ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیموں پر عمرانڈوز کیسے قابض ہوئے؟


راولپنڈی میں کور کمانڈرز کے اہم اجلاس سے دو روز پہلے اسلام آباد پریس کلب کے باہر ریٹائرڈ فوجی افسران کی تنظیم ’ویٹرنز آف پاکستان‘ کی جانب سے کیے جانے والے متنازعہ مطالبات اور دعوؤں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس نے فوجی قیادت کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کردی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی دونوں بڑی تنظیمیں یعنی ایکس سروس مین سوسائٹی اور ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان دراصل تحریک انصاف کے حامیوں کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ہیں اور سیاسی ایجنڈے کے تحت یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جیسے تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی حضرات عمرانڈو قبیلے میں شامل ہو چکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ عمران خان ریٹائرڈ فوجی افسران کی تنظیموں کے ذریعے موجودہ فوجی قیادت خصوصا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر فوری الیکشن کا مطالبہ منظور کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں حالانکہ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے فوج نے نہیں۔ اپنے اسی ایجنڈے کے تحت ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان کے کرتا دھرتا جنرل ریٹائرڈ علی ولی خان اور جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک نے 7 جون کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ متنازعہ دعویٰ کیا کہ جنرل قمر باجوہ انہیں عمران حکومت کے خاتمے کے بعد 90 دن کے اندر فوری الیکشن کروانے کی یقین دہانی دے چکے ہیں جس پر عمل درآمد کا وقت گزرتا جا رہا یے۔لیکن عسکری ذرائع نے جنرل باجوہ کی جانب سے 90 روز میں نئے الیکشن کروانے کی یقین دہانی کا دعوی سختی سے رد کر دیا ہے ۔

ریٹائرڈ فوجیوں کی پریس کانفرنس کے دوران آرمی کے پہلے لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے چلے ہوئے کارتوس بریگیڈیر میاں محمود نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان کے ہمراہ ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وعدہ کیا تھا کہ نوے دن میں ہی نئے انتخابات کرائیں گے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’اب وہ وعدہ کہاں گیا؟‘ لیکن پریس کانفرنس کے بعد انھوں نے صحافیوں کے سوال نہیں لیے خصوصا جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ غیر آئینی مطالبہ کس حیثیت میں کیا۔ بعد ازاں وہاں موجود صحافیوں اور کئی ریٹائرڈ افسران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی اور یوں اس پریس کانفرنس کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئے۔

مگر یہ پہلی بار نہیں کہ مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران نے کسی معاملے پر اپنی کسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنا بیانیہ پیش کیا ہو۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کسی ایک سیاسی جماعت کے موقف کی پُر زور تائید یا مخالفت، اور فوجی نوعیت کا بھی جو کہ عام طور پر فوج اور فوجی قیادت کی حمایت میں ہوتا ہے۔ مثلاً کسی مشہور سیاستدان نے فوج مخالف بیان دیا جو سوشل اور مین سٹریم میڈیا میں بحث کا موضوع بن گیا تو اچانک ریٹائرڈ افسران کے یہ گروپ سامنے آتے ہیں، احتجاج بھی کرتے ہیں اور پریس کانفرنسیں بھی۔ اگرچہ اس بار توپوں کا رُخ خود فوج کی جانب ہے مگر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ صارفین کہیں پریس کانفرنس کرنے والوں پر اپنی سیاست چمکانے کا الزام لگا رہے ہیں اور کہیں ان کے بیانیے کی حمایت کی جا رہی ہے۔

بعض لوگوں نے جنرل علی قلی خان کا ذکر بھی کر رہے ہیں جنھوں نے چند برس قبل سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے ساتھ ان کے صاحبزادے خالد قلی خان کا بھی نام لیا جا رہا ہے جنھیں 2018 میں تو عمران خان نے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا تاہم اب کئی صارفین نے وہ تصاویر اور ٹویٹس شیئر کیں جن میں انھیں حال ہی میں عمران خان سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اس وقت فوج سے سبکدوش ہوئے تھے جب نواز شریف نے 1998 میں انھیں ان کے سیاسی عزائم کی وجہ سے سپرسیڈ کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس سے کئی دہائیاں قبل 1958 میں ان کے والد جنرل حبیب اللہ خان خٹک کی جگہ جنرل ایوب خان نے جنرل محمد موسیٰ کو پاکستان آرمی کا پہلا کمانڈر ان چیف بنایا تھا کیونکہ حبیب اللہ خٹک کو بھی فوجی ہونے کے باوجود سیاست کا ٹھرک تھا۔ جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کے بیٹے 2018 میں کرک سے تحریک انصاف کے ٹکٹ امیدوار تھے۔ تاہم اس وقت انھیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔

