بشریٰ بی بی ایک ہی وقت میں عمران اورمانیکا کی بیوی کیسے؟

embed]https://youtu.be/S3gdDmpzMNM[/embed]

تحریر : عامر میر
نادرا کے ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اس وقت عمران خان کے علاوہ خاور فرید مانیکا کی بھی اہلیہ ہیں جو کہ قانونی اور شرعی طور پر غلط ہے، نادرا کے ریکارڈ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عمران خان نے حیرت انگیز طور پر اپنی تیسری اہلیہ بشری بی بی کے چار بچوں، بشمول تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو اپنی ولدیت میں لے لیا ہے جس کی تصدیق نادرا کے ریکارڈ سے ہو گئی ہے۔ بشریٰ بی بی کے ان چار بچوں کے نام عمران خان کے فیملی ٹری میں بطور انکی اولاد کے درج کیے جا چکے ہیں۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمران خان کے فیملی ٹری میں انکے جمائما سے ہونے والے دو بیٹوں کے نام بھی درج ہیں۔ تاہم دوسری جانب اس سے بھی بڑی واردات بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا نے ڈالی ہے جنہوں نے عمران خان کی موجودہ اہلیہ ‘بشریٰ عمران خان’ کو اپنے فیملی ٹری میں بطور اہلیہ درج کروا دیا ہے حالانکہ وہ سمیرا جاوید آغا نامی ایک خاتون سے دوسری شادی بھی کر چکے ہیں جس میں سے انکی ایک بچی بھی ہے۔

نادرا کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق خاور فرید مانیکا کے فیملی ٹری میں نہ صرف ‘بشریٰ عمران خان’ بطور انکی اہلیہ درج ہیں بلکہ ان کی دوسری بیوی کا اندراج بھی موجود ہے جو ایک چھوٹی بچی رحم فرید مانیکا کی ماں بھی بن چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ طلاق لینے کے بعد بشریٰ بی بی نے اپنے سابقہ شوہر کی دوسری شادی خود کروائی تھی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ میں بشریٰ بی بی کا ایک ہی وقت میں خاور مانیکا اور عمران خان دونوں کی اہلیہ ہونا قانونی طور پر بھی غلط ہے اور شرعی طور پر بھی ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اسلامی شریعت کے مطابق ایک عورت ایک وقت میں دو مردوں کے نکاح میں نہیں رہ سکتی، جیسا کہ نادرا کے ریکارڈ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اسی طرح قانونی اور شرعی طور ایک ہی وقت میں بچوں کے دو باپ بھی نہیں ہو سکتے جیسا کہ عمران خان اور خاور فرید مانیکا کے نادرا ریکارڈ میں نظر آرہا ہے۔ نادرا کے ریکارڈ میں عمران خان اور خاور فرید مانیکا دونوں بشریٰ بی بی کے بچوں کے باپ دکھائے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نادرا ریکارڈ میں عمران خان کے دونوں بیٹوں سلیمان خان نیازی اور قاسم خان نیازی کے نام تو شامل ہیں لیکن سیتا وائٹ سے نے پیدا ہونے والی ان کی بیٹی ٹیری وائٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے جسے کہ جمائمہ نے پالا ہے اور وہ ان کے بیٹوں کے ساتھ ہی رہتی ہے۔

نادرا کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان کے فیملی ٹری میں ان کے والد کا نام اکرام اللہ خان نیازی اور والدہ کا نام شوکت خانم بتایا گیا ہے، عمران خان کی تاریخ پیدائش 1952 بتائی گئی ہے جبکہ انکی اہلیہ بشریٰ عمران خان کی تاریخ پیدائش 1971 بتائی گئی ہے۔ عمران کی اولاد میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں دکھائی گئی ہیں۔ انکے بیٹوں میں سلیمان خان نیازی کی تاریخ پیدائش 1996 بتائی گئی ہے جبکہ قاسم خان نیازی کی تاریخ پیدائش 1999 بتائی گئی ہے، ابراہیم مانیکا اور موسی مانیکا کی تاریخ پیدائش 1994 اور 1996 بتائی گئی ہے۔ جبکہ بیٹیوں میں مہرالنسا مانیکا اور قرسم فرید مانیکا کا نام درج ہے اور انکی تاریخ پیدائش 1990 اور 2008 بتائی گئی ہے۔

