سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلوں نے کنفیوژن کیسے پھیلایا ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے پے در پے مبہم اور متنازعہ فیصلوں نے اتنا کنفیوژن پھیلا دیا ہے کہ حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے کیس میں دونوں فریقین آئین کے آرٹیکل 63 اے کی اپنی مرضی کی تشریح کرنے میں حق بجانب دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر پھر سے سیاسی و آئینی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ پچھلی بار حمزہ بڑی ’’اکثریت‘‘ سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن کامیابی کا سہرا سجانے والے تحریک انصاف کے 35 منحرف اراکین اپنی نشستیں گنوا بیٹھے اور عمران خان نے 20 میں سے 15 نشستیں جیت کر انتخابی معرکہ سر کرلیا تھا، لیکن اس عددی برتری کے باوجود وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں واضح اکثریت کے باوجود عمران کے بقول ’’پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو‘‘ پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کا تاج اپنے سر پر نہ سجا سکے۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63-A کی سپریم کورٹ کی تشریح جو تحریک انصاف کے خوب کام آئی، اس بار مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ گنے جانے کی راہ میں حائل ہوگئی۔ یوں چوہدری پرویز الہٰی کے 186 اکثریتی ووٹوں کے باوجود حمزہ شہباز سات ووٹ کم ہونے کے باوجود 179 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ مسلم لیگ ق کے صدر شجاعت حسین کے خط کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے 10 ووٹ شمار نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز الہٰی کی شکست اور حمزہ شہباز کی فتح کا اعلان کردیا۔ اب وکلا کی فوجیں ہیں جو آئین کے آرٹیکل 63-A کی مختلف تشریحات کررہی ہیں۔ ایک گروپ کہہ رہا ہے کہ اگر قاف لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا کوئی فیصلہ تھا تو پھر حمزہ کا انتخاب غلط ہے، جبکہ دوسرا گروپ پارٹی سربراہ شجاعت کی ہدایت کو فیصلہ کن قرار دے رہا ہے۔

بقول امتیاز، مجھے یاد نہیں کہ کبھی پاکستان میں کسی پارلیمانی پارٹی نے کسی بڑے فیصلے کا اختیار پارٹی سربراہ کی بجائے کسی اور کو دیا ہو۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے پے در پے فیصلوں اور خاص طور پہ 17 مئی کے فیصلے سے اتنا کنفیوژن پھیلا ہے کہ آرٹیکل 63-A کی نئی تشریح سے یہ شق پارٹی سربراہ کے حق میں اور اراکین کے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کے استحقاق کے خلاف سمجھی جارہی ہے۔ جس میں اگر کوئی رکن پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف ووٹ بھی دے گا تو وہ شمار نہیں ہوگا۔

یہی ڈپٹی سپیکر نے کہا اور عددی اکثریت ہار گئی۔ اس سب ٹوپی ڈرامے کے پیچھے سیاست کے بڑے کھلاڑی آصف زرداری انتخاب سے ایک روز قبل رات گئے چوہدری شجاعت حسین کو پی ٹی آئی کے امیدوار کو ناکام بنانے کے لیے ایک خط لکھوانے میں کامیاب ہوگئے اور بساط پلٹ گئی۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور شجاعت حسین میں اتفاق تھا کہ پرویز الہٰی اگر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے امیدوار بن جائیں تو انہیں سپورٹ کیا جائے، لیکن اگر وہ تحریک انصاف کے امیدوار رہیں گے تو ان کی مخالفت اور حمزہ شہباز کی حمایت کی جائے۔ یوں پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھ میں آتا آتا مسلم لیگ ن کے پاس فی الوقت بچ رہا ہے۔ اب معاملہ پھر سپریم کورٹ کے پاس ہے حکومتی اتحاد کی جانب سے اس کیس کو سننے کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اب سپریم کورٹ اپنے ہی فیصلے کی پھر سے کیا تشریح کرتی ہے، اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن حکمران اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا گزشتہ بنچ نہیں بلکہ پوری سپریم کورٹ کا مکمل بنچ اس معاملے یا آرٹیکل 63-A جیسا کہ وہ ہے، بارے فیصلہ کرے نہ کہ آئینی تشریح کے نام پر آئین کی شق کو ہی بدل کر رکھ دے جو کہ مقننہ کا حق ہے۔ اس ساری دھما چوکڑی میں پارلیمانی سیاست، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کا جنازہ نکل گیا ہے۔ جو سیاسی بحران عمران خان کے خلاف قبل از وقت عدم اعتماد کے کامیاب ووٹ سے شروع ہوا تھا وہ اب پنجاب کی سیاست کے سنگھا سن کو ہلا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج آئندہ دنوں میں معیشت کے لیے مہلک ترین مضمرات کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ سیاست کا ایک تماشہ لگا ہے اور ملک معاشی طور پر ڈوب رہا ہے۔ سیاست کا بھی کیا المیہ ہے کہ پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ ق کی اندرونی خاندانی خلفشار کی نذر ہوگئی ہیں جو جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے سیاسی فراڈ چلانے کے لئے بنائی گئی تھی۔

