سلیم صافی کی فوجیوں اور جوانوں کو جگانے کی کوشش


معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے ریٹائرڈ فوجیوں اور جوانوں کے نام ایک خط تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عمران خان کو برسر اقتدار لانے میں آپ کی فوج کا کردار واضح تھا، لیکن حکومت کی رخصتی میں ان کے کردار کا کوئی ثبوت نہیں۔ لہٰذا جب سویلینز اپنی فوجی قیادت کو غیر سیاسی ہونے پر شاباش دیے رہے تھے تو آپ لوگوں کو تو ہزار گنا زیادہ شاباش ملنی چاہئے تھا، لیکن نجانے کیوں آپ اس معاملے پر اپنی قیادت کے ساتھ یک زبان نظر نہیں آئے۔ دوسری جانب پاکستان مخالف بھارتی میجر گوروو آریا اپنے ویڈیو پیغام میں کہتا پھرتا ہے کہ عمران نے جو نقصان گالیاں پڑوا کر پاکستانی فوج کو پہنچایا، وہ ہم انڈین کھربوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں پہنچا سکتے تھے، اس لیے وہ ہمارا ہیرو ہے۔ صافی ریٹائرڈ فوجیوں اور جوانوں کو کہتے ہیں کہ شاید یہ کسی جادو کا اثر ہے کہ آپ نے بھی پی ٹی آئی کے ورکرز کی طرح عقل کا استعمال ترک کردیا ہے، اللہ کے بندو، کچھ تو سوچو۔
اپنے تازہ تجزیے میں سلیم صافی لکھتے ہیں کہ میرے عزیر ریٹائرڈ فوجی افسرو اور جوانو! آپ ہم سے ہی ہیں کیونکہ آپ کا تعلق ملکی سرحدوں کا دفاع کرنے والے اداروں سے ہے۔ آپ میں سے کسی نے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں پر مشقتیں جھیلی ہوں گی، کسی نے بھارتی سرحدوں پر دشمن کی گولیوں کا سامنا کیا ہوگا، کسی نے سابقہ قبائلی علاقوں میں دنیا کی مشکل ترین جنگ لڑی ہوگی۔ آپ لوگ تو کبھی کبھار ہم جیسوں کی حب الوطنی پر شک کرلیتے ہیں لیکن ہمیں آپ کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں۔ تاہم ہمارے اور آپ کے درمیان جو اصل رشتہ اور میثاق ہے، اس کا نام آئینِ پاکستان ہے۔ جب آپ اس آئین پر عمل کو یقینی بنانے میں تعاون کرتے ہیں تو ہم آپ کو ہاتھ سے نہیں دل سے بھی سیلوٹ کرتے ہیں، لیکن جب آپ یا آپ کے ادارے اپنا اصل کام چھوڑ کر سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں تو ہم عوام کی صفوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم سے زیادہ تشویش آپ کی صفوں میں پھیلنی چاہیے کیونکہ سیاست، عدالت اور صحافت کے دائرے میں مداخلت سے آپ کے ادارے کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ یہ پوری قوم کی محافظ اور پوری قوم کے لیے قابلِ فخر فوج ہے اور جب یہ کسی ایک پارٹی سے نتھی ہوتی ہے تو متنازع بن جاتی ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ اب اس تناظر میں ٹیکس ادا کرنے والے ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے میں چند گزارشات آپ سب کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:پہلی گزارش یہ ہے کہ عمران خان 2002 میں زیادہ مقبول تھے۔ ورلڈ کپ کی یاد تازہ تھی۔ شوکت خانم کے کارنامے کی یاد تازہ تھی۔ جوان ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت کی کشش بھی زیادہ تھی۔ تب یو ٹرنز لینا اور گالیاں دینا نہیں بلکہ سچ ان کی پہچان تھی۔ تب ان کے آگے پیچھے شہباز گل اور زلفی بخاری جیسے نہیں بلکہ اویس غنی اور اکبر ایس بابر جیسے نیک نام لوگ نظر آرہے تھے لیکن وہ چند نشستیں بھی نہ حاصل کر سکے۔ آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ آخر وجہ کیا بنی جس کی وجہ سے ان کی پارٹی سیٹوں کے لحاظ سے بڑی پارٹی بن گئی؟ ہم جیسے لوگوں کے پاس بے تحاشہ شواہد موجود ہیں اور بہت سارے لوگ اب خود بھی گواہیاں دے رہے ہیں کہ وہ طاقتور حلقوں کے بعض افراد کے دبائو پر یا پھر ان کی طرف سے دیے گئے لالچ کی وجہ سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔
