جنرل باجوہ کی زیر قیادت فوج دوبارہ سیاسی ہو گئی؟


باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی قیادت عمران خان کا دباؤ قبول کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست میں متحرک ہوگئی ہے جس کا بڑا ثبوت جنرل قمر باجوہ اور عمران خان کے مابین حال ہی میں ہونے والی دو ملاقاتیں قرار دی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل پچھلے برس فوجی ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ پاک فوج اور اسکی قیادت مکمل طور پر غیر جانبدار اور نیوٹرل ہو چکی ہے اور وہ کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ فوجی قیادت کے اس اعلان کے فوری بعد پی ڈی ایم اتحاد نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی تھی۔ یہی وہ موقع تھا جب عمران نے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے پر ردعمل دینا شروع کیا اور یہ بھی کہہ ڈالا کہ نیوٹرل تو صرف جانور ہوتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر ان کا ساتھ دے اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائے۔ لیکن چونکہ ان کی حکومت کو بچانے اور چلانے والے آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کا تبادلہ ہو چکا تھا لہذا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پاس ہو گئی اور خان صاحب کو گھر جانا پڑا۔ دوسری جانب عمران کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ پر حملوں میں تیزی آ گئی اور انہوں نے جنرل باجوہ کو مختلف القابات سے نوازتے ہوئے دباؤ مزید بڑھا دیا۔

عمران کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ فوج فوری طور پر الیکشن کروائے اور اسٹیبلشمنٹ باطل حکومت کی بجائے انکے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ اب تحریک انصاف کے ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے جس کا بڑا ثبوت جنرل باجوہ اور عمران کے مابین اوپر تلے ہونے والی دو حالیہ ملاقاتیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر ایسی گھمبیر صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ حکومتی شخصیات سمیت فوجی جرنیل بھی حیران و پریشان ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ حالانکہ فوجی ترجمان نے اس برس اپریل میں واضح اعلان کیا تھا کہ جنرل قمر باجوہ اب مزید ایکسٹینشن لینے کے خواہاں نہیں لیکن سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انہیں اگلے الیکشن تک برقرار رکھنے کی تجویز آنے کے بعد سیاسی بے یقینی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ کچھ حکومتی حلقے تو اب یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ واقعی اپنے عہدے میں مزید توسیع کا ذہن بنا چکے ہیں اور اسی سلسلے میں ان کے ایک قریبی عزیز لندن پہنچ چکے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے اور وزیراعظم پر ہر جانب سے دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے اس لیے انہوں نے لندن میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ملاقات کا پروگرام بنا لیا ہے تاکہ کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

لیکن زیادہ حیران کن اور حکومت کے لیے پریشان کن خبر یہ ہے کہ پچھلے چھ مہینے سے جنرل باجوہ کے خلاف زہریلا ترین پروپیگنڈا کرنے والے عمران نے حالیہ دنوں میں آرمی چیف سے دو خفیہ ملاقاتیں کی ہیں جن میں سے ایک ملاقات میں سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شامل تھے۔ سینئر صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ باجوہ اور عمران کی پہلی ملاقات ایوان صدر میں عارف علوی کی موجودگی میں ہوئی جو 15 منٹ ہی جاری رہ سکی اور اس کا انجام تلخی پر ہوا جس کی وجہ عمران کا جارحانہ رویہ تھا۔ تاہم نااہلی کے خطرات میں گھرے ہوئے عمران خان نے اپنی کوتاہی کا مداوا کرنے کے لیے پہلی ملاقات کے فورا ًبعد کامران خان سے انٹرویو میں جنرل باجوہ کو اگلے الیکشن تک اپنے عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز پیش کر دی تا کہ نئی حکومت نئے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کر سکے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے بعد جنرل باجوہ اور عمران کے معاملات میں بہتری آئی اور جنرل فیض حمید کے توسط سے خان صاحب اور آرمی چیف کے مابین ایک اور ملاقات ہوئی جو کافی خوشگوار رہی۔سینئر صحافی اسد طور نے اس ملاقات کے حوالے سے دعوی ٰکیا ہے کہ جنرل فیض حمید اپنی گاڑی میں جنرل باجوہ کو لے کر عمران خان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ باہمی گلے شکوئوں کے بعد اگلے الیکشن تک جنرل باجوہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز پر گفتگو ہوئی۔ اسد طور کے مطابق یہ تجویز بھی زیر غور آئی کے اگلے الیکشن فوری طور پر کروائے جائیں اور جنوری میں اسمبلیاں توڑ دی جائیں تاکہ اپریل 2023 میں جنرل فیض حمید کی بطور جرنیل ریٹائرمنٹ سے پہلے نئے الیکشن کا انعقاد ہو جائے۔ اسد طور نے بتایا کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو عمران ممکنہ طور پر اگلے الیکشن جیت کر جنرل فیض حمید کو آرمی چیف مقرر کر سکتے ہیں۔ یعنی اس فارمولے کا بنیادی مقصد عمران کو ایک مرتبہ پھر برسراقتدار لا کر فیض حمید کو آرمی چیف بنانا ہے اور اس سارے کھیل میں جنرل باجوہ کو استعمال کیا جائے گا۔

لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گیم پلان دیوانے کا خواب لگتا ہے کیونکہ پی ڈی ایم نے عمران کو اقتدار سے اس لیے نہیں نکالا تھا کہ عمران خان کی ناکامیوں کا مدعا اپنے سر ڈالنے کے بعد اسے دوبارہ اقتدار میں آنے دے۔ تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ عمران کو نومبر 2022 سے پہلے وزارت عظمیٰ سے نکالنے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ انہیں جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانے سے روکا جائے۔ ایسے میں عقل یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو اس لئے اقتدار سے نکلنے دیا تھا کہ ان کی ناکامیوں کا بوجھ پی ڈی ایم کے کھاتے میں پڑ جائے اور وہ ان کو نہلا دھلا کر ایک مرتبہ پھر اقتدار میں لے آئیں تاکہ وہ فیض حمید کو اپنا آرمی چیف بنا لیں۔ نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آرمی چیف عمران سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں تو یہ مناسب نہیں کیونکہ انہوں نے فوج کو سیاست میں نیوٹرل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ویسے بھی اگر وہ عمران خان کی جانب سے خود کو جانور اور غدار قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ ان سے کوئی خفیہ سمجھوتہ کرتے ہیں تو اس سے ان کی عزت میں اضافہ نہیں ہو گا۔ تاہم جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی وہ کوئی گیم کھیل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ اپنی کمٹمنٹ کے عین مطابق مکمل غیر جانبدار ہیں اور ان کا اپنے عہدے میں مزید توسیع لینے کا بھی کوئی ارادہ نہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر جنرل باجوہ واقعی غیر سیاسی ہو چکے ہیں تو انہیں حکومت کے مخالفین سے خفیہ ملاقاتیں کرنے کی بجائے الوداعی ملاقاتوں کا آغاز کرنا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button