سوشل میڈیا پر کپتان کی ’لیکڈ ویڈیو‘ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟


پاکستانی سوشل میڈیا پر پچھلے کئی روز سے’لیکڈ ویڈیو‘ ٹرینڈ کر رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی کوئی نازیبا ویڈیو مارکیٹ ہونے والی یے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر ایسی ویڈیو سامنے آگئی تو تھرتھلی مچ جائے گی اور کپتان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جائے گا۔ ایسے اشارے بھی دیے جارہے ہیں کہ جو ویڈیوز مارکیٹ ہونے والی ہیں وہ خوفناک اور شرمناک ہیں کیونکہ ان میں معصوم بچے اور جانور بھی موجود ہیں۔ تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ کپتان کی ایسی ویسی کوئی ویڈیوز موجود نہیں اور ایسی افواہیں صرف ان کے سیاسی مخالفین اڑا رہے ہیں۔
لیکن یاد رہے کہ عمران نے اپنے اقتدار کے آخری روز 9 اپریل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے انکی کردار کشی کر سکتی ہے اور ان کی جعلی ویڈیوز بھی وائرل کی جا سکتی ہیں۔ لہذا کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی کوئی نہ کوئی ویڈیوز ضرور موجود ہیں جن کے لیک ہونے کا خود عمران کو بھی خدشہ یے۔ اب تک ’لیکڈ ویڈیو‘ کے نام سے ٹوئٹر پر 50 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کی جا چکی ہیں لیکن ویڈیو ابھی تک نہیں آئی اور سوشل میڈیا صارفین کو اس کا شدت سے انتظار ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹرینڈ اسٹیبلشمنٹ نے بنوایا ہے تاکہ کپتان کو زبان درازی سے روکا جا سکے۔ اس ٹرینڈ کو زیادہ تر صارفین سیاسی صورت حال سے متعلق بیان بازی کے ساتھ ٹیگ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کوئی ویڈیوز موجود ہیں تو وہ کپتان کے سابقہ ساتھی عون چوہدری کی تحویل میں ہوں گی جو اب نئی حکومت میں وزیر اعظم کے مشیر بن گے ہیں۔ کچھ لوگ ریحام خان کے پاس موجود عمران خان کی بلیک بیری کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی سیاست میں گذشتہ چند سالوں سے ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز کا منظر عام پر آنا ایک معمول بن چکا ہے۔ سیاسی فریق دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اس قسم کے آڈیو ویڈیو جاری کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس معاملے نے کافی سنگینی اختیار کر لی ہے، خاص طور پر جب سے مسلم لیگی رہنما مریم نواز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیوز میڈیا پر جاری کی تھی۔ پھر تحریک انصاف حکومت کے دوران مریم کی آڈیو لیک ہوئیں جن میں وہ سابق دور حکومت میں ٹی وی چینلز کو اشتہارات جاری نہ کرنے کی ہدایات دیتی سنائی دیں۔ اس سے قبل ججز اور سیاست دانوں کی ویڈیوز اور آڈیوز کے تذکرے بھی ہوتے رہے ہیں۔ چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ایک خاتون کے ساتھ ملاقات کی مبینہ ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں تھیں جن میں وہ نہ صرف سیکسی گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں بلکہ جپھی ڈالتے بھی نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل سابق جسٹس ملک قیوم کی شہباز شریف کے ساتھ ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی جس میں وہ انہیں نواز شریف کے ایما پر بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو فوری سزا سنانے کا کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اداکارہ میرا اور مہوش حیات کی “لو میکنگ” کی مبینہ ویڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں۔
نئے ٹاپ ٹرینڈ ’لیکڈ ویڈیو‘ میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے حامی ہیش ٹیگ لیکڈ ویڈیو بے وجہ استعمال کر رہے ہیں اور کئی صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسی ویڈیو ہے۔صارفین سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کی ٹویٹ ری ٹویٹ کریں گے تو انہیں وہ ویڈیو بھیج دی جائے گی۔
رواں ماہ کے آغاز میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کو انٹرویو میں بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں ویڈیوز کے ذریعے ان کی کردار کشی کر سکتی ہے۔ ان کے انٹرویو کا یہ کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ عمران خان کے سوشل میڈیا ترجمان ارسلان خالد نے اس معاملے پر کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے ٹرینڈز فضول ہیں اور ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا جب تک حقائق کے ساتھ بات نہ کی جا رہی ہو۔
اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں کسی کو غیر معروف کرنے کے لیے ذاتی زندگی سے متعلق ویڈیوز اور آڈیوز ریکارڈنگ ماضی میں بھی آتی رہی ہیں اور اب سابق حکمران جماعت کے سربراہ اور رہنماؤں کی ویڈیوز اور آڈیوز آنے کا خدشہ بھی اسی لیے ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ تنزیلہ نے کہا کہ سیاسی شخصیات کی ریکارڈنگز کے لیے بگنگ اور ویڈیوز جاری کرنے کے الزمات ایجنسیوں پر بھی آتے رہے ہیں اور متعدد بار ایسے دباؤ ظاہر کیے گئے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مخصوص حلقے جس کسی کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں تو ان سے متعلق نجی زندگی یا کسی خاص ملاقات کی ویڈیوز اور آڈیوز ریکارڈنگ کسی خاص وقت کے لیے محفوظ رکھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح کردار کشی سے متعلق خدشہ ظاہر کیا تو ہو سکتا ہے انہیں کوئی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کی اطلاع ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اس لیے رکنے والا نہیں کہ جب کسی کی غیراخلاقی یا نجی زندگی سے متعلق ویڈیو یا آڈیو آتی ہے تو سیاسی مخالفین اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں بجائے اس کے کہ اس عمل کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بائیکاٹ کریں بلکہ لوگ اسے وائرل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر کوئی ایک قصور وار نہیں بلکہ سبھی اس میں شامل ہیں کیونکہ جب جس کو موقع ملتا ہے مخالفوں پر اچھلنے والے کیچڑ کو پھیلا دیا جاتا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی یا پرائیویٹ ملاقاتوں کی ویڈیوز کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم اس ٹرینڈ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر صارفین میں کافی تجسس پایا جا رہا ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ویڈیو میں آخر کون کون ہے اور کیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شرم ناک سلسلہ محض چند لوگ اپنی فالونگ بڑھانے کے لیے شروع کر رکھا ہے۔

Related Articles

Back to top button