بطور وزیراعظم شہباز شریف کامیاب ہوں گے یا ناکام؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ شہباز سپیڈ کہلانے والے نئے وزیر اعظم نے وفاق میں اپنی جو رفتار دکھانا شروع کر دی ہے وہ لوگوں کے لیے حیرت کا سبب ہے۔ لوگوں کو اس طرح کے وزیر اعظم کی عادت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ ابھی تک شہباز شریف نے نہ کسی خطاب میں عمران خان کو گالیاں دی ہیں نہ ہی ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔ وہ حسب سابق آتے ہی اپنے کام میں لگ گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شہباز کو بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ ان کی کامیابی جمہوریت کی کامیابی گردانی جائے گی اور ان کی ناکامی سے لوگوں کا جمہوریت پر سے اعتبار ختم ہو جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ ایک عہد ستم بیت گیا۔ تاریخ کا ایک تاریک باب بند ہوا۔ نفرت، بہتان، الزام اور جبر کی حکومت تمام ہوئی۔ سیاہ رات گزر گئی۔ سیاست نے ایک نئی کروٹ لی۔ ایک طویل جمہوری جدوجہد کامیاب ہوئی۔ شہباز شریف نے انتہائی مخدوش حالات میں وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ حالات ایسے ہیں کہ نہ خزانے میں کوئی پائی بچی نہ بیرون ملک پاکستان کی کوئی عزت رہی تھی۔ ایک وسیع تر اتحاد نے نئے وزیر اعظم کو قیادت کا منصب سونپا اور جمہوریت کی گاڑی ایک نئے سفر پر نکلی۔ شہباز شریف کی ابھی تک کی پرفارمنس پر بات کرنا اگرچہ نا مناسب ہے کہ چند دنوں میں کسی وزیر اعظم کے کام اور ارادوں کا اندازہ لگانا بہت نا انصافی ہے۔ پھر بھی اب تک کی جو کارکردگی اس پر ایک طائرانہ نظر ضرور ڈالی جا سکتی ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ گزشتہ تاریک دور حکومت میں ہونے والی کرپشن کے بے پناہ ثبوت سامنے آ رہے ہیں اس کے باوجود ابھی تک نہ چور، ڈاکو کا نعرہ بلند کیا گیا ہے، نہ کفر کے فتوے لگائے گئےہیں، نہ ہی بہتان کا بازار گرم کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ چار سال کے اذیت ناک تجربے کے بعد قوم کے بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم تو وہ ہوتا ہے جو نہ آئین کو مانے نہ قانون کی عملداری کرے نہ عدالتوں کے فیصلے کو تسلیم کرے نہ ایوان کو عزت دے۔ عمران خان نے بتایا کہ وزیر اعظم کہلانے کا مستحق وہ ہوتا ہے جو اپنے ہی عشق میں گرفتار رہے۔ جسے نہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کی پرواہ ہو، نہ احباب کی جانب سے ہونے والی کرپشن پر اس کو کوئی شکوہ ہو۔ جو ہر بات کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا اہل ہو، جو کبھی اپنی غلطی تسلیم نہ کرے، جو ہر شخص، جماعت، قاعدے، قانون اور اصول کو اپنی ذات سے ہیچ سمجھے۔ عمران نے قوم کو یہی درس دیا ہے کہ سیاست ان کی ذات کا نام ہے۔ باقی سب چور، ڈاکو اور لٹیرے ہیں صرف خان ہی آئین ہے، خان ہی قانون ہے اور خان ہی عدالت ہے۔ جس قوم کا یہ مزاج گزشتہ چار سالوں میں بنا دیا گیا ہو اس قوم کو شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے سے تسلی نہیں ہو رہی۔