دوسری جانب نادرا ریکارڈ کے مطابق 1958 میں پیدا ہونے والے خاور فرید مانیکا کے فیملی ٹری میں ان کے والد کا نام میاں غلام محمد مانیکا اور والدہ کا نام رضیہ سلطانہ بتایا گیا ہے۔ نادرا ریکارڈ میں خاور فرید مانیکا کی دو بیویاں یعنی بشری عمران خان اور سمیرہ جاوید آغا بتائی گئی ہیں۔ نادرا ریکارڈ میں سمیرا کی تاریخ پیدائش 1979 بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں بھی نادرا ریکارڈ میں موجود ہیں۔ بیٹوں کے نام محمد ابراہیم مانیکا اور محمد موسی مانیکا ہیں جبکہ بیٹیوں کے نام قرسم فرید مانیکا، مبشرہ خاور مانیکا اور رحم مانیکا ہیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر ڈھائی برس ہے۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ عمران خان کے فیملی ٹری میں مبشرہ خاور مانیکا شامل نہیں ہیں جب کہ خاور فرید مانیکا کے فیملی ٹری میں انکی بیٹی مہرالنساء شامل نہیں ہیں۔

نادرا حکام نے تصدیق کی ہے کہ عمران اور خاور مانیکا کے فیملی ٹری میں سابق خاتون اول ‘بشریٰ عمران خان’ کو دونوں کی اہلیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی اور شرعی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایک عورت ایک ہی وقت میں دو مردوں کی بیوی نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب بشریٰ بی بی نے طلاق لے کر دوسری شادی کر لی اور اپنا نام بشریٰ خاور مانیکا سے بدل کر بشری عمران خان رکھ لیا تو پھر ان کے سابقہ شوہر نے اپنے فیملی ٹری میں انکا نام بطور اپنی اہلیہ کے کیوں اور کیسے درج کروا لیا۔ ایسا کیسے ممکن ہو گیا؟ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا بالکل نہیں کہ بشری کا نام غلطی سے خاور مانیکا کے فیملی ٹری میں لکھا گیا ہو چونکہ ان کا سابقہ نام بشریٰ خاور مانیکا تھا جبکہ خاور کے موجودہ فیملی ٹری میں بشریٰ کا نیا نام بشری عمران خان درج کیا گیا ہے۔

اسی طرح عمران خان کی مرضی کے بغیر بشریٰ بی بی کے بالغ بچوں کا انکے فیملی ٹری میں شامل ہونا بھی ممکن نہیں اور یہ بھی دانستہ طور پر ہی کیا گیا لگتا یے۔ نادرا حکام کا بھی کہنا ہے کہ نادرا کے ڈیٹا بیس میں کسی بھی شخص کے فیملی ٹری میں کوئی بھی تبدیلی خاندان کے سربراہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ تاہم قانونی ماہرین حیران ہے کہ نادرا نے بشری بی بی کا اندراج عمران خان اور خاور مانیکا دونوں کی بیوی کے طور پر کیسے کر دیا۔ انکا۔کہنا ہے کہ یہ سراسر۔غیر قانونی ہے اور نادرا کے ریکارڈ میں تصحیح کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بشری بی بی نادرا کے ریکارڈ میں ‘بشری عمران خان’ بننے کے باوجود جو پاسپورٹ استعمال کر رہی ہیں اس پر ان کا نام بشری خاور فرید لکھا گیا ہے اور ان کے شوہر کا نام خاور فرید مانیکا لکھا ہوا ہے۔ یہ پاسپورٹ 2025 تک قابل استعمال ہے۔ لیکن قانونی ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان اور خاور مانیکا نے اپنے اپنے فیملی ٹری میں مائنس پلس کیوں کیا اور کیا اس کا مقصد جائیداد میں حصہ لینا تو نہیں؟

Related Articles

Back to top button