سہیل وڑائچ نون لیگ کی اندرونی لڑائی پھر باہر لے آئے

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ لندن میں ہونے والی ملاقات کی تفصیل جیو ٹی وی پر بیان کیے جانے کے بعد مسلم لیگ نون کی اندرونی لڑائی ایک مرتبہ پھر اُبھر کر سامنے آ گئی ہے جس کے بعد نواز شریف نے معاملے کو دبانے کے لئے اپنے سے منسوب گفتگو کی تردید کر دی ہے تاہم نواز لیگ کے مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما بھی نواز شریف کی جانب سے کی گئی تردید کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور ان کا اصرار ہے کہ میاں صاحب نے شہباز شریف حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے حوالے سے سہیل وڑائچ کے ساتھ گفتگو لازمی کی ہوگی۔
میاں صاحب کا اصرار ہے کہ سہیل وڑائچ کے ساتھ شہباز شریف حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ان کی کوئی گفتگو ہوئی ہی نہیں تاہم میاں صاحب یہ دعویٰ کرتے ہوئے شاید بھول گئے کہ ان کی سہیل وڑائچ کے ساتھ ملاقات میں نہ صرف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود تھے بلکہ لندن کے ایک سینئر صحافی طاہر چوہدری بھی موجود تھے جنہوں نے اس گفتگو کی تصدیق کی ہے۔
مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے سہیل وڑائچ کے ساتھ جو فرینک گفتگو کی تھی وہ پرانے تعلق کی وجہ سے کی تھی اور انکا خیال تھا کہ اسے آف دی ریکارڈ ہی رکھا جائے گا لیکن تب ان پر شدید دباؤ آگیا جب سہیل وڑائچ نے شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں تمام آف دی ریکارڈ گفتگو کھل کر بیان کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے اس گفتگو کو اپنے خلاف چارج شیٹ کے طور پر لیا اور فوری طور پر لندن رابطہ کرلیا جس کے بعد بڑے میاں صاحب نے ایک بھر پور تردید جاری کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ شہباز شریف سابقہ عمران حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ سمیٹنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ جیو ٹی وی پر سہیل وڑائچ کے اس بیان کے بعد بھونچال آ گیا کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، سیاسی تجزیہ کار اب اس بات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو اس وقت اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور پارٹی کے اندر اب یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ حکومت اور مسلم لیگ نون کو علیحدہ رکھا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی پالیسی کے تحت اب نواز شریف اور مریم نواز سمیت پارٹی کی دوسری درجے کی قیادت بھی اپنی ہی حکومت پر تنقید کے نشتر برسا رہی ہے۔
اگر گذشتہ کچھ عرصے میں لیگی قیادت کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات کا مشاہدہ کریں تو واضح نظر آتا ہے کہ پارٹی میں مریم نواز کے مزاحمتی دھڑے نے اپنی ہی حکومت پر کھل کر تنقید شروع کر رکھی ہے اور مفتاح اسماعیل کی پرو آئی ایم ایف معاشی پالیسیوں پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کر رہا ہے۔ اس دھڑے میں شامل لوگوں کا اگر نام لیں تو اس میں سردست خود نواز شریف، اسحاق ڈار، مریم نواز، طلال چوہدری، عابد شیر علی اور میاں جاوید لطیف کے نام سامنے آتے ہیں، یہ وہ نام ہیں جنہوں نے کھل کر یا آف دی ریکارڈ موجودہ حکومت کی معاشی سمت پر تنقید کی ہے۔ عابد شیر علی نے تو حکومت کے خلاف عوامی احتجاج میں شامل ہونے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے حالانکہ اس کی اصل وجہ شاید یہ ہو کہ وہ فیصل آباد سے ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اگر نواز لیگ کے مفاہمتی دھڑے کی بات کریں تو اس میں وزیراعظم شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور خواجہ آصف جیسے نام سامنے آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو ایک عرصہ نواز شریف کے خیالات کے حامی افراد میں شمار ہوتے تھے اب اپنا کیمپ تبدیل کر چکے ہیں۔ ان چاروں لیگی رہنماؤں کو جنرل قمر جاوید باجوہ کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔نون لیگ کی اندرونی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ مفتاح اسماعیل کا بنا ہوا ہے۔ خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی ان کے بہت قریب ہیں اور یہ ایک ٹیم کی طرح کام کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کے مخالف ہیں کہ اسحاق ڈار واپس آئیں اور مفتاح اسماعیل کی چھٹی کروا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار کا پاکستان واپس آنا تیسری مرتبہ منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کو سکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سہیل وڑائچ کی گفتگو سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اس وقت نواز لیگ دو واضح حصوں میں تقسیم ہے اور سیاسی کے علاوہ پارٹی کے اندر دو مختلف معاشی نظریات کا تصادم بھی چل رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے خیال میں جو ہو رہا ہے اس سے بہتر نہیں ہو سکتا، تاہم اسحاق ڈار یہ سمجھتے ہیں کہ معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریلیف دینا بھی ممکن ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں بظاہر مسلم لیگ ن کے اندر کا تناؤ جو دو بیانیوں کی حد تک محدود تھا جیسا کہ ووٹ کو عزت دو اور کام کو عزت دو، اب بڑھ کر دو مختلف معاشی منصوبہ بندیوں تک پھیل چکا ہے۔
مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صورت حال اس سے بھی ایک درجے آگے کی ہے۔ آپ کو یاد ہے نا کہ مریم بی بی نے ایک ٹویٹ کی تھی کہ نواز شریف وہ میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے تھے جس میں بجلی پر مزید ٹیکسوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز سامنے رکھی گئی تھیں۔ اس حد تک تو بات ٹھیک ہے کہ نواز شریف اٹھ گئے تھے لیکن وہ اٹھے اس بات پر تھے جب شاہد خاقان عباسی نے انہیں یہ کہہ دیا کہ میاں صاحب اگر فیصلے ایسے کرنے ہیں تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ واپس آجائیں۔ شاہد خاقان عباسی اس وقت مفتاح اسماعیل کی ترجمانی کر رہے تھے۔ تاہم بعض تجزیہ کار ن لیگ کے اندرونی اختلاف کو معمول کی کارروائی سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک دھڑا جو اس وقت حکومت چلا رہا ہے، ان کی حقیقت اس دھڑے سے مختلف ہے جو حکومت سے باہر بیٹھا ہے۔ تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی سمجھتے ہیں کہ حقائق بدل چکے ہیں۔
اس وقت جس معاشی صورت حال کا سامنا ہے اسے شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل چلا رہے ہیں۔ ۔یرا نہیں خیال کہ اسحاق ڈار اگر آ بھی جاتے تو اس دفعہ حالات ان کے موافق ہوتے۔ وہ باہر بیٹھے ہیں اور نواز شریف بھی سسٹم سے آؤٹ ہیں۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ وہ اپنا سیاسی برزخ کاٹ رہے ہیں۔ ان کو ویسا ادراک نہیں ہوگا جو سسٹم کے اندر بیٹھے افراد کو ہے۔ اس لیے بھی میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کی ٹویٹ کے بعد اس بات کی حیثیت محض ایک سیاسی اختلاف کی رہ گئی ہے۔ یہ کوئی منظم گروپ بندی نہیں ہے بلکہ کچھ زیادہ اونچی آواز میں بولنے والے اپنی بس حاضری ہی لگوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مسلم لیگ ن اپنی اندرونی کشمکش کو اختلاف رائے کا نام دیتی رہی ہے جسکا اسے نقصان سے ذیادہ ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button