے گا جب نیا آرمی چیف تعینات ہو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button