ایک پرویز الہٰی کی سیاسی قلابازیوں اور چوہدری خاندان کی اندرونی رسہ کشی نے تینوں بڑی جماعتوں کو بے دست دبا کر کے رکھ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو خراب کرسکتی ہے۔ لیکن یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ اس میں آصف زرداری کی سیاسی چال بازی کو دوش کیوں؟

سارے فریقین اپنے اپنے مفاد اور پاورا سٹرگل میں کبھی ایک اصول کا پرچم بلند کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے اس پرچم کو رسوا کردیتے ہیں۔ اصول رہا، نہ پارلیمانی اقدار، جمہوریت کے خدوخال مٹے ہیں تو آئین کی بے حرمتی اور عدلیہ کے متضاد فیصلوں سے اداروں کی بے توقیری زبان زدعام ہے۔

بقول امتیاز عالم، ہمارے سیاستدان ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہے۔ نہ ہی عمران خان اپوزیشن لیڈر کے طور پر کھیل کے کسی اصول پر کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اب انتخابات نومبر میں ہوں یا مارچ میں یا اس سے آگے، کچھ زیادہ فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی نیوٹریلیٹی پہ مصر مقتدرہ یا افواج کی سیاست سے عدم دلچسپی وجہ نزاع ہونی چاہئے جو کہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اگر کوئی بات قومی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے تو وہ ہے معاشی بحران جو گزشتہ تمام حکومتوں ہی کی دین ہے اور سبھی پر قومی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ مل کر معاشی سلامتی و بحالی کے لیے ایک ایجنڈے پہ آئیں اور آئندہ کے انتخابات کے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

اتحادی حکومت معاشی بحران کا پتھر اُٹھارہی ہے تو عمران خان کیوں انارکی پیدا کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ ملک کا معاشی دیوالیہ مکمل طور پر پٹ گیا تو پھر کوئی حکومت چل پائے گی نہ ملک سنبھل پائے گا۔ اب کوئی فوجی نسخہ بھی کام نہ آئے گا۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ عمران خان کو معاشی سلامتی و بحالی اور آئندہ صاف و شفاف انتخابات پہ کھلے ایجنڈے اور کھلے دل کے ساتھ دعوت دے، عمران خان جو پنجاب کی حکومت لینے کے لیے اتنے بے چین ہیں اور ضمنی انتخابات میں بھرپور شرکت سے کھوئی ہوئی صوبائی نشستیں حاصل کرتے ہیں، ان کی قومی اسمبلی میں واپس نہ جانے کی بات سمجھ سے باہر ہے۔

بقول امتیاز عالم، اگر آپ آئینی و پارلیمانی دائرے میں رہنا چاہتے ہیں اور اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر بات چیت کی میز پر آنا ہوگا۔ سڑکوں کو گرمانے سے پاکستان سری لنکا ہی بن سکتا ہے جہاں اب کوئی حکومت چل نہیں پارہی۔

Related Articles

Back to top button