سیکس سکینڈل کے بعد آزاد کشمیر کے صحافی بھارتی ایجنٹ قرار


آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے ایک سیکس اسکینڈل میں ملوث ہونے کی خبر چلانے پر آزاد کشمیر کے دو صحافیوں کے خلاف بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کر کے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جن دو صحافیوں کے خلاف کیس درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے ان میں روزنامہ جدوجہد کے مدیر حارث قدیر اور آصف اشرف شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے لیے دی گئی درخواست میں تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے 13 کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کیس درج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا ہے۔
راولا کوٹ تھانے میں یہ درخواست ’تحریک جوانان کشمیر‘ نامی ایک جماعت کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ اس جماعت کے سربراہ عرفان اشرف نے آزاد کشمیر کے پچھلے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے 5 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے۔ بعد ازاں عرفان اشرف تحریک انصاف کی حکومت میں صوابدیدی عہدے پر فائز ہوئے اور حالیہ تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد انہیں وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کا ترجمان مقرر کرنے کیلئے ایک خصوصی عہدہ تشکیل دیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وزیراعظم آزاد کشمیر کا اسی عرفان اشرف کے ساتھ مبینہ سیکس سکینڈل سامنے آیا ہے۔

سردار تنویر الیاس کی جانب سے رات گئے اپنے بیڈ روم میں ایک نامعلوم شخص کے گھسنے اور فرار کے دعوے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر تو سوالات اٹھ ہی رہے ہیں لیکن سردار تنویر کی ذات کے حوالے سے بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔ جن صحافیوں کے خلاف غداری کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے انہوں نے یہ خبر بریک کی تھی کہ وزیر اعظم اپنے ترجمان کے ساتھ ایک رات نازیبا حالت میں پائے گئے اور اس واقعے کی ویڈیو ایک سکیورٹی گارڈ نے چھپ کر بنا لی تھی۔ چنانچہ سیکورٹی سٹاف کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لئے یہ کہانی گھڑی گئی کہ وزیر اعظم پر حملے کی غرض سے کوئی نامعلوم شخص رات گئے ان کے بیڈ روم میں گھس گیا تھا۔ اے آر وائی ٹی وی چینل نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ان کے ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے ترجمان عرفان اشرف کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جس وقت نامعلوم شخص وزیر اعظم ہاؤس میں گھسا تب وہاں کے تمام سکیورٹی کیمروں کو آف کر دیا گیا تھا۔ اگلے روز جب چند مقامی صحافیوں نے یہ خبر دی تو انکے خلاف پولیس کو کیس غداری کا کیس درج کرنے کی درخواست دے دی گئی۔

سکینڈل میں ملوث ترجمان وزیر اعظم عرفان اشرف نے اس واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ سکیورٹی خلل کا ذمہ دار انہوں نے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم احسان خالد کیانی، پولیس کے دو ڈی آئی جی یاسین قریشی اور ڈاکٹر لیاقت کو قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ ترجمان وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیق ہو رہی ہے اور ایس ایس پی مظفر آباد یاسین بیگ کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اس واقعے کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد راولاکوٹ سے گرفتاریاں ہوں گی اور حقائق سامنے آ جائیں گے۔

9 جون کو راولاکوٹ میں ایس ایس پی پونچھ کے پاس ایک درخواست جمع کرواتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی جس میں دو صحافیوں حارث قدیر اور آصف اشرف کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الیاس، لبریشن فرنٹ کے رہنما شبیر عثمانی، پیپلز پارٹی رہنما سہیل سدوزئی کے علاوہ ایک بزرگ مقامی شاعر الیاس امین جنڈالوی اور ایک قوم پرست جماعت یو کے پی این پی کے سربراہ شوکت علی کشمیری کے نام شامل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 15 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا کہ ان افراد نے وزیر اعظم اور ترجمان وزیر اعظم سے متعلق ایک جعلی خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ یہ اقدام انہوں نے بھارتی خفیہ اداروں کی ایما پر سرانجام دیا اور یہ لوگ بھارتی خفیہ ادارے کے ساتھ کام کرنے والے گروہ کا حصہ ہیں۔

راوکا کوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست اعتراضات لگا کر سائلین کو واپس دی گئی تھی اور بعد از درستگی یہ درخواست دوبارہ جمع نہیں کروائی گئی۔ انکا کہنا تھا کہ دوبارہ درخواست آنے کے بعد قانونی رائے لیتے ہوئے اس پر کارروائی کی جائیگی۔ دوسری طرف وزیر اعظم ہاؤس کے تمام عملے کو تبدیل کر دیا گیا ہے، سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور تحریک انصاف کی جانب سے ریاست گیر احتجاج بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ احتجاج کس کے خلاف کئے جائیں گے۔ سکیورٹی خلل کے واقعہ سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کے متعلقین کے بیانات بھی متضاد ہیں اور آزاد ذرائع سے تاحال اصل واقعہ کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ ترجمان وزیر اعظم کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کے سی سی ٹی وی کیمرے اس وقت بند تھے اور خواب گاہ میں داخل ہونے والا شخص اہم راز چوری کرنا چاہتا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ شاید وہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ پہلے یہ بیان دیا گیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عقبی دروازوں پر سکیورٹی موجود نہیں ہوتی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواب گاہ میں داخل ہونے والا شخص وزیر اعظم ہاؤس کے اندر سے ہی تھا اور اس کے ہینڈلر راولاکوٹ میں موجود تھے۔

تاہم سی سی ٹی وی کیمروں کی بندش کے حوالے سے انکوائری کی بابت وہ کوئی جواب نہیں دے سکے۔ اس معاملے پر وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری سید خالد گردیزی نے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس معاملے پر صرف ترجمان وزیر اعظم ہی موقف دے سکتے ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وزیر اعظم اپنی سکیورٹی پر ذاتی محافظوں کو رکھنا چاہتے تھے اور سرکاری محافظوں کو ہٹانا چاہتے تھے، تاہم پرنسپل سیکرٹری اور پولیس افسران رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔ انکا موقف تھا کہ وزیر اعظم کی سکیورٹی پر قانونی طور پر ریاستی پولیس کے دستوں کو ہی فرنٹ لائن پر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم دوسری اور تیسری ترجیح پر وہ ذاتی محافظ بھی رکھ سکتے ہیں، لیکن وزیر اعظم فرنٹ لائن پر صرف اپنے ذاتی محافظ رکھنا چاہتے تھے تاکہ ان کی پرائیویسی برقرار رہے۔

وزیر اعظم ہاوس کے ایک افسر نے رازداری کیمروں پر بتایا کہ بظاہر جو واقعہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت کے برعکس لگتا ہے کیونکہ وزیر اعظم کے بیڈروم میں ایسا کوئی راز نہیں ہوتا، جسے کوئی چرانے کیلئے آئے گا، اگر کوئی حملہ آور وزیراعظم کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آیا تھا تو پھر وزیر اعظم کے سامنے آنے پر حملہ کرنے کی بجائے اسکا بھاگ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لئے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کے سچ کیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، طالبعلم رہنماؤں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرنے اور ہراساں کرنے کیلئے دی گئی حکومتی درخواست پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ترجمان وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی جائے جو اہنے غیر اخلاقی اسکینڈل کو دبانے کی خاطر لوگوں پر غداری کے جھوٹے مقدمات درج کروا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button