تحریک انصاف میں استعفوں کے فیصلے پر شدید اختلافات


تحریک انصاف کے 123 سے اراکین اسمبلی کے استعفوں بارے عمران خان کی کنفیوژڈ حکمت عملی کے باعث اب پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آ گے ہیں اور بہت سارے اراکین اب اسمبلی واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی ائی کے اکثریتی ارکان قومی اسمبلی میں واپسی کے خواہشمند ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کو غلط مشورہ دے کر پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان اراکین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں شہباز شریف حکومت کھل کر کھیل رہی ہے اور من مرضی کے فیصلے کر رہی ہے لہذا ہمیں اسمبلی میں واپس جا کر بجٹ کے موقع پر حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں پارٹی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر کا مؤقف ہے کہ اگر شہباز شریف کے الیکشن کے روز قومی اسمبلی سے استعفے دے کر کارروائی کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو تمام منحرف ارکان ڈی سیٹ ہو چکے ہوتے اور راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر بن کر نہ بیٹھا ہوتا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں سب کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سے استعفے دے کر تحریک انصاف نے سیاسی خودکشی کا راستہ چنا ہے۔ تاہم عمران خان ابھی تک اس حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہیں اور کوئی اور حتمی فیصلہ نہیں کر پائے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم اپنے کسی منتخب رکن کو جعلی اسمبلی میں نہیں جانے دیں گے، کیونکہ یہ جعلی اسمبلی ہے۔ اگر کوئی رکن اسمبلی میں جانا چاہتا ہے تو وہ پارٹی چھوڑ کر چلا جائے۔ لیکن تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری خود بھی استعفی دینے کے حق میں نہیں لیکن عمران کے خوف سے استعفوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ پارٹی کی مرکزی قیادت بھی استعفوں کے خلاف ہے اور عمران کے نائب شاہ محمود قریشی بھی قومی اسمبلی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ استعفوں کے مخالف تحریک انصاف کے کے اراکین کا موقف ہے کہ جب قومی اسمبلی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا تب پارٹی قیادت نے یقین دلوایا تھا کہ نوے روز میں نئے انتخابات ہونے والے ہیں لہذا تمام اراکین اسمبلی نے عمران کے موقف کی تائید کردی تھی۔ لیکن اب جب کہ وفاقی حکومت فوری نئے الیکشن کروانے سے انکار کر چکی ہے، مزید ڈیڑھ برس قومی اسمبلی سے باہر بیٹھنے کا مطلب اپنی سیاست کا خاتمہ کرنے کے مترادف یے۔

یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے ایک روز بعد یعنی 10 اپریل کو فواد چودھری نے کہا تھا کہ ’وزیرِ اعظم کے انتخاب کے بعد پی ٹی آئی ارکان اسمبلی مستعفی ہو جائیں گے۔ نئے انتخابات کے علاوہ موجودہ سیاسی بحران کا اور کوئی حل نہیں ہے۔‘
اُس روز پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 95 فیصد لوگ استعفے دینے کے خلاف ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پارٹی کے اندر استعفوں کے معاملے میں تقسیم پائی جاتی ہے اور اس پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن بینچوں پر نہ بیٹھ کر میدان خالی چھوڑ دیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایوان کے اندر سے حکومت کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہی۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے جب یہ پوچھا گیا کہ استعفے دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے کتنا اہم حربہ ثابت ہو سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’سیاست کے اندر کوئی راستہ سو فیصد نہ درست ہوتا ہے اور نہ ہی غلط۔ یہ موقع کی مناسبت سے منصوبہ بندی ہوتی ہے جو کبھی درست ثابت ہوتی ہے اور کبھی غلط۔ سیاست میں کام کرنے کے کئی راستے ہیں۔ مکمل طور پر کوئی فیصلہ غلط یا صحیح نہیں ہو سکتا۔‘ مگر پی ٹی آئی کے پاس استعفوں کے ذریعے دباؤ کے علاوہ جلد انتخابات کروانے کا کوئی آپشن ہو سکتا تھا؟ اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، البتہ عدم اعتماد سے پہلے اسمبلیاں تحلیل کی جا سکتی تھیں۔ لیکن استعفوں کے ذریعے جلد انتخابات کروانے کا دباؤ پی ٹی آئی نے بدستور رکھا ہوا ہے

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کی تصدیق کے لیے تحریکِ انصاف کے ارکان کو 6 جون کو طلب کیا تھا لیکن عمران خان کی ہدایت کے مطابق کوئی بھی ایم این اے سپیکر کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ انھوں نے پچھلے اسپیکر قاسم سوری کو استعفے دے دیے تھے اور موجودہ سپیکر کو اختیار نہیں کہ وہ ان استعفوں کا جائزہ لے۔ سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا اس حوالے سے کہنا یے کہ ’آئین کا آرٹیکل 64 یہ کہتا ہے کہ جب کوئی رکن تحریری طور پر سپیکر کو اپنا استعفیٰ بھیج دے تو فوری منظور ہو جاتا ہے۔ انکے مطابق جب قاسم سوری نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے تھے تو راجہ پرویز اشریف کو استعفوں کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ قاسم سوری قائم مقام سپیکر تھے اور آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وہ ایک مکمل سپیکر کے آئینی اختیارات رکھتے تھے۔‘ ماہرِ قانون حامد خان کا کہنا تھا کہ استعفوں کی تصدیق کا عمل سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ کسی انفرادی کیس میں مستعفی ہونے والے نے کہا تھا کہ یہ استعفیٰ میرا نہیں۔ اب یہ سپریم کورٹ کی ضرورت ہے کہ سپیکر پہلے بلا کر استعفے کی تصدیق کرے کہ جعلی تو نہیں، یا کسی دباؤ کے تحت تو نہیں دیا گیا۔ لہذا اسپیکر قومی اسمبلی کے لئے مشکل یہ ہے کہ جب تک کوئی مستعفی رکن سامنے آ کر اپنے فیصلے کی تصدیق نہیں کرے گا اس کا استعفی قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Related Articles

Back to top button