سانحہ APS پشاور کا ماسٹر مائنڈ عمر خراسانی کس نے مارا؟


افغانستان میں پاکستانی فوجی حکام اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین افغان حکومت کی ثالثی سے جاری امن مذاکرات کو تب ایک بڑا دھچکا لگا جب مذاکراتی ٹیم میں شامل کمانڈر عمر خالد خراسانی پکتیکا کے علاقے میں ایک پراسرار میزائل حملے میں مارا گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ عمر خالد خراسانی وہ شخص ہے جو کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے خونی حملے میں ملوث تھا جس میں 145 سے زائد معصوم بچوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی قیادت کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مذاکراتی عمل ان طالبان کے ساتھ ہو رہا ہے جن کے خلاف پشاور سانحے کے بعد 2014 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے ایک قومی پالیسی تشکیل دیتے ہوئے ملک گیر فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ ماضی میں 2013 میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران ’احرار الہند‘ نامی ایک گمنام تنظیم نے پاکستان میں کئی بڑے خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن کا اصل منصوبہ ساز عمر خالد خراسانی کو ہی گردانا جاتا تھا۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ تھا کہ خراسانی اس نوعیت کی کارروائیاں کر کے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے امن مذاکرات کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتا۔ بعد میں عمر خالد خراسانی نے تحریک طالبان سے الگ ہو کر ’جماعت الاحرار‘ نامی اپنی الگ تنظیم بنانے کا بھی اعلان کر دیا تھا اور تحریک طالبان کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان اسکی تنظیم کا ترجمان بن گیا تھا۔ مگر پھر 2020 میں خراسانی کی تنظیم دوبارہ تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہو گئی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ کابل میں پاکستانی فوجی حکام اور تحریک طالبان کی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عمر خالد خراسانی بھی شریک تھا۔ خراسانی کی موت کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔ کچھ رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کی موت تب ہوئی جب گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں ان کے چار ساتھی بھی موقع پر ہلاک ہوگئے۔ جب کہ دیگر رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ خراسانی کو ایک ڈرون میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 31 جولائی 2022 کو القاعدہ کے مطلوب سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی کابل کے ایک سیف ہاؤس میں امریکی ڈرون میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سیف ہاؤس افغانستان کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کمانڈر سراج الدین حقانی کی ملکیت تھا جو کہ پاکستان اور تحریک طالبان کے مابین مذاکرات میں بھی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگست 2021 میں کابل میں برسر اقتدار آنے کے بعد افغان حکومت نے تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کی پاکستانی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا تھا کہ اسکے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، چنانچہ یہ مذاکرات اب کابل میں سراج الدین حقانی کی ثالثی سے ہو رہے ہیں اور پاکستانی عوام میں انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے 2008 میں ٹی ٹی پی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ٹی ٹی پی نے پشاور آرمی پبلک اسکول پر خونریز حملے کے علاوہ پاکستانی فوجیوں اور فوجی چیک پوسٹوں پر بھی حملے کیے، جس کی وجہ سے فوج میں اسکے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ اس لیے جب فوجی حکام نے ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کا فیصلہ کیا تو پاکستان میں ایک بڑے حلقے نے اس فیصلے کی مذمت کی۔ کابل میں پاکستانی فوجی حکام اور تحریک طالبان کی قیادت کے مابین بات چیت کے اب تک کئی دور ہوچکے ہیں لیکن دونوں اب تک کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ مذاکرات کے نتیجے میں مئی میں ٹی ٹی پی کے درجنوں جنگجوئوں اور کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں “مستقل جنگ بندی” پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب بھی جنگ بندی کی مسلسل اور بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد اب کابل میں جاری مذاکراتی عمل بھی تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ مذاکراتی عمل پہلے بھی کئی مرتبہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ تحریک طالبان کے مطالبات ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مطالبات میں سے ایک بنیادی مطالبہ یہ بھی ہے کہ افغانستان کی سرحد سے ملحق سابقہ وفاقی زیرانتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کی نیم خود مختار حیثیت بحال کی جائے۔ پاکستان کے لیے یہ مطالبہ تسلیم کرنا اس لیے ممکن نہیں کہ اس علاقے کو عسکریت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے جو سرحد کے دونوں جانب سے اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان سے مذہبی رہنمائوں کا ایک آٹھ رکنی وفد گزشتہ ہفتے کابل گیا تھا۔ تاہم ٹی ٹی پی نے اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ ایسے میں اس خیال کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اگر پاکستان اور تحریک طالبان کے مابین کوئی معاہدہ نہیں ہو پاتا، تو افغانستان کے اندر موجود ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی تحریک طالبان کا سب سے خونی کمانڈر عمر خالد خراسانی ایک میزائل حملے میں مارا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button