دھرنے کا چیلنج دینے والے اب دھرنا روکنے کے لیے کوشاں

آج سے ایک ماہ پہلے اپوزیشن کو اسلام آباد میں دھرنے کا چیلنج دینے اور انہیں کنٹینرز اور کھانا فراہم کرنے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی تمام تر کوششیں اب اس بات پر مرکوزہیں کہ اگر مولانا لانگ مارچ سے باز نہیں آتے تو کم از کم انہیں اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روکا جائے۔
سنجیدہ فکر سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابتدا میں مولانا فضل الرحمان کو بڑا آسان لیا اور انہیں دھرنا دینے کا چیلنج دے کر انڈر ایسٹیمیٹ کیا تھا لیکن اب حکومت یہ حقیقت جان گئی ہے کہ آزادی مارچ کو روکنا تو شاید ممکن نہ ہو لہذا دھرنا روکنے کی کوشش کی جائے اور اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو پھر دھرنےکے شرکا کی تعداد کو ممکنہ حد تک کم یا محدود کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ جوں جوں آزادی مارچ کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے حکومتی حلقوں میں سراسیمگی بڑھتی جارہی ہے اور وہ اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی اولین کوشش ہے کہ آزادی مارچ کے شرکأ کسی بھی طریقے سے ڈی چوک نہ پہنچ سکیں اوراگر پہنچ بھی جائیں تو وہ اس قدر کم تعداد میں ہوں کہ ان کوکنٹرول کرنا اور نمٹنا حکومت کے لیے مشکل نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے اس نے تمام صوبوں کی حکومتوں کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔ ہرضلع کی انتظامیہ سےبھی کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا ٔ کو اپنے ضلع ہی میں روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے ۔
قبل ازیں حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مارچ کو ’’ ٹھنڈا ‘‘ کرنے کی کوشش کی تھی کہ رابطے کا ایک چینل کھلا رکھا جائے اور ایجی ٹیشن کی نوبت نہ آسکے لیکن مذاکرات کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے اور یوں بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اگرچہ آزادی مارچ کا اصل ٹیمپو تو 27 اکتوبر کے بعد ہی بنے گا لیکن حکومت چاہتی ہے کہ اس سے پہلے معاملات پر اس کی گرفت مضبوط ہوجائے اور آزادی مارچ کے شرکا ٔ زیادہ سے زیادہ پریڈ گراونڈ تک جا کر جلسہ کریں اور پھردھرنا دیئے بغیر پرامن طورپر منتشر ہوجائیں۔ ادھر اسلام آباد کی انتظامیہ کو بھی ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا ٔ کو ریڈ زون یا ڈی چوک تک کسی بھی صورت میں نہ پہنچنے دیا جائے لیکن لگتا یہی ہے کہ حکومت اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب نہ ہوسکے گی۔ کیونکہ اپوزیشن کے تیور بدلے ہوئے ہیں دوسرے آزادی مارچ کے شرکأ جن میں اکثریت مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور مدارس کے طلبہ پر مشتمل ہوگی وہ اپنے قائدین کے احکامات سے سرتابی کرنے کو تیار نہیں ہوں گے ۔ وہ اپنے قائدین کے حکم پر عمل کرنا مسلکی ضرورت ، دینی فریضہ اوراپنی مدرسی تعلیم کا تقاضا تصور کرتے ہیں ۔ سو ان حالات میں حکومت کی کاونٹر حکمت عملی بظاہر کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی ۔ اسے ابھی بہت سےچیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button