عمار مسعود کے بقول، سوشل میڈیا والے پریشان ہیں کہ ہیں ابھی تک شہباز شریف کی نماز پڑھتے ہوئے ہر اینگل سے لی گئی تصاویر کا اجرا کیوں نہیں ہوا۔ ابھی تک نیب کے تعاون سے موجودہ اپوزیشن کا کوئی ایک بھی رہنما گرفتار کیوں نہیں ہوا۔ ابھی زرخرید اینکروں کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کیوں نہیں ہوا۔ عوام حیران اور پریشان ہیں کہ شہباز شریف نے ابھی تک اپنے ترجمانوں کا انتخاب تک نہیں کیا۔ اب نہ میڈیا پر کوئی فیاض چوہان جیسا بدزبان نظر آ رہا ہے، نہ فردوس عاشق کے خطبات عالیہ سننے کو مل رہے ہیں نہ فواد چوہدری جیسے کسی کی توہین کر رہے ہیں نہ شہباز گل جیسے گالم گلوچ کر رہے ہیں۔ شہباز شریف آتے ہیں جس طرح معیشت کی بہتری، خارجہ تعلقات کی بحالی اور بہتر گورننس میں تن تنہا جٹ گئے ہیں یہ لوگوں کے لیے اچنبھے کی بات ہے۔ ورنہ خان صاحب نے بتایا تھا کام کرنا ہے تو بزدار کی طرح کرو، معیشت کو سمجھنا ہے تو دور جدید کے ارسطو اسد عمر سے سمجھو، خارجہ پالیسی کو سمجھنا ہے شاہ محمود قریشی کی چالبازیوں کے ذریعے سمجھو۔ ہمارا چار سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ وزیر اعظم کو عوامی فلاح سے کوئی غرض نہیں ہوتا، ٹماٹر پیاز کی قیمت کو کنٹرول کرنا اس کے منصب سے کہیں نیچے کی بات ہے۔ اس کا کام تو صبح و شام جھوٹ بولنا ہوتا ہے، مہنگائی کے مارے ہوئے عوام کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ ملک دنیا کا سب سے سستا ملک ہے، اور 150 روپے لیٹر پٹرول بھی قوم پر احسان ہے۔ شہباز شریف پر صرف گورننس اور کارکردگی کا پریشر نہیں۔ ان کو مخلوط حکومت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ سب پارٹیوں کو خوش رکھنا ہے۔ سب کی بات ماننی ہے۔ پنجاب میں گورننس کا معیار اور تھا۔ وہاں وفاقی کابینہ کو نظر انداز کر کے بیوروکریسی پر ڈنڈا چلا کر پراجیکٹ مکمل کیے جا سکتے تھے۔ یہ وفاقی حکومت ہے اور مخلوط حکومت ہے۔ اس کے چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ ایک طرف خان صاحب ہیں جو اس خدشے کے پیش نظر جلد الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے کیسز نہ کھل جائیں اور کرپشن کرپشن کے نعرے کے پیچھے چھپی کرپشن لوگوں کو نظر نہ آ جائے۔ دوسری جانب اتحادی جماعتیں ہیں جس میں سے ہر ایک کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے۔ ان سب کو ساتھ ملا کر چلنا دشوار ہے۔ لیکن ابھی تک سب سہولت سے ہو رہا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ شہباز شریف کسی جگہ اپنی شان میں نعرہ بلند نہیں کرتے۔ وہ پہلے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں پھر نواز شریف کی سیاست اور قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے بعد پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ وہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی پذیرائی کرتے ہیں۔ چین کے سی پیک کو جلد آگے بڑھانے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں۔ امریکہ سے تعلقات کو سراہاتے ہیں۔ کسی ملک کو الزام نہیں دیتے، کسی ملک کو سازشی قرار نہیں دیتے۔ شہباز شریف پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کی کامیابی اس خان صاحب کے تاریک دور حکومت کی بعد جمہوریت کی کامیابی گردانی جائے گی اور ان کی ناکامی سے لوگوں کا جمہوریت پر سےاعتبار ختم ہو جائے گا۔ اقتدار کے ابتدائی چند دنوں سے سب ہی خوش ہیں۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کو ان سے کوئی شکایت ہوئی ہے نہ اتحادی جماعتوں نے کوئی شکوہ کیا ہے، نہ نواز شریف کے نظریے کو انہوں نے کوئی زک پہنچائی ہے نہ آئین کو پامال کیا، نہ عدلیہ کے کسی حکم کو پاؤں تلے روندا، نہ عوام کی شکایات کو نظر انداز کیا ہے۔ سب ہی خوش ہیں سوائے ان بیوروکریٹس کے جن کو آدھی آدھی رات کو شہباز شریف جگا کر کہتے ہیں چلو بھئی کام پر چلیں۔

Related Articles

Back to top button