تاہم علی قلی خان اور آصف یاسین ملک پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عمرانڈو ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی خاطر ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان کا پلیٹ فارم عمران خان کی حمایت اور موجودہ حکومت کی مخالفت میں غلط طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں چند تنظیمیں ہیں جو خود کو ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور وزارت دفاع کے سابق ملازمین کی نمائندہ کہتی ہیں۔ ان میں ایک پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی ہے جس کا قیام 1991 میں عمل میں آیا۔ ایسی ہی ایک اور تنظیم پاکستان ویٹرنز ایسوسی ایشن ہے جو جنوری 2008 میں پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کے نام سے بنائی گئی اور بنیادی طور پر پرویز مشرف کے خلاف چلنے والی وکلا تحریک میں حصہ لینے کے لیے قائم ہوئی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہے۔

ایکس سروس مین سوسائٹی ایک غیر سرکاری تنظیم کے طور پر جوائنٹ سٹاک کمپنیز راولپنڈی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، اور تنظیم کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے مطابق اس سوسائٹی کے ساتھ تقریباً سات لاکھ ریٹائرڈ فوجی منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فنڈنگ کا کوئی ذریعہ نہیں اور ممبران میں سے جو اپنی حیثیت کے مطابق فنڈنگ کرنا چاہے وہ کرتا ہے۔

ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے قائم تمام چھوٹی بڑی تنظیموں میں سے صرف یہ ایک تنظیم ہی رجسٹرڈ ہے۔ تاہم یہ بھی جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کے ساتھ منسلک نہیں، نہ ان کی جانب سے ان کے پاس کسی بھی قسم کا اجازت نامہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تنظیموں کا خود کو تمام ریٹائرڈ فوجیوں کی نمائندہ کہنا غلط اور غیرقانونی ہے۔

مگر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم سمیت دیگر ایکس سروس مین تنظیموں کے قیام کا بنیادی مقصد آپس میں رابطہ کاری اور مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم قومی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔ ریٹائرڈ فوجیوں کو فلاح و بہبود یا پریشر گروپ؟ امجد شعیب نے کہا کہ ’بنیادی طور پر کام فلاح و بہبود کا ہے۔ ان کی بہتری کی کوشش کرنا، ان کے لیے نوکریوں کا انتظام کرنا اور ان کے مسائل کو حکومت یا متعلقہ فورم کے سامنے رکھنا۔ لیکن اس کے ساتھ ہم پاکستان کی مسلح افواج کو سپورٹ مہیا کرتے ہیں جب ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کو بغیر کسی وجہ کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کبھی نہ کبھی تو یہ پریس کانفرنس تو کر لیتے ہیں مگر یہ ہمیشہ پبلک میں اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمیں تو پریس کانفرنس کرنے یا پریس ریلیز جاری کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’ہم قومی معاملات پر ایک پریشر گروپ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کے نمائندہ ہیں اور ہماری رائے کی اہمیت ہے۔ ہمارے ہر تحصیل میں دفاتر ہیں اور ہم وہاں سے کسی بھی قومی معاملے پر رائے لیتے رہتے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ الزام غلط ہے کہ ’ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔ ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں، اگر کسی خاص ماحول میں ہمارا بیانیہ یا رائے کسی ایک جماعت کے حق میں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اس جماعت کے حامی ہیں اور دوسرا یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک تنظیم کی رائے ہوتی ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ پریس کلب میں ویٹرنز آف پاکستان نامی تنظیم کے کئی ممبران سیاسی حیثیت رکھتے ہیں جو سب کے علم میں ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ان کی تنظیم بھی وہی رائے رکھتی ہے مگر ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایسے بیانات سے گریز کریں گے جو پاکستان اور ملک کی مسلح افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔‘ لیکن کیا سابق فوجی اہلکاروں یا ان کی غیر سرکاری تنظیموں کی رائے یا بیانیہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ فوجی قیادت کے لیے وہی اہم ہیں جو فوج میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ’آرمی چیف کے لیے ان کے زیر کمان کام کرنے والے فوجیوں کی رائے اور سوچ اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ریٹائرڈ فوجی اہلکار کسی معاملے پر کیا موقف اپناتے ہیں، اس کا فوج سے کوئی تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔‘

Related Articles

Back to top button