سوات آپریشن کے 13 برس بعد طالبان کی واپسی شروع

خیبرپختونخواہ کے مالا کنڈ ڈویژن کی وادی سوات میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2009 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کے خاتمے کے 13 برس بعد اب ایک مرتبہ پھر سوات میں مسلح طالبان کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ واپس آنے والے طالبان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ انہوں نے کھلے عام اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے نہ صرف عام لوگوں سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ پولیس اور فوجی اہلکاروں کو بھی اغوا کرنا شروع کر دیا، ان تمام کارروائیوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور عوام نے تنگ آ کر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے ہیں۔
یاد رہے کہ 2009 کا فوجی آپریشن ملا فضل اللہ اور ان کے سسر صوفی محمد کی جانب سے سوات میں قائم کردہ ایک متوازی نظام حکومت کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اس آپریشن کے نتیجے میں ملا فضل اللہ پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان چلا گیا تھا جبکہ صوفی محمد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہی ملا فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی امیر بن گیا تھا۔ فضل اللہ کی موت بھی ایک امریکی ڈرون حملے میں افغانستان میں ہوئی تھی۔ صوفی محمد بھی چند برس پہلے جیل میں فوت ہو گیا تھا۔
سوات سے تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کے خاتمے اور طالبان کے انخلا کو پاکستانی فوج کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستانی قبائلی علاقوں خصوصاً پاکستان میں تحریک طالبان کی ریاست اور فوج مخالف دہشت گرد کارروائیاں جاری رہیں جن کا عروج تب دیکھنے میں آیا جب دسمبر 2014 میں ٹی ٹی پی نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے 135 سے زائد معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔ اس آپریشن کے بعد پارلیمنٹ نے فوجی قیادت سے مل کر تحریک طالبان کے خلاف ایک ملک گیر فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک دشمن دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کیا جا سکے۔ یہ آپریشن بھی کامیاب رہا اور تحریک طالبان کی ساری قیادت افغانستان فرار ہوگئی۔
تاہم پاکستان کے لیے مسائل کا آغاز تب ہوا جب اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے ساتھ ہی افغان طالبان کابل کے حکمران بن گئے۔ افغان طالبان کے برسراقتدار آتے ہی افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان نے سرحد پار دہشت گرد کاروائیاں دوبارہ سے شروع کردیں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ چنانچہ پاکستانی عسکری حکام نے طالبان حکومت سے رابطہ کیا اور طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن پاکستان کی امیدوں کے برعکس افغان طالبان نے احسان فروشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو نیوٹرل قرار دے دیا اور یہ تجویز دے دی کہ تحریک طالبان اور پاکستانی حکام امن مذاکرات شروع کر دیں۔
اب تحریک طالبان اور پاکستانی عسکری حکام کے مابین شروع ہونے والے مذاکرات کو ایک برس گزر چکا ہے لیکن طالبان کی ناقابل قبول ڈیمانڈز کی وجہ سے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا، تاہم ان مذاکرات کے دوران پاکستانی عسکری حکام کو کچھ طالبان رہنماؤں کو رہا بھی کرنا پڑا جن میں سے کئی ایک کا تعلق سوات سے بھی تھا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستانی ریاست کی رٹ کمزور ہوئی اور طالبان جنگجوؤں نے سوات سمیت مختلف علاقوں میں واپسی کا عمل شروع کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ طالبان جنگجوؤں کی منزل سوات ہے جہاں پہنچنے کے بعد انہوں نے دہشت گردی اور بھتہ خوری کا آغاز کر دیا ہے جس کے باعث علاقے کے مکین خوف زدہ ہیں اور اب اب لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔
سوات اور مٹہ میں طالبان کی واپسی اور کنٹرول لینے کی کوششوں کی خبریں تب منظر عام پر آئیں جب حال ہی میں انہوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت دو فوجی اہلکاروں کو اغوا کیا اور بعد میں انہیں جرگے سے مذاکرات کے بعد رہا کیا۔ رہائی سے پہلے ایس ایچ او کی ٹانگ میں گولی بھی ماری گئی اور آن کیمرہ معافی بھی منگوائی گئی۔ یعنی اب طالبان دہشت گرد اس پوزیشن میں آ گئے ہیں کہ وہ سوات سے پولیس اور فوجی اہلکاروں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر ان کی رہائی کیلئے ریاستی ادارے کارروائی کی بجائے ان سے مذاکرات کرتے ہیں۔
سوات میں پاکستانی طالبان کی سربراہی کرنے والے کمانڈر نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس اور فوجی اہلکاروں کو اغواء کرنے کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ ہمارے پیچھے آ رہے تھے۔
اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں اغوا ہونے والے فوجی اور پولیس اہلکاروں کو ایک شخص کے سوالات کے جواب دیتے دکھایا گیا ہے۔ پولیس نے اس واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 8 اگست کو ڈی ایس پی سرکل مٹہ پیر سید خان پولیس نفری کے ہمراہ کنالہ تحصیل مٹہ کے علاقے میں سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ اسی اثناء میں دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی مٹہ زخمی ہوئے۔ اس موقع پر موصوف نے یہ سفید جھوٹ بھی بولا کہ پولیس اور فوجی اہل کاروں کے اغوا کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ دوسری جانب اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سوات اور مٹہ کے علاقوں میں پاکستانی طالبان کی واپسی کی بنیادی وجہ عسکری حکام کی جانب سے ٹی ٹی پی سے افغانستان میں کیے جانے والے مذاکرات ہیں جن کی قیادت سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے پرویز مشرف کی حکومت ہو یا متحدہ مجلس عمل یا پھر تحریک انصاف کی حکومت، ان سب کی اپروچ طالبان بارے بہت لچک دار اور سافٹ رہی جس کا نتیجہ عام لوگ بھگت رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختون خواہ حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے سوات کے حالیہ واقعات بارے بتایا کہ یہ جزوی طور پر سچ ہیں لیکن ذیادہ پروپیگینڈے کا حصہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، وہ سوات کے پہاڑی علاقے میں پیش آئے ہیں جہاں کسی مسلح گروہ کے لیے چھپنا اور نقل وحرکت کرنا آسان ہے۔ ظاہر ہے ان زگ زیگ پہاڑوں اور گھنے جنگلوں میں پولیس کے لیے پوری طرح رٹ قائم کرنا مشکل ہے۔ باقی سوات پر سکون ہے لیکن اب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اگلے روز اپنی تقریر میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں طالبان تیزی سے واپس آ کر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button