جسٹس ثاقب نثار نے کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کیسے کالا کیا؟

https://youtu.be/fi_qPwC957E
پاکستان کے متنازع ترین چیف جسٹس میاں ثاقب نثار عرف بابا رحمتے کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا ہے جس کے مطابق انہوں نے ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ پہلے اپنے لئے خصوصی مراعات کا ایک بڑا پیکج کپتان حکومت سے منظور کروایا جس کا فائدہ اب وہ بطور ریٹائیرڈ چیف جسٹس اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی عدالتی تاریخ میں اس سے پہلے ریٹائیرمنٹ کے بعد کسی جج کو اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری مراعات ملنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا یے کہ انکشاف ہوا ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی فل کورٹ سے اپنے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ہوشربا اضافی سہولتوں اور مراعات کی منظوری حاصل کی تھی جنکی بعد میں وفاقی حکومت نے بھی منظوری دیدی حالانکہ وزارت قانون اور خزانہ نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ خصوصی مراعات کے اس پیکج کے تحت چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی تنخواہ کا 85 فیصد حصہ ہر مہینے بطور پنشن وصول کر رہے ہیں جو کہ 10 لاکھ روپے بنتا ہے۔ اس خصوصی پیکیج کے تحت ثاقب نثار نہ صرف ریٹایئرمنٹ کے بعد 10 لاکھ روپے ماہانہ پینشن حاصل کر رہے ہیں بلکہ انہیں فری بجلی، ٹیلی فون، گیس اور پانی کی سہولیات بھی حاصل ہیں جن کا بل حکومت پاکستان ادا کرتی یے۔ اس کے علاوہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر ایک پرائیویٹ سیکرٹری، ایک اردلی، ایک ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈز بھی مہیا کیے گئے ہیں۔ اس کیس کی سرکاری فائل کے مطابق جو کہ تب کے ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ نے تیار کی تھی، وزسرت قانون اور وزارت خزانہ نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ماضی میں کسی بھی چیف جسٹس کو اتنے بڑے پیمانے پر ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری مراعات دینے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
یہ سمری اگست 2018ء میں وزارت قانون نے منظوری کے لیے وزیراعظم آفس کو بھیجی، جس میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے 7 جولائی، 2018 کو ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا گیا تھا۔ سمری میں کہا گیا کہ فل کورٹ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو ریٹایئرمنٹ کے بعد یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سمری میں یہ بھی کہ کہا گیا کہ دیگر مراد کے علاوہ ریٹائرڈ چیف جسٹس کو ایک پرائیویٹ سیکرٹری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جس کی تنخواہ سپریم کورٹ کے بجٹ سے ادا کی جائے گی۔ لیکن وزارت قانون نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے کہ کسی ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری یا 22 گریڈ کے افسر کو 16 گریڈ کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی خدمات سرکاری اخراجات پر فراہم کی جائے۔ لیکن پھر وزیر قانون کو اوپر سے احکامات ملے تو یہ سمری وزارت خزانہ کو بھجوا دی گئی۔ لیکن وزارت خزانہ کی ریگولیشن ونگ نے بھی سپریم کورٹ کی تجویز پر اعتراضات لگا دیے۔ ریگولیشن ونگ نے کہا کہ سپورٹ اسٹاف بطور ایڈیشنل پرائیویٹ سیکرٹری یا پرائیویٹ سیکرٹری فراہم کرنے کی سہولت صرف حاضر سروس سینئیر ترین افسران کے لیے ممکن ہے لیکن ریٹائرڈ افسران کے لیے ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کی فائل میں لکھا گیا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججوں بشمول چیف جسٹس پاکستان کو پنشن کی مد میں ہینڈسم رقم اور متعدد سہولیات فراہم کررہی ہے، جب کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ نجی مقاصد کے لیے سپورٹ اسٹاف کی سہولت حاصل کرے کیوں کہ ان کا مقصد حکام کے دفتری امور انجاد دینا ہوتا ہے جو کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔
وزارت خزانہ نے مذید کہا کہ اگر اس تجویز کی منظوری دی جاتی ہے تو اسطرح کے مطالبات دیگر آئینی اداروں بشمول وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹس، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین نیب اور پہلے سے ریٹائرڈ اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان وغیرہ کی جانب سے بھی کیے ج اسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وفاقی حکومت ان مطالبات کو رد نہیں کرسکے گی۔ وزارت خزانہ نے اپنے رائے میں لکھا کہ درج بالا وجوہات کے سبب یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ فنانس ڈویژن اس تجویز کی حمایت نہ کرے اور اسے رد کر دے۔
اس کے بعد جب یہ فائل فنانس سیکرٹری کو بھجوائی گئی تو انہوں نے اس پر بات کرنے کا کہہ کر اسے واپس ایڈیشنل فنانس سیکریٹری ریگولیشن کو بھجوا دی۔ اوت جب ان کی بات ہوگئی تو وزارت خزانہ نے حیران کن طور پر اپنا موقف تبدیل کر لیا اور ایڈیشنل فنانس سیکریٹری ریگولیشن، جنہوں نے پہلے سپریم کورٹ کی تجویز منظور نہ کرنے کی تائید کی تھی اور اعتراضات اٹھائے تھے، نے بھی اس تجویز کی حمایت کر دی۔ انہوں نے فائل پر لکھا کہ میری فنانس سیکرٹری سے بات ہوئی ہے اور انکا کہنا یے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور چونکہ آئینی عہدے رکھنے والے صدر پاکستان اور صوبائی گورنرز کو ریٹائرمنٹ کے بعد پرائیویٹ سیکرٹریز فراہم کیے جاتے ہیں تو ہمیں چیف جسٹس کے لیے بھی ایسا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بعد ازاں سیکرٹری فنانس نے 18 ستمبر، 2018 کو اس سمری کو منظور کرلیا اور اگلے ہی روز وزارت خزانہ نے وزیراعظم آفس کو اس سمری پر کوئی اعتراض نہ ہونے سے آگاہ کردیا۔
