سینئر ترین جرنیل کو آرمی چیف بنانا ضروری کیوں ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان نے جتنا گند ڈال دیا ہے اس سے نکلنے کیلئے بہترین راستہ یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح آرمی چیف کی تعیناتی بھی سنیارٹی کے اصول کے تحت کی جائے تا کہ کوئی تنازعہ ہی پیدا نہ ہو۔
روزنامہ جنگ میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد کہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے غیر سیاسی عمل کو عمران جس طرح گلی کی سطح پر لے آئے ہیں، وہ قطعاً ملکی مفاد میں نہیں۔ فوج کو سیاست سے اور سیاست دانوں کو فوج سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ لیکن لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان کسی خاص نام سے بہت زیادہ گھبرا گئے ہیں اور اُس کی تقرری روکنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں، یعنی معاملہ یہ ہے کہ اگر ’میرا بندہ‘ آرمی چیف نہیں لگ سکتا تو میں ’تمہارا بندہ‘ بھی نہیں لگنے دوں گا۔ حماد کے بقول کیسی کوتاہ نظری کی بات ہے کہ سیاست دانوں کو آج تک یہی سمجھ نہیں آ سکی کہ فوجی تو فوجی ہوتا ہے، وہ میرا تیرا بندہ نہیں ہوتا، جنرل ضیا الحق سنیارٹی لسٹ میں آٹھویں نمبر پر تھا، پرویز مشرف تیسرے نمبر پر اور جنرل قمر باجوہ چوتھے نمبر پر، لیکن انہیں چیف بنانے والے وزرائے اعظم کو کس قدر فیض پہنچا یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جتنی مرتبہ مارشل لگا وہ ان ہی جونیئر جرنیلوں نے لگایا جنہیں آئوٹ آف ٹرن ترقی دی گئی، خواہ وہ ضیا ہو یا مشرف۔ لہذا تاریخ کا سبق یہی ہے کہ وزیرِ اعظم رضاکارانہ طور پر اپنا آرمی چیف لگانے کے غیر مشروط حق سے دست بردار ہو جائیں، اور دو سینئر ترین افسروں میں سے ایک کو آرمی چیف اور ایک کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نامزد کر دیا جائے۔

