پی ڈی ایم حکومت گرانے کی سازش میں کون کون شامل ہے؟

حکمران اتحاد نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کو فٹ بال بنائے جانے کے بعد فوج اور عدلیہ کو چیلنج کرنے اور سخت ترین ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو گرانے کی کوششیں ناکام بنائی جا سکیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق 13 جماعتی حکومتی اتحاد کو یقین ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کرنا کے لیے فوج اور عدلیہ میں موجود چند مخصوص کردار باقاعدہ سازش کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بار بار قائم ہونے والی حکومت کو کام نہیں کرنے دیا جائے رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف تحریک کی قیادت بظاہر تو عمران خان کر رہے ہیں لیکن افسوس ناک حقیقیت یہ ہے کہ چند حاضر سروس فوجی جرنیل اور سپریم کورٹ کے کچھ سینئر جج بھی حکومت گرانے کی سازش میں پوری طرح ملوث ہیں لیکن ان اداروں کے سربراہ خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق جارحانہ حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق 13 جماعتی حکومتی اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اب دید لحاظ کی بجائے وہی انداز اور رویہ اپنایا جائے گا جس کے ذریعے عمران خان اداروں کو دباؤ میں لاتا ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کراتا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے باوجود حمزہ شہباز کو حکومت نہیں کرنے دی جا رہی ہیں اور عدلیہ کے ذریعے جان بوجھ کر سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ فوری نئے الیکشن کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک جانب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کا کیس لگا رکھا ہے اور دوسری جانب صدر عارف علوی نے نئی حکومت بنانے کی تجویز دیدی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گندا کیا کھیل جا رہا ہے۔
چنانچہ ان حالات میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب پہلی مرتبہ جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ اگر عدالت نے حمزہ شہباز کے خلاف فیصلہ دے کر اپنی پچھلے فیصلے کی دھجیاں بکھیریں تو پھر اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک اور قوم کے ساتھ مسلسل مذاق کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے موجودہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی بھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے رفقاء سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اداروں کیخلاف مہم جوئی کر کے دبائو میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، ایسے میں حکمران اتحاد کے پاس کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، لیکن سیاست میں بڑھتی تلخی پر سیاسی حلقے فکر مند ہیں، کیونکہ اب سے پہلے صرف عمران نے ہی جارحانہ رویہ اپنایا ہوا تھا اور حکومتی جماعتوں کی جانب سے دفاعی حکمت عملی اپنائی جا رہی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کھل کر میدان میں آتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ دونوں کو اپنی حدود میں رہنے کی وارننگ دے دی ہے۔ مولانا نے کہا کہ اتحادی حکومت کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے معیشت تباہ ہو رہی ہے اور ریاست کمزور ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سازشوں میں کسی بیرونی دشمن کے ہاتھ نہیں بلکہ ہمارے اپنے ادارے ملوث ہیں، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومت کو حکومت کرنے دی جائے جوکہ اس نے چیلنج کے طور پر قومی مفاد میں سنبھالی تھی۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سازشی ٹولہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف سازش کر رہا ہے کیونکہ حکومت پاکستان کو مکمل معاشی تباہی سے بچانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے لیکن مسلسل سازشیں سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں جس سے معیشت بگڑتی جا رہی ہے۔
لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے الیکشن کو متنازعہ بنانے پر صرف پی ڈی ایم جماعتیں ہی ردعمل نہیں دے رہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس مقبول باقر بھی بول پڑے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کے کیس کو دوبارہ ججوں کے ایک مخصوص بینچ کے سامنے لگانے کی بجائے فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے تاکہ ایک متوازن عدالتی فیصلہ آ سکے، چیف جسٹس خود کو سپریم کورٹ سمجھنا چھوڑ دیں اور تمام متنازع سیاسی کیسز بار بار چند مخصوص ججوں کے سامنے لگانے کا سلسلہ بند کریں تاکہ اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ بحال ہو سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب موجودہ اتحادی حکومت کے خلاف ہونے والی سازش کے ٹھوس شواہد ملنا شروع ہو گئے ہیں جس کا بنیادی مقصد نومبر 2022 سے پہلے الیکشن کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ خیال رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سازشی نظریے کے مطابق الیکشن 2018 میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے بعد عمران کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لانے والا اسٹیبلشمنٹ کا مخصوص ٹولہ نمبر سے پہلے نہیں الیکشن کروا کر عمران کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی خواہش کے مطابق سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف لگا سکیں۔ حکومتی اتحاد کا یہ الزام ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے چند سینئر جج باقاعدہ اسٹیبلشمنٹ کے اس سازشی ٹولے کے ایما پر کام کر رہے ہیں جو حکومت کو گرانا چاہتا ہے۔ اس لئے پنجاب حکومت کو کھڑا نہیں ہونے دیا جا رہا اور مسلسل سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے جس کا واضح ثبوت صدر عارف علوی کی جانب سے آنے والی یہ تجویز یے کہ فوری نئی حکومت قائم کی جائے۔
دوسری جانب فوجی ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ فوج کے ادارے کی جانب سے کسی بھی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کروانے یا معاملات ٹھیک کرانے کے لیے کسی سافٹ مداخلت کی کوئی تجویز نہیں دی گئی اور اس حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ سازش پورے زوروں پر ہے لیکن اس مرتبہ سازشیوں کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ انہیں منہ توڑ جواب بھی دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اگر وہ عمران خان کی ناکامیوں کا ملبہ اٹھاتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو لے کر آگے چلے گی اور اسکے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آئے گا تو اسے قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔
یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو اپنی معیاد مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ایسے میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فوج اور عدلیہ میں موجود سازشی عناصر حکومت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ اسے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھیں۔

Related Articles

Back to top button