یوں عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے راستہ ہموار کرنے والے چیف جسٹس ثاقب نثار کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے سنہ 1997 کے صدارتی آرڈر نمبر 2 میں سنہ 2018 میں ایک ترمیم کر دی جو کہ اعلیٰ عدالتوں کی پنشنز اور مراعات سے متعلق تھا، تاکہ جسٹس ثاقب نثار کو ان کی ریٹائرمنٹ پر درج ذیل سہولیات فراہم کی جا سکیں:
۱) بطور چیف جسٹس اپنی تنخواہ کا 85 فیصد حصہ بطور ماہانہ پنشن وصولی کی سہولت۔
۲) کم قیمت پر سرکاری گاڑی خریدنے کی سہولت
۳) تین ہزار مفت لوکل کالز ماہانہ کے ٹیلی فون بل کی ادائیگی کی سہولت
۴) دو ہزار یونٹس ماہانہ مفت بجلی فراہمی کی سہولت
۵) پچیس ہیکٹو میٹرز یونٹس ماہانہ مفت گیس فراہمی کی سہولت
۶) پانی کی مفت فراہمی کی سہولت
۷) ماہانہ تین سو لٹر پٹرول فراہمی کی سہولت
۸) ایک ڈرائیور اور ایک اردلی یا پھر جج صاھب چاہیں تو ڈرائیور اور اردلی کی تنخواہ اور انہیں ملنے والے وہ تمام الائونسز اور سہولتوں کو ملا کر اسپیشل اضافی پنشن وصول کر سکتے ہیں۔
۹) چوبیس گھنٹے کیلئے ریٹائرڈ جج کی رہائش گاہ پر سیکورٹی گارڈز کی فراہمی کی سہولت۔
یاد ریے کہ ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں، خفیہ ایجنسیوں کا ایجنڈا لے کر چلنے اور اپنے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ مثلاً انھوں نے نہ صرف نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ عمران خان کو ایک کیس میں صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ بھی عطا کر دیا۔ اسکے علاوہ بابا رحمتے کہلوانے والے ثاقب نثار نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے راستہ بھی ہموار کیا۔ ثاقب نثار بطور چیف جسٹس اپنا اصل کردار ادا کرنے کی بجائے غیر ضروری طور پر ادھر ادھر کے معاملات میں منہ مارتے رہے جیسا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ کا قیام، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات، آبادی کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، ہسپتالوں کی صفائی وغیرہ۔ یہ ایسے کام تھے جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ان کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔
ان مسائل کے حل کے لیے زیادہ تر از خود نوٹسز کا سہارا لیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس ایک ایسا ہتھیار ہے جسے کسی بھی وقت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے استعمال کے بارے میں وکلا کی رائے بھی منقسم ہے۔ جہاں انہوں نے بہت اہم مقدمات میں از خود سماعت کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان پر فیصلے کیے وہیں ان کے دور میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد اگر کسی چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کی ہے تو وہ خود ثاقب نثار تھے۔
اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔ دورۂ سندھ کے دوران اُنھوں نے لاڑکانہ کی ایک بھری عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ کئی دن تک ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر زیرِ بحث رہا اور پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا استعفیٰ بھی سامنے آیا۔جعلی اکاونٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے کے مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو مجبور کرتے رہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو اُن کے تمام مقدمات نمٹا دیے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس ان کے دور میں سپریم کورٹ نیب کی طرف سے پلی بارگین کے طریقۂ کار کے خلاف بھی رہی اور عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ قانون بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اُنھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح سستی شہرت کے حصول کے لیے میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو ایسے ٹکرز بھیجے جاتے ہیں جیسے کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے میں رہتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ میاں ثاقب نثار کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کو بھی پروٹوکول ڈیوٹی دینے پر مجبور تھی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے خلاف جتنے بھی فیصلے آئے وہ سب چیف جسٹس کے صاحبزادے نے اس گیلری میں بیٹھ کر سنے جو کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد فل کورٹ ریفرنس کے لیے ان کے خاندان کے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے۔
میاں ثاقب نثار کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔ میاں ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف کو مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد جب صحافیوں نے احتساب عدالت میں نواز شریف سے ثاقب نثار کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے جواب میں صرف حضرت علی کا قول دہرایا تھا کہ’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو’۔
مبصرین کے مطابق ثاقب نثار کے دل میں بھی پاک فوج کے سیاسی کردار کے لیے اتنا ہی احترام ہے جتنا عمران خان کے دل میں ہے اس لیے وہ بھی اپنے دور میں بطور چیف جسٹس فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کو بھی فوج دشمنی گردانتے تھے۔ ادی لیے جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو بحیثیت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل، ثاقب نثار نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ججز کے خلاف پاکستان کی عدالتی تاریخ کی مختصر ترین کارروائی کے بعد شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا۔ لیکن کوئلوں کی دلالی کرتے ہوئے بابر رحمتے نے اپنے منہ پر جو کالک ملی تھی اسکی سیاہی یہ تازہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد مزید گہری ہو گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button