بے نظیر کی شہادت کے بعد زرداری نے پیپلز پارٹی کیسے بچائی؟

 

جھوٹے مقدمات کے باوجود استقامت اور وقار کے ساتھ بارہ برس طویل قید کاٹ کر سرخرو ٹھہرنے والے مرد حر آصف علی زرداری کو سیاسی بساط کا بادشاہ کہہ لیں، یا سیاست کا مستند بازی گر، یہ طے ہے کہ انہوں نے بحیثیت سیاستدان جو مقام اور رتبہ حاصل کیا ہے وہ شاید ہی کسی اور پاکستانی سیاست دان کے حصے میں آیا ہو۔ اپنے والد حاکم علی زرداری کے برعکس آصف زرداری میدان سیاست کے کھلاڑی نہیں تھے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گے۔ تب سے اب تک اپنی سیاسی دانش سے انہوں نے اپنے سیاسی حلیفوں کو ساتھ ملا کر جس طرح آمر مطلق جنرل مشرف اور اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران خان کو چاروں شانے چِت کیا، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی ساری زندگی اتحاد بنانے، سیاسی تحریکیں چلانے اور حکومتیں گرانے میں گزری۔ یہ سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانے کا فن ہی تھا جس کے بل بوتے پر انہوں نے ایوب خان اور پرویز مشرف جیسے آمروں کے خلاف احتجاجی تحریکیں منظم کیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوابزادہ نصراللہ خان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد  آصف زرداری کو انکی جمہوری روایات کا امین قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ وہ بھی توڑنے کی بجائے جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

زرداری کے مداحین کا اصرار ہے کہ انہوں نے خود کو عقل و فہم اور سیاسی بصیرت کے حوالے سے باقی تمام ساتھی سیاستدانوں سے زیادہ بھاری ثابت کیا ہے، انکا کہنا ہے کہ اگر زرداری نہ ہوتے تو عمران کا اقتدار سے جانا اور شہباز شریف کا وزیراعظم بننا ممکن نہ ہوتا۔ لہٰذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آصف زرداری نے سب سے یاری ڈال کر ایک مرتبہ پھر خود کو سب سے بھاری ثابت کیا ہے۔ ان کی اس صلاحیت کے پیچھے عملی سیاست کی تفہیم کا وہ درس ہے جو کئی دہائیوں کے تجربات سے حاصل کیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں آصف زرداری نے جو وقت جیل کی سلاخوں سے باہر گزارا اس میں ان کا کردار پس منظر میں رہ کر حکمت عملی وضع کرنے کا تھا۔

پیپلز پارٹی کی 2008 میں بننے والی حکومت کے بعد آصف زرداری کی مشہور زمانہ مفاہمت کی سیاست کے جوہر کھلے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی چھٹی کروانے کے بعد دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراک اور تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ اس میں بیشتر وہ سیاسی جماعتیں تھیں جن کے ساتھ ماضی میں پیپلز پارٹی کا بدترین سیاسی دشمنی کا طویل پس منظر موجود تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک روز چوہدری ظہور الٰہٰی خاندان پیپلزپارٹی کے وارثوں کے ساتھ شریک اقتدار ہوگا۔ اسی طرح ولی خان کی جماعت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پرتشدد مخاصمت کو بھول کر سیاسی یکجائی میں آصف زرداری کا تلخیاں بھول کر آگے بڑھنے کا فلسفہ کارفرما تھا۔ ان سب سے بڑھ کر مسلم لیگ ن بالخصوص شریف خاندان اور بھٹو فیملی کے درمیان سیاسی انتقام اور نفرت کے دو دہائیوں پر مشتمل سفر میں مفاہمت کا موڑ بھی انہی کے مرہون منت تھا۔

آخر آصف علی زرداری میں ایسی کون سی خوبیاں ہیں جو انھیں موجودہ دور کے کئی منجھے ہوئے سیاست دانوں سے منفرد بتاتی ہیں؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے، پہلی بات یہ کہ وہ جلد باز نہیں، انکی طبعیت میں ٹھہراؤ ہے، وہ دور اندیش ہیں، اور توڑنے کی بجائے جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں، زرداری مشاورت کے قائل ہیں، خود اعتماد ہیں، وہ برداشت کا وصف رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یاروں کے یار اور انتہائی فراخ دل ہیں۔ اس کے باوجود ان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں رہی اور اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔

جیسے 27 دسمبر 2007  کا وہ اداس دن۔۔جب ان کی شریک سفر اور بلاول، بختاور اور آصفہ کی ماں، عالمِ اسلام کی انتہائی دلیر اور قابل سیاستدان بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ بی بی کی اچانک شہادت نے آصف زرداری کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن انھوں نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ بچوں کو بھی ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے پہلے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا، پھر پیپلز پارٹی کو سنبھالا اور بعد ازاں الیکشن 2008 جیت کر ایک ایسی حکومت قائم کی جس نے پہلی مرتبہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔ اس دوران ان کا سب سے بڑا کارنامہ اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ اور صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنا تھا۔ پھر انہوں نے کمال دانشمندی سے پیپلز پارٹی کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بی بی کے اکلوتے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دی جو اب اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح طرح سیاسی کیریئر کے آغاز میں ہی وزیر خارجہ بن کر اپنی صلاحتیوں کو نکھارنے میں مصروف ہیں۔

Related Articles

Back to top button