دریائے سوات میں بہہ جانے والے غیرقانونی ہوٹلز کیسے بنے؟

طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے بعد دریائے سوات میں شدید طغیانی نے کالام، بحرین اور بدین کے علاقوں میں دریا کنارے غیر قانونی طور پر قائم شدہ درجنوں عمارات خصوصا ہوٹلوں کو تباہ کر دیا اور انہیں اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں خصوصی طور پر کالام کے معروف ہنی مون ہوٹل کی تباہی کے مناظر خصوصی توجہ اور بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں، اس بحث میں سب سے اہم سوال یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ دریا کنارے عمارتوں کی تعمیر کی اجازت کس نے دی تھی جبکہ قانون کے مطابق یہ تعمیرات ہو ہی نہیں سکتیں، سیاحتی مقامات پر دریا کنارے کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہ دینے کی بنیادی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی کو روکنا اور سیلاب کی صورت میں کسی انسانی المیے سے بچنا شامل ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ 2010 میں بھی اس علاقے میں ایسی ہی تباہی آئی تھی اور دریا کے کنارے قائم کئی ہوٹل تباہ ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر دریائے سوات کے کنارے پانی کے راستے میں بلندو بالا عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت کس نے اور کیوں دی۔ اہم بات یہ ہے کہ ہوٹل ہنی مون 2010 میں بھی تباہ ہوا تھا لیکن ایک مرتبہ پھر اسے تقریبا اسی جگہ پر دوبارہ سے تعمیر کر دیا گیا جس کی ذمہ داری بنیادی طور پر خیبرپختونخوا حکومت پر عائد ہوتی ہے جو صوبے میں دس برس سے برسر اقتدار ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ سوات میں 2010 میں آنے والے سیلاب کی تباہی کے بعد لوگوں نے دریائے سوات کے کنارے پھر سے رہائشی اور تجارتی تعمیرات دوبارہ شروع کیں تو کسی بھی متعلقہ حکومتی ادارے نے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کی جیبیں گرم کر دی جاتی ہیں۔ چنانچہ فنِ تعمیر اور حفاظتی تدابیر سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے تعمیرات کرنے والوں نے اپنی مرضی کے مطابق مکانات اور ہوٹل دوبارہ عین دریا کنارے کھڑے کردیئے۔
سوات سے تعلق رکھنے والے زرمت اللہ خان شنواری نے کالام میں دریا کے کنارے ’نیو ہنی مون‘ کے نام سے ہوٹل تعمیر کیا تھا، اس سے پہلے ان کا 100 کمروں کا ہوٹل 2010 کے سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا جس وجہ سے انہیں 20 کروڑ روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ اب دریائے سوات میں آنے والی طغیانی ایک مرتبہ پھر ان کا ہوٹل بھی بہا کر اپنے ساتھ ہی لے گئی ہے، شنواری کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ تو ان کو دریا کنارے ہوٹل تعمیر کرنے سے روکا اور نہ ہی انہیں دوران تعمیر قدرتی آفات سے نمٹنے کا کوئی طریقہ بتایا جس سے ان کا ہوٹل بچ جاتا، انھوں نے کہا کہ دریائے سوات کنارے آباد ہوٹلوں کا کاروبار زیادہ چلتا ہے اور اسی لیے سیلاب کے خطرے کے باوجود انھوں نے دوبارہ دریا کے کنارے ہی نیا ہوٹل تعمیر کیا تھا۔
دوسری جانب ضلع سوات کے نائب رابطہ کار افسر کامران رحمان نے دریا کنارے تعمیرات کو روکنے کے حوالے سے بتایا کہ دریا کے کنارے لوگ نجی زمینوں پر آباد کاری کر رہے ہیں۔ ہم نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دریائے سوات کے حدود کی نشاندہی کرے یا پھر قانون سازی کے تحت تعمیراتی تجاوزات پر پابندی عائد کرے۔ دوسری طرف کالام سے صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن جعفر شاہ کا کہنا تھا کہ دریا کی حدود سب کو معلوم ہیں اور متعلقہ قوانین بھی موجود ہیں جن کے تحت دریا کے کنارے کسی بھی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کے لیے باقاعدہ قانون موجود ہے اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے پاس رہنما اصول بھی ہیں جن کے تحت انہیں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے کہ دریا سے کتنے فاصلے پر وہ تعمیرات کر سکتے ہیں۔ قانون کے مطابق دریا کے کنارے کے 200 فٹ کے اندر آبادی نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ یہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے اور اس کو ان قوانین پر عمل درآمد کروانا چاہئے۔ مینگورہ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ تعمیرات شوکت علی شرر نے بتایا کہ تعمیرات بارے قوانین تو بہت ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد کا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ’ریور پروٹیکشن ایکٹ سوات‘ لاگو ہے جس کے تحت دریائے سوات کے کنارے کے 200 فٹ کے اندر کوئی عمارت بنانا غیر قانونی ہے لیکن اس قانون پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو رہا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ’لوکل گورنمنٹ آرڈینینس‘ کے تحت تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے کہ زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کام قانون کے مطابق کروانے کی نگرانی کرے، ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کی روک تھام کے قوانین کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی آفات کا خدشہ زیادہ ہو وہاں کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنا غیر قانونی ہے۔
شوکت علی نے زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال اور حکومتی اداروں کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ہماری حکومت اور ہمارے عوام دونوں زمین کی ملکیت اور زمین کے استعمال میں فرق نہیں کرتے، زمین کی ملکیت رکھنا اور اس کا مالک ہونا الگ بات ہے، ملکیت مالک کا حق ہے لیکن زمین کو کس طرح استعمال میں لایا جائے اس میں حکومت کی عملداری، ضابطوں کا اطلاق اور عمل دخل ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ ہو نہیں رہا کیونکہ نہ تو حکومتی اداروں میں یہ صلاحیت ہے اور نہ ہی عوام کی ایسی کوئی خواہش ہے لہٰذا ہر مرتبہ تباہی ہمارا مقدر بنتی ہے۔
یاد رہے کہ 2010 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے دریائے سوات کے کنارے آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ماہرین کے مطابق اب دریا کے کنارے دوبارہ تعمیرات قدرتی آفات کی صورت میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ضلعی اور صوبائی حکومت کے متعلقہ ادارے تازہ ترین تباہی کے باوجود دریائے سوات کے کنارے ہونے والی خطرناک تعمیرات کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

Related Articles

Back to top button