جنرل باجوہ اور عمران خان بے وفا تھے یا بد چلن اور بد کردار

سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ایک دوسرے پر بے وفائی کے الزامات کے پیش نظر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ہی بد چلن اور آوارہ تھے۔ اب یوں لگتا ہے جیسے جنرل باجوہ معروف فلمی ولن اسلم پرویز کی طرح اپنی ہیروئن یعنی عمران خان کو شراب پلا کر اس کا فائدہ اٹھاتے رہے، اور اب ہیروئن کو گھر جا کر یاد آیا یے کہ اسکے ساتھ دھوکے سے زیادتی کی گئی ہے۔ حالانکہ در حقیقت بد چلنی کی یہ آگ چار برس تک دونوں جانب بھڑکتی رہی اور جسم و جاں پگھلتے رہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی کہتے ہیں کہ دراصل عمران خان کے منہ سے اپنے سیاسی والد جنرل قمر باجوہ کو ڈبل گیم کا طعنہ دینا کچھ خاص جچتا نہیں کیوں کہ خان صاحب خود اس فیلڈ کے ماسٹر سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی جوانی کے دنوں میں ہی خان صاحب نے لندن کی اشرافیہ میں ڈبل گیم کے حوالے سے بڑا نام کما لیا تھا، اور سیاسی میدان میں آنے کے بعد تو ان کے ’فن‘ میں بے پناہ نکھار آیا، اوروں کو چور ڈاکو کہنے والے خان صاحب توشہ خانہ سے نمک دانیاں بھی اٹھا کر گھر لے گئے، آپ اسے کیا کہیں گے؟ باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دینا اور پھر انہیں تاحیات آرمی چیف بنانے کی پیشکش کرنا، آپ اسے کیا کہیں گے؟ موصوف پہلے امریکا کا گریبان پکڑتے ہیں پھر امریکی سفیر کے پائوں پکڑتے ہیں، آپ اسے کیا کہیں گے؟ خدا جھوٹ نہ بلوائے، اسی کو ڈبل گیم کہتے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ عمران خان نے بھی باجوہ صاحب کو ڈبل گیم کا طعنہ دیا ہے، یعنی ایک طرف تو باجوہ صاحب صبح شام عمران خان کو اپنی وفا کا یقین دلا رہے تھے، اور دوسری طرف عین اسی وقت رقیبوں پر دُونا التفات فرما رہے تھے، یہ قضیہ مونس الٰہی کے ایک بیان سے کھڑا ہوا جس میں انہوں نے یہ راز فاش کیا کہ تحریکِ عدم اعتماد کے موقعی پر انہیں باجوہ صاحب نے عمران کے ساتھ سنجوگ باندھنے کا مشورہ دیا تھا، پھر پرویز الٰہی نے جنرل باجوہ کی تائید میں فرمایا کہ ہم تو گمراہ ہو چکے تھے، اور پی ڈی ایم سے معاہدہ کر بیٹھے تھے، مگر جنرل صاحب نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا، اسی لیے ابھی پی ڈی ایم سے معاہدے کی خوشی میں کھائی مٹھائی کا شیرہ ہماری رگوں میں رواں تھا کہ ہم بنی گالا جا پہنچے۔

حماد غزنوی کے بقول، سوال یہ ہے کہ کیا اس کہانی کے سب فریق ڈبل گیم کھیل رہے تھے؟ پرویز الٰہی تو اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ پہلے میں نے ایک فضائی بوسہ پی ڈی ایم کی طرف اچھالا، اور ساتھ ہی پی ٹی آئی کو تین دفعہ ’قبول ہے‘ کہہ دیا، اسی طرح عمران خان ایک طرف باجوہ صاحب سے وفائوں کا صلہ مانگ رہے تھے اور دوسری جانب ان کا تختہ الٹ کر فیض حمید کو تختِ دل پر سرفراز کرنے کے لیے کوشاں تھے، رہ گئے باجوہ صاحب تو ان پر تو باقاعدہ آوارگی کا الزام ہے، یعنی پہلے انہوں نے اسیرِ زلفِ جمہوریت کے طور پر شہرت بنائی، جس کے نتیجے میں نواز شریف نے انہیں سپہ سالار تعینات کر دیا، پھر انہوں نے عمران خان کی خاطر آئین و قانون کا کچومر نکالا، عدلیہ کی مشکیں کسیں، نیب کے ہاتھ میں تلوار تھمائی اور اپوزیشن کے قتلِ عام کا اشارہ کیا، 2018 میں فحش انتخابات منعقد کروائے اور عمران خان کو حکم ران بنا دیا، پھر جب اس برس عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو باجوہ صاحب نے باپ پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کو کچھ اشارہ کیا اور پنجاب میں پرویز لٰہی کو کچھ اشارہ کر دیا، تاکہ مسلم لیگ کو پنجاب میں نکیل ڈالی جا سکے۔ اسی لیے عدلیہ کے پنجاب حکومت کے حوالے سے کئے گے فیصلے بھی اب سمجھ میں آتے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے پہلے اعلان کیا کہ مذید ایکسٹینشن نہیں لوں گا، لیکن پھر ایکسٹینشن لینے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ اندر کی خبر یہ بھی ہے کہ باجوہ صاحب نے چار سینئر جرنیلوں سے آرمی چیف بنانے کا وعدہ کر رکھا تھا، اب یہ تو ڈبل گیم سے بھی آگے کی کوئی چیز ہے، اس کردار کے لیے ’بدچلنی‘ کے سوا کوئی لفظ ذہن میں نہیں آ رہا۔ باجوہ کی ڈبل گیم کی تشریح کرتے ہوئے عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے، یہ سن کر ہمارے ذہن میں بہت سی پرانی فلموں کے سین ابھر رہے ہیں جن میں اسلم پرویز ہیروئین سے شادی کا وعدہ کر تا تھا، پھر پارٹی میں بلاتا تھا اور کوکا کولا میں شراب ڈال کر پلا دیتا تھا، بالآخر ہیروئن روتے ہوئے گھر آتی اور اپنی ماں کو بتاتی کہ اس کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ ہمیں تب بھی یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہیروئن ایک مسلمہ بدچلن شخص پر کیوں کر بھروسہ کر لیتی تھی، اور ہمارا آج بھی یہی سوال ہے کہ خان صاحب آپ سے کس نے کہا تھا کہ اسلم پرویز پر بھروسہ کریں؟

کیا آپ نے پرانی پاکستانی فلمیں نہیں دیکھیں؟ آپ اسلم پرویز کے کردار سے واقف نہیں ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ سکندر مرزا نے 1958 میں ایوب خان کے ساتھ مل کر مارشل لا لگایا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں میں جب کوئی بڑا عوامی ردِ عمل سامنے نہیں آیا تو سکندر مرزا ایک غیر ضروری بوجھ لگنے لگا، لہٰذا اسلم پرویز نے، معاف کیجیے گا، ایوب خان نے مرزا صاحب کو دھوکہ دینے میں دم بھر کی تاخیر نہیں کی تھی۔ پھر آنے والے برسوں میں اس فلم کے کئی ری میک بنے، ہر بار ہیروئن کے ساتھ یہی دھوکہ کیا گیا، لیکن نہ ہیروئن باز آئی اور نہ ہی ولن سُدھرا۔ یعنی بد چلنی کی آگ دونوں جانب بھڑکتی رہی اور جسم و جاں پگھلتے رہے۔

Related Articles

Back to top button