جرنیلوں نے چلے جانا ہے لیکن پاکستان نے تو سدا رہنا ہے


معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ ہمارے جرنیلوں نے تو اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو جانا ہوتا ہے لیکن 74 برسوں سے ان کے تجربات کی بھینٹ چڑھنے والے جناح کے پاکستان کو مزید تجربات کی نذر کرنے سے پرہیز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جرنیلوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ریٹائرمنٹ ان کی ہو رہی ہے پاکستان کی نہیں اور اس نے ہمیشہ حاضر سروس ہی رہنا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ گذشتہ برس 15 اگست کو افغان طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ 4 ستمبر کو آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اچانک کابل پہنچے حالانکہ تب تک وہاں کسی باضابطہ حکومت کا وجود نہیں تھا۔ جنرل صاحب نے پاکستانی سفارت خانے میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے نہایت اطمینان سے صحافیوں کا سامنا کیا۔

برطانوی چینل فور کی خاتون صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ سینئر طالبان قیادت سے ملیں گے اور افغانستان بارے آپ کی اب کیا امید ہے؟ جواب میں پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل فیض حمید نے مسکراتے ہوئے کہا ’ڈونٹ وری، ایوری تھنگ ول بھی او کے، یعنی انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ فیض حمید کی جانب سے ادا کردہ اس جملے کو ایک برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا لیکن معاملات بہتری کی بجائے مزید ابتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس عرصے میں افغان طالبان کے بارے میں یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی کہ وہ آرمی پبلک اسکول حملے میں ڈیڑھ سو بچے شہید کرنے والی تحریک طالبان کی سرکردہ قیادت کو پاکستان کے حوالے نہ بھی کریں لیکن سرحد پار سے ان کی مسلح سرگرمیوں کو ضرور روکیں گے۔ افغان طالبان نے تمام تر احسانات یکسر بھلاتے ہوئے پاکستان کو الٹا اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ کالعدم قرار دی گئی ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کرے۔افغان طالبان کے بااثر حقانی نیٹ ورک نے ٹی ٹی پی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت اور جرگے کا اہتمام کیا۔ پاکستانی علما نے کابل کا دورہ کر کے انھیں ریاستی تمناؤں سے بھی آگاہ کیا۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ دو بار جنگ بندی بھی ہوئی اور ٹوٹ بھی گئی۔ اس دوران پاکستانی حکام نے درجنوں گرفتار شدہ ٹی ٹی پی جنگجو رہا بھی کیے۔ کابل اور اسلام آباد کے درمیان سرحدی باڑ اور زمین کی ملکیت کے معاملے پر کئی مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں۔طورخم اور چمن کی سرحد پر تجارت بھی بارہا معطل ہوئی۔ پھر افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے ایمن الظواہری کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستان کی سرزمین سے گزر کے آنے والے امریکی ڈرونز کو قرار دے دیا۔

وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ اب نقشہ یوں ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع سے ویسی ہی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں جو سات برس قبل طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے پہلے آیا کرتی تھیں۔ ٹارگٹ کلنگ، سڑک کنارے نصب بموں کے دھماکے، پاکستانی فوجیوں اور عسکری قافلوں پر حملے تیز تر ہو چکے ہیں۔ خیبر ضلع سے متصل وادی تیراہ میں طالبان کی موجودگی کے سبب مخالف مقامی لوگوں کی دوبارہ نقل مکانی شروع ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں بالخصوص سوات کے پہاڑوں میں مسلح طالبان کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور اغوا کاری انکی واپسی کا عملی اعلان ہے۔ مقامی افراد کو تاوان کی پرچیاں بھیجنے کا عمل تیز تر ہو چکا ہے۔ فوج نے سویلینز کی جو امن کمیٹیاں قائم کی تھیں ان کے ارکان کو چن چن کے نشانہ بنانے کے عمل میں بھی تیزی آ چکی ہے حالانکہ سوات میں ایک فعال فوجی چھاؤنی بھی ڈالی جا چکی ہے۔ جو لاکھوں مقامی باشندے طالبان کے پہلے دور کو بھگت چکے ہیں وہ دوبارہ اس زمانے میں نہیں لوٹنا چاہتے۔ لہٰذا سوات کے مختلف قصبات، جنوبی و شمالی وزیرستان اور دیگر بندوبستی علاقوں میں پرانے دہشتی دور کی ممکنہ واپسی کے خلاف عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں تمام سیاسی جماعتوں کے حامی بلاامتیاز شریک ہیں۔ مگر قومی میڈیا میں ان مظاہروں کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں طالبان کے دورِ اوّل کے آغاز، انجام اور ان کے پشت پناہوں اور فرار کروانے والے کرداروں پر سے پراسراریت کا دبیز پردہ آج تک نہیں اٹھ پایا، اسی طرح یہ بھی پتہ نہیں چل پایا کہ پچھلے چند ماہ میں طالبان کی مختلف علاقوں میں دبے پاؤں مسلح واپسی کس کے کہنے اور کس سمجھوتے کے تحت ہوئی۔یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ سمجھوتہ کس نے کس سے کیا اور اسکا حتمی مقصد کیا ہے؟ وفاقی حکومت، خیبر پختون خوا حکومت اور پارلیمنٹ بھی اس بابت لاعلم ہیں یا خود کو بوجوہ لاعلم ظاہر کر رہے ہیں۔ لیکن اس بار جو بھی تازہ مہم جوئی کا ڈیزائنر ہے وہ شاید گذشتہ دور کی طرح بوتل سے نکلنے والے جن کو بند نہ کر پائے۔

تب بہت زیادہ جانی قربانیاں دے کر ٹی ٹی پی کو سرحد پار دھکیلنے میں جزوی کامیابی اس لیے نصیب ہوئی تھی کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بیساکھیوں پر ضرور تھی مگر آئی سی یو کے بستر پر نہیں تھی۔ تب ایف اے ٹی ایف نے بھی اتنی سختی سے پاکستان کا گلا نہیں پکڑا ہوا تھا۔ تب عمران خان جیسا کوئی ضدی بالم اسٹیبلشمنٹ کی گردن پر پاؤں بھی نہیں رکھ رہا تھا۔ تب فوج کی قیادت ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نیزوں پر بھی نہیں تھی۔ تب وزیرستان اور مالاکنڈ کے بھولے عوام اس یقین دہانی پر بے گھر ہونے کے لیے بھی آمادہ تھے کہ آپ علاقہ خالی کریں تاکہ ہم باریک کنگھی پھیر کر دہشت گردی کی تمام جوئیں مار سکیں۔ تب 2010 کا سیلاب ضرور آیا تھا مگر 2022 میں پاکستان کے سر سے گزرنے والی آبی قیامت کا تصور بھی نہیں تھا۔ تب کے سیلاب نے آج کی ماحولیاتی قیامت کی طرح بیڈ گورنننس کے سارے کپڑے اتار کر کندھے پر نہیں رکھ دیے تھے۔ گویا حالات آج کے برعکس بہت غنیمت تھے۔ اسی لیے آپ نے سابق قبائلی علاقوں اور بندوبستی اضلاع میں شدت پسندی کے خلاف کامیاب آپریشن بھی کر لیے۔ اب یہ تھوڑی بہت عیاشی بھی نہ آپ کو میسر ہے نہ ہی ریاستِ پاکستان کو۔ وسعت اللہ خان مطالبہ کرتے ہیں کہ اس صورت حال میں ذومعنی و تجریدی و علامتی گفتگو کے بجائے سیدھے سیدھے بتایا جائے کہ طالبان کی واپسی کیوں اور کس سمجھوتے کی کِن کِن شرائط کے تحت ہو رہی ہے۔ اس کے ملک و قوم کو کیا فوائد ہوں گے اور خود آپ کو کیا فیض پہنچے گا؟

اور کیا ایک برس بعد بھی فیض حمید کا یہ جملہ بامعنی ہے کہ ‘آپ فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وسعت اللہ فوجی جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں آپ سب تو باری باری ریٹائر ہو کے سائیڈ پر ہو جاؤ گے، پاکستان تو حاضر سروس ہی رہے گا نا۔

Related Articles

Back to top button