صافی کہتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات سے قبل عدلیہ، میڈیا، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں پر عمران خان کی حمایت کے لیے اور دیگر جماعتوں کا راستہ روکنے کے لیے دبائو ڈالا گیا۔ اس سے قبل ایسے دھرنوں میں آپ کے اداروں کی طرف سے ان کی مدد کی گئی جس میں انہوں نے سول نافرمانی کا اعلان کیا اور بجلی کے بل جلائے۔ میرا سوال یہ ہے کہ بعض لوگ اگر آج اپنے ادارے کے آئینی رول تک محدود ہونے پر ناراض ہیں اور عمران خان کی محبت میں اپنے اداروں کی قیادت کے سامنے کھڑے ہورہے ہیں تو آپنے اُن کو شروع میں ہی کیوں نہ روکا؟
صافی ریٹائرڈ فوجیوں اور جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے ادارے کے وقار کو زیادہ نقصان گزشتہ انتخابات میں پہنچا جب آپ کے ادارے کے بعض لوگ ہر حربہ استعمال کرکے دوسری پارٹیوں سے الیکٹ ایبلزپی ٹی آئی میں شامل کرواتے رہے۔ الیکشن کے عمل میں جب براہِ راست میڈیا کو عمران کو سپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی اور ان پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کروایا جاتا یا پھر انہیں انکے اداروں سے نکالا جاتا رہا۔ آپ کے ادارے کے لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹ تقسیم کرتے رہے، آپ کے ادارے کے باوردی جوانوں سے پولنگ ایجنٹوں کو نکلوا کر ٹھپے لگوائے گئے، عمران خان کو جتوانے کے لیے الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس سسٹم فیل کروایا گیا، قاسم سوری کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والوں کو الیکشن جتوایا گیا اور آئی ایس پی آر کی طرف سے میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ وہ عمران کی حکومت کے بارے میں چھ ماہ تک منفی رپورٹنگ نہ کرے۔ ان چیزوں نے فوج کو عوام کی صفوں میں متنازع کردیا۔
سلیم صافی فوجی بھائیوں سے کہتے ہیں کہ کیا میں آپ لوگوں سے انتہائی ادب سے پوچھ سکتا ہوں کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو آپ کیوں خاموش رہے؟ کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ عمران خان کی حکومت کو جتنی سپورٹ جنرل قمر باجوہ اور ان کی ٹیم نے فراہم کہ، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن اس کے باوجود عمران نے حکمرانی کے لیے بد ترین ٹیم کا انتخاب کیا، معیشت کا ستیاناس کیا۔ جنرل باجوہ دوست ممالک میں جا جا کر تعلقات بناتے اور عمران معاملات بگاڑتے رہے۔ فوج ان کو ایک سچے ہمدرد کے طور پر سب سے بنا کے رکھنے کی نصیحت کرتی رہی لیکن موصوف نے انتقام اور گالم گلوچ کے کلچر کو عام کیا۔ عمران خان حکومت غلطیاں کرتی رہی اور ذمہ دار فوج کو ٹھہرایا جاتا رہا۔ صافی کہتے ہیں کہ اگر ان حالات میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے فوج کی عزت و وقار کو بچانے اور اس پر لگا ہوا ایک پارٹی کا ٹیگ ہٹانے کے لیے غیر سیاسی ہو جانے کا فیصلہ کیا تو کیا برا کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر فوجی قیادت نے سیاستدانوں اور ججوں کو اپنا اپنا کام کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا یے تو کیا یہ کوئی جرم ہے؟

Related Articles

Back to top button