سوشل میڈیا پر گیلے تیتر کا رگڑا کیوں نکالا جا رہا ہے؟


پاکستانی سوشل میڈیا پر گیلا تیتر نامی اینکر عمران ریاض اور عمرانڈو صحافی سمیع ابراہیم سخت تنقید کی زد میں ہیں جس کی بنیادی وجہ ایک ویڈیو ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

اس ویڈیو میں گیلا تیتر اور سمیع ابراہیم سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو تضحیک کا نشانہ بناتے اور قہقہے لگاتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ذرا آرمی بیرک میں اپنے ریپ کا قصہ تو سنائیے۔ اس ویڈیو کو بنانے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی وجہ سے گیلا تیتر اور سمیع ابراہیم سوشل پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور مطیع اللہ جان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ریپ سے متعلق ‘لطائف’ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے معاشرے میں، ریپ، متاثرہ شخص کے لیے گالی بھی ہے اور عمر بھر اس کی تذلیل اور تضحیک کا ایک ذریعہ بھی۔ دنیا کے کئی ممالک میں ریپ کا شکار عورت یا مرد کے خلاف ایک عمومی رویہ ہے۔ ریپ سے متعلق لطائف سنائے جاتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ریپ ایک جرم ہے اور اس کا نشانہ بننے والے شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف سے گزرتے ہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہی بحث جاری ہے اور اس کی بنیاد وہی ویڈیو ہے جس کا ذکر آغاز میں کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان جملوں کا نشانہ بننے والا صحافی نہایت ’ان کمفرٹیبل‘ ہے اور انہیں بار بار تنبیہ کر رہا ہے کہ وہ ایک الزام دہرا رہے ہیں جو انہیں ثابت کرنا ہوگا اور یہ کہ وہ انکے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ تاہم عمرانڈو صحافیوں پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ مسلسل مطیع اللہ جان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں گیلا تیتر نامی عمران ریاض خان سینئر صحافی مطیع سے متعلق کہتا ہے کہ ان کا الزام ہے کہ ان کا فوجی بیرک میں ریپ ہوا۔ اس پر مزید جملے کسے جاتے ہیں اور وہاں موجود دیگر لوگ ہنستے ہیں۔ عمرانڈو اینکر سمیع ابراہیم کو ویڈیو میں ہنستے ہوئے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میں تو اس سے کہتا ہوں چادر اور چار دیواری کے تقدس پر بات کرو کیونکہ تم ریپ وکٹم ہو، مگر یہ نہیں مانتا’۔ اس جملے پر وہاں موجود سب لوگ ایک بار پھر ہنس پڑتے ہیں۔ انہیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میں نے تمہاری پرانی فوٹو دیکھی ہے، تم بچپن میں بہت کیوٹ تھے۔’ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو گیلے تیتر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مطیع پر الزام سمیع ابراہیم نے لگایا اور میں نے اسے ایسے ہی دہرایا جیسے مطیع دیگر لوگوں کے ساتھ کرتا ہے’۔ تاہم سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ نہ تو اس نے ایسا الزام لگایا اور نہ ہی ریپ کا لفظ استعمال کیا، بلکہ یہ الزام عمران ریاض خان نے لگایا۔

گیلے تیتر اور سمیع ابراہیم کی بکواس کا جواب دیتے ہوئے مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کبھی ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر ریپ کومذاق اڑانے کے لیے استعمال کرنے پر گیلے تیتر کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ بلاگر عمائمہ احمد نے لکھا کہ یہ ویڈیو خوفناک ہے اور ان کی دعا ہے کہ کسی کو بھی ایسے رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ‘کاش خواتین کے حصے میں بھی اتنی ہی سپورٹ آتی’۔ اینکر ابصا کومل نے ٹویٹ کی کہ ‘جواب دینے کی بجائے ذومعنی الزامات، دونوں نام نہاد اینکر ہنس رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادتی جیسا حساس موضوع ان کے لیے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ‘

شمع جونیجو نے بھی اس پر بات کی اور کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر انہیں دھچکا لگا ہے کہ کیسے لفظ ریپ ایک انسان کی تحقیر کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ ’کسی کو اس کے تلخ تجربے یا ٹراما کی یاددہانی کرانا ایک مذاق ہے؟‘

صارف ماہین غنی نے لکھا کہ مردوں کو ریپ سے متعلق لطیفے گھڑتے دیکھنے سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی نہیں ہے۔ ‘یہ اندر اور باہر کی غلاظت ہے۔’ اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر اس ویڈیو نے یہ حقیقت بھی کھول دی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کیسے ریپ کا شکار افراد کو طنز و مزاح کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان رویوں سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو بچپن میں ریپ کا نشانہ بنے یا وہ جو پہلے ہی اس بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button