عمران خان کی حالیہ تجویز بارے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نوکری میں ایکسٹینشن بھی ادارے کےسینئر افسران کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہوتی ہے، یہ ایک بری روایت ہے جسے ترک کر دینے میں ہی عافیت ہے۔ ویسے بھی جنرل باجوہ کے لیے ایک ایکسٹینشن کافی ہے اور مزید جرنیلوں کی سنیارٹی مارنا مناسب نہیں ہو گا۔ لیکن عمران اگلے آرمی چیف کو متنازع بنانے کے لئے پر تول رہے ہیں، اُس کا بھی یہی حل ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح آرمی چیف کی تعیناتی کا اصول بھی طے کر لیا جائے تاکہ میرا آرمی چیف اور تیرا آرمی چیف کا تماشا ختم کیا جا سکے، مگر واقفانِ حال کا اصرار ہے کہ اس ضمن میں سینئر موسٹ جرنیل کی تعیناتی کا اصولی فیصلہ بھی شاید عمران خان کو مطمئن نہ کر سکے، ایسے میں اس قضیے کا ایک ہی حل بچتا ہے کہ 22 کروڑ پاکستانی بشمول سات لاکھ فوجیوں کے، بنی گالا محل کی طرف رُخ کر کے دوزانو بیٹھ جائیں اور یک زبان ہو کر نعرہ لگائیں۔۔۔ بتا تیری رضا کیا ہے؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ جوپاپولسٹ راہ نما ہوتے ہیں، ان کے نعرے کان کو نغمے کی طرح بھلے لگتے ہیں، مثلاً ’ہم کوئی غلام ہیں ‘ کتنا خوش آہنگ نعرہ ہے، فشارِ خون میں اِضافے کا باعث اعر اسرارِ شہنشاہی کھولنے والا، ویسے بھی ’غلام‘ کی غ کو جتنی زیادہ غراہٹ سے ادا کیا جائے، آقائوں سے اتنی ہی نفرت کا اظہار ہوتا ہے، ایسا کرنے سے ’حقیقی آزادی‘ کی منزلِ مبارک بالکل سامنے نظر آنے لگتی ہے، لیکن در حقیقت پاپولسٹ نعرے غبارے کی مانند ہوتے ہیں، اور دلیل کی سوئی کی نوک ہلکی سی بھی چُھو جائے تو’پُھس‘ ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کے خلاف جب عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے والی تھی تو انہوں نے قوم کو بتایا کہ یہ ’امریکی سازش‘ ہے، اور امریکہ انہیں اس لئےنکالنا چاہتا ہے کیونکہ انہوں نے ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہا ہے، اور پھر پی ڈی ایم کی حکومت کو انہوں نے ’بھکاریوں‘ کی ’امپورٹڈ حکومت‘ قرار دے دیا۔ یہ نعرے پاپولزم کی بہترین مثال ہیں، سب کے سب غیر حقیقی، کانوں میں اَمرت دھارا گھولنے والے، افسانے، کہانیاں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر کے لکھے ہوئے ایک مراسلے کو بنیاد بنا کر ناصر ادیب کی سطح کا ایک اسکرپٹ بُنا گیا، جو باشعور لوگوں کی توہین کے مترادف تھا۔ عمران خان جو ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دھمال ڈالتے ہوئے وطن لوٹے تھے، اور ٹرمپ کی زیارت کو ورلڈ کپ جیسی فتح قراردیتے تھے، وہ ایک دن صبح اٹھے تو قومی خودداری کے جذبے سے سرشار ہو چکے تھے، عمران جو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے بھکاری تھے، یعنی پچھتر سال میں سب سے زیادہ قرضہ لینے والے پاکستانی حکمراں، انہوں نے اوروں کو بھکاری کہنا شروع کر دیا، خان صاحب جو ایک بادشاہ سے تحفہ میں ملی ہوئی گھڑی بیچتے پائے گئے اور بادشاہ کو بھی خبر ہو گئی، انہوں نے حکومت سے نکلتے ہی ’حقیقی‘ آزادی‘ کا اعلان فرما دیا۔

پھر خبر آئی کہ پی ٹی آئی نے امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں، اور پچھلے ہفتے بنی گالا میں سابق امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری رابن رافیل اور عمران خان کی ملاقات کی تصدیق کی گئی، موضوعِ گفتگو کیا تھا، اس بارے میں کچھ بتایا تو نہیں گیا مگر توقع ہے کہ خان صاحب نے امریکی سازش کے بیانیے پر معذرت کی ہوگی، اپنی سیاسی مجبوریوں پر روشنی ڈالی ہو گی، اور آئندہ ’بیبا بچہ‘ بننے کی یقین دہانی کروائی ہو گی۔ یعنی پاپولسٹ لیڈرز کے نعروں کی بس اتنی ہی عمر ہوتی ہے۔بہرحال، حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس ملاقات کے ایک دن بعد عمران نے غالباً اپنی سیاسی زندگی کا اب تک کا سب سے بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ موجودہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دی جائے، اور پہلے الیکشن کروایا جائے پھر نئی حکومت نیا چیف لگائے۔ بظاہر تو اس تجویز کا عمران خان کی طرف سے آنا ناقابلِ فہم ہے کیوں کہ ابھی چند دن پہلے موصوف نے باجوہ صاحب کی توسیع کو اپنی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا، ویسے بھی چیف کی شان میں آج دن تک جتنے قصیدے عمران نے پڑھے ہیں، اسکی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں۔ میر جعفر، میر صادق، نیوٹرل، جانور، غدار اور نہ جانے کیا کیا، ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران خان اب کس مار پر ہیں اور اب کیا واردات ڈالنا چاہتے ہیں؟

Related Articles

Back to top button