اے پی ایس حملے میں ملوث TTP کی پشاور میں واپسی


دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے سفاکانہ حملے میں ڈیڑھ سو بچوں کو شہید کرنے والی تحریک طالبان پاکستان نے ایک مرتبہ پھر پشاور کا رخ کرلیا ہے لیکن حسب سابق عسکری حکام اور صوبائی حکومتیں سوئی ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات اور سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق خبریں کافی عرصے سے گردش کررہی ہیں مگر اب پشاور کے نواحی علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔پشاورشہر سے 45 کلومیٹر دور تحصیل حسن خیل کے علاقے شرکیرہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے جس میں ایک مسلح نوجوان جمعہ کی نماز کے بعد مسجد میں کھڑے ہو کر جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ دو منٹ پچاس سیکنڈ کی اس ویڈیو میں شدت پسند نوجوان اپنی پوری تقریر کے دوران اسلحہ تھامے رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ طالبان جنگجو واپس آ چکے ہیں۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد علاقے میں خوف کی فضا پھیلی چکی ہے۔ تحصیل حسن خیل میں بنائی گئی اس ویڈیو میں موجود مسلح جنگجو مقامی رہائشی نہیں لگ رہا اور لب و لہجے سے قبائلی اضلاع کا شہری لگ رہا ہے۔ تحصیل حسن خیل پشاور کی سات تحصیلوں میں سے ایک ہے جو پہلے ایف آر فاٹا کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ حسن خیل کے بیشتر علاقے ضم قبائلی علاقوں سے متصل واقع ہیں۔ ماضی میں یہاں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

پشاور کے مقامی لوگوں نے طالبان کی واپسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب عسکری حکام کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کیا دھرا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عسکری حکام طالبان کی واپسی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دے رہے ہیں جب کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات صوبائی حکومت نہیں بلکہ وفاقی ادارے کر رہے ہیں۔ تاہم یہ مذاکرات بھی کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے جس کی بنیادی وجہ تحریک طالبان کے بڑھتے ہوئے مطالبات ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ طالبان کی پاکستان میں واپسی کی بنیادی وجہ عسکری حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے لیکن طالبان پاکستان واپس آنا شروع ہو چکے ہیں اور دہشت گرد کارروائیوں کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ سوات پہنچنے والے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ ایک معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا واپس آئے ہیں جب کہ عسکری حکام اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شروع کیا تھا لیکن پھر عسکری حکام نے یہ نتیجہ نکالا کے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ ایک بلنڈر تھا جس کے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں چنانچہ فیض حمید کو پشاور سے بہاولپور ٹرانسفر کر دیا گیا اور مذاکراتی عمل روک دیا گیا۔ حکومت یا طالبان دونوں نے مذاکرات کے خاتمے کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات اب شاید دوبارہ شروع نہ ہو پائیں۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے علاقے مٹہ کے پہاڑوں پر طالبان کی موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے تھے جب طالبان نے ایک ڈی ایس پی کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا اور دیگر کو یرغمال بنا کر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔ اس کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں سے طالبان کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ ان میں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں کے علاوہ اورکزئی، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب کلاچی اور ہتھالہ کے علاقے اہم بتائے گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں طالبان کی موجودگی کی اطلاعات پہلے سے تھیں جن میں ٹی ٹی پی کے علاوہ شدت پسندوں کے دیگر گروہ بھی شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یکم ستمبر کے بعد سے تحریک طالبان نے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے جس کے بعد پاک فوج نے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں کی ہیں۔

Related Articles

Back to top button