حکیم ثناءاللہ نے لانگ مارچ روکنے کے لیے کیا نسخہ تیار کیا ہے؟


نا اہلی کے خطرے سے دوچار عمران خان کی جانب سے ہفتے سے حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کرنے کے اعلان کے بعد وزیر داخلہ حکیم ثناء اللہ خان کی زیر نگرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کاؤنٹر سٹریٹیجی تیار کرتے ہوئے اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کردی ہے اور کپتان کے عمرانڈوز اور یوتھیوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سخت ہتھکنڈے اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے ایک روز پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر بڑا حملہ کر دیا اور اس جانور کا نام لے لیا جسے وہ نیوٹرل کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شیروں کی فوج کا لیڈر ایک گیدڑ ہوگا تو وہ کبھی جنگ نہیں جیت پائے گی۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ اگر گیدڑوں کی فوج کا لیڈر ایک شیر ہو گا تو وہ ہر صورت جنگ جیتے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دراصل شیر اور گیدڑ کا موازنہ کرتے ہوئے خود کو شیر سے تشبیہ دی اور جنرل قمر باجوہ کے لیے گیدڑ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس تقریر سے ایک ہفتہ پہلے ہی یو ٹرن خان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگلے الیکشن تک جنرل باجوہ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے، لیکن جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ آرمی چیف اپنے عہدے میں مزید توسیع حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران کی اس تجویز کا بنیادی مقصد حکومت اور طالبان کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنا اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو تنازعے اور تاخیر کا شکار کرنا تھا لیکن یہ کوشش ناکام ہو جانے کے بعد خان نے مایوسی کے عالم میں دوبارہ فوجی قیادت پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

حکومت کی جانب سے فوری الیکشن کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں ہفتے سے لانگ مارچ شروع کرنے کی عمرانی وارننگ کے بعد اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد کے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی سخت کردی ہے اور شہر میں داخل ہونے والی بسوں اور ویگنوں کی تلاشی لی جا رہی۔ 25 مئی کے ناکام لانگ مارچ کے دوران عمرانڈوز اور یوتھیوں کو ڈنڈے سے سبق سکھا کر حکیم ثنااللہ کا لقب حاصل کرنے والے وزیر داخلہ نے ایک مرتبہ پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ لانگ مارچ کرتے ہوئے ڈی چوک تک پہنچنے کی کوشش کریں گے ان کی تشریفیں لال و لال کر دی جائیں گی اور ہر جانب سے ‘لال ہے، لال ہے’کی صدا بلند ہوتی سنائی دے گی جیسا کہ پچھلی مرتبہ بھی ہوا تھا۔ حکیم صاحب نے مزید فرمایا کہ لانگ مارچ کی حمایت کر کے وفاق کے خلاف بغاوت کے مرتکب ہونے والے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے ریڈ زون کے اطراف میں کنٹینرز لگا کر سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق بظاہر پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت کی پولیس نے صوبوں اور پیرا ملٹری فورسز سے بھی اضافی نفری طلب کر لی ہے تاکہ لانگ مارچ کرنے والوں سے سختی کیساتھ نمٹا جائے۔ وزیر داخلہ کے حکم پر امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے ریڈ زون کے علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔اپنے ایک ٹوئٹ میں اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ پنجاب سے کچھ لوگ اپنے سیاسی مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب آ رہے ہیں اس لیے شہر کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں قانون ہاتھ میں لینے سے روکا جا سکے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دھمکی دی ہے کہ جن صوبوں نے پی ٹی آئی کے دارالحکومت کی جانب ممکنہ لانگ مارچ کی حمایت کی ان میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی لانگ مارچ کے شرکا نے ڈی چوک تک پہنچنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ رانا ثنااللہ نے عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا شخص جو پوری قوم اور نوجوان نسل کو بدتمیزی سکھا رہا ہو اور فوجی قیادت کو رنگ برنگے القابات سے نواز رہا ہو، اس کے ساتھ کون لاڈ کر سکتا ہے، اب وہ کسی کا بھی لاڈلا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں احتجاج کریں گے تو ان کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی لیکن اگر وہ ڈی چوک کی طرف بڑھے تو ان کو پوری دھونی دی جائے گی۔ انہوں نے عمران خان کا ہٹلر کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویسا ہی پاگل ہے جیسا پاگل جرمنی میں پیدا ہوا تھا اور اگلے پچاس سال تک اسکی قوم کو غلامی کاٹنا پڑ گئی۔

رانا ثنااللہ نے عمران خان کے مجوزہ لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو صوبے اس فسادی مارچ کی حمایت کریں گے اور دارالحکومت پر چڑھائی میں عمران کی مدد کریں گے وہ آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کریں گے جس کے انہیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو دوبارہ لانگ شروع کرنے سے پہلے اپنے 25 مئی کے لانگ مارچ کا انجام ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ اس مرتبہ انہیں اس سے بھی زیادہ مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنا لانگ مارچ کب شروع کرتے ہیں اور حکیم ثناءاللہ خان اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button