شمالی علاقوں کی سیر کرنے والے کس عذاب کا شکار ہو گئے؟

عام طور پر موسم سرما کے دوران شدید برفباری میں شمالی علاقہ جات میں راستوں کی بندش کے باعث سیاحوں کو درپیش مسائل کی بازگشت سننے کو ملتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ موسم گرما میں ہی سیاحوں کیلئے پہاڑی علاقوں کا سفر عذاب کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ سے راستے بند ہو رہے ہیں اور بارشوں سے راستوں پر پھسلن کی وجہ سے حادثات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ گرمی کے موسم میں فیملیوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں پر جانیوالے لوگ بڑی تعداد میں کاروں سمیت پھنس چکے ہیں اور مقامی لوگوں کی امداد پر گزارا کر رہے ہیں، جبکہ پیٹرول اور اشیا خورو نوش کی بھی شدید قلت بتائی جا رہی ہے۔

گلگت جانے کے خواہشمند کئی سیاح بابو سر ٹاپ میں پھنس چکے ہیں کیونکہ بارش اور خراب موسم کے باعث سڑکیں بند ہو چکی ہیں، پشاور کے سیاح طارق خان نے بتایا کہ اس وقت ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم ناران سے تھوڑا آگے چلے تو برفباری شروع ہو گئی۔ جب ہم لوگ بابو سر ٹاپ کے قریب پہنچے تو ٹریفک بلاک ہوگئی۔

گلگت بلتستان انتظامیہ کے مطابق اس وقت گلگت کو سکردو سے ملانے والی سڑک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف مقامات سے بند ہے جبکہ بابو سر ٹاپ روڈ کو کھول دیا گیا، گلگت بلتستان کے محکمہ آفات نے عوام کو ہدایت جاری کی ہے کہ ندی، نالوں، دریاؤں اور پہاڑی علاقوں میں سفر سے گریز کیا جائے، اسی طرح مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود ہیں، ڈپٹی کمشنر سکردو کریم داد کے مطابق بارشوں کے سبب سکردو روڈ کئی مقامات سے بند تھی مگر کچھ مقامات پر رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ سڑک کو صاف کرنے کا کام جاری ہے۔ کریم داد کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالات میں بھی ایمرجنسی کا شکار کچھ غیر ملکی سیاحوں کو ہم نے ریڈیو کر کے سکردو شہر میں پہنچایا ہے، انکا کہنا تھا کہ دیوسائی کی طرف سفر کرنیوالوں کو طاقتور گاڑی میں سفر کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

دوسری جانب راستوں میں پھنسے ہوئے سیاحوں سے مری کے مقامی افراد کی طرح یہاں کے باسی لوٹ مار نہیں کر رہے بلکہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر انکی مدد کر رہے ہیں، مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر وہاں پھنسے ہوئے درجنوں خاندانوں کو اپنے گھروں، سرکاری ریسٹ ہائوسز اور سرکاری دفاتر میں ٹھہرایا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راستے کھل جائیں گے مگر واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کب تک کھلیں گے، کیونکہ بارش میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے، سکردو کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہاں موجود سیاحوں کو زیادہ مشکلات درپیش نہیں ہیں تاہم لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے سے کچھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ گلگت اور سکردو کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ کی ہدایات کے بعد پیڑول اور ڈیزل کی محدود مقدار فراہم کی جا رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button