خط لکھنے والے سفیر نے خود سازشی بیانیہ رد کر دیا ہے


وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیکیورٹی ادارے اور خط لکھنے والے سفیر اسد مجید خان نے تصدیق کر دی کہ مبینہ خط کو سازش نہیں کہا جا سکتا، لیکن عمران خان کی جانب سے اس تواتر سے جھوٹ بولا گیا کہ سچ محسوس ہونے لگا۔ حنا کھر نے عمران خان کی جانب سے اپنی بے دخلی کو بیرونی سازش قرار دینے کا بیانیہ سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی انہیں اتنی سنگین دھمکی دی گئی تھی تو انہوں نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے احتجاج کیوں نہیں کیا؟
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سازشی بیانیے کو رد کیے جانے کے بعد حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز خط موصول ہونے کے بعد عمران خان کئی روز خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ابہون نے کہا کہ اب تو قومی سلامتی کمیٹی کہ اجلاس میں بھی تصدیق کر دی گئی ہے کہ امریکہ کی جانب سے سے کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے اس خط کے بارے میں استفسار کیا گیا جس کی بنیاد پر عمران خان نے سارا ہوا کھڑا کیا ہے، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر نے وضاحت کے ساتھ خط کے مندرجات سے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو آگاہ کیا۔
حنا کھر نے کہا کہ اس خط میں جو زبان استعمال کی گئی اس کی بنیاد پر سفیر نے ڈی مارش کی تجویز دی تھی، سفیر نے کہا خط میں جو زبان استعمال کی گئی وہ غیر معمولی تھی۔ لیکن تب عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے امریکی عہدیدار کی گفتگو پر امریکا سے فوری احتجاج کرنے سے منع کر دیا تھا۔ حنا کھر کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیدار کی گفتگو کی اطلاع شاہ محمود قریشی کو فوری دے دی گئی تھی مگر انہوں نے پاکستانی دفتر خارجہ کو امریکا سے فوری احتجاج کرنے سے منع کر دیا تھا۔ حنا کھر نے کہا کہ پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے اپنے خط کی آخری تین لائنوں میں اپنا تجزیہ دیتے ہوئے یہ تجویز دی تھی کہ امریکا کو ایک ڈی مارش دیا جائے اور پوچھا جائے کہ یہ عہدیدار کی ذاتی پوزیشن ہے یا امریکی حکومت کی رائے ہے؟
وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ پاکستانی سفیر اسد مجید نے پروفیشنل انداز میں اپنا فرض ادا کیا، ابکے خط میں افغانستان، یوکرین اور پاک امریکا تعلقات پر بات کی گئی تھی۔ حنا کھر نے کہا کہ قومی سیکیورٹی کے ادارے اور خط لکھنے والے سفیر بھی متفق ہیں کہ اسے سازش نہیں کہا جا سکتا، لیکن سابقہ حکومت کی جانب سےجھوٹ اس تواتر سے بولا گیا کہ سچ محسوس ہونے لگے۔ لیکن اس بات کو فراموش کردیا گیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید خان نے قومی سلامتی کمیٹی کو مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مراسلے میں کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔ یوں عمران خان کا 27 مارچ سے اپنایا گیا یہ بیانیہ اڑ گیا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے ایما پر ختم کی گئی۔

Related Articles

Back to top button