شہباز حکومت اے ٹیم کی بجائے بی ٹیم پر کیوں مبنی ہے؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی بی ٹیموں پر مبنی ہے اور اے ٹیم کو اپنی باری کا انتظار ہے۔ اے ٹیم دراصل میدان میں بی ٹیم کے جمنے کی منتظر ہے۔ ابھی بساط پر مہرے رکھے جا رہے ہیں، اصل کھیل کب شروع ہو گا، یہ فیصلہ کچھ توقف کے بعد ہو گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد جیسے ہی ایک نئی حکومت معرض وجود میں آئی، افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔ نو واردانِ سیاست نعرے لگانے لگے کہ یہ حکومت ایک ہفتہ بھی نہیں چلے گی۔ جب حکومت ایک ہفتہ چل گئی تو کہا گیا کہ یہ ایک مہینہ بھی نہیں چلے گی۔ لیکن جب ایک مہینہ بھی گزر گیا تو پھر سرگوشیوں میں ایک سال کی بات ہونے لگی ہے۔ یہاں تک ان تجزیہ کاران ملت کی بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اس حکومت کا آغاز مخدوش ہے اور انجام نامعلوم ہے۔ انہی حالات میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے، حمزہ شہباز ہزار ہا رخنوں کے باوجود وزیر اعلیٰ بننے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ کا منصب سنبھالا، مولانا اسعد الرحمان نے مواصلات کا شعبہ سنبھالا، ایم کیو ایم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میرین افیئرز کی وزارتیں سنبھالیں اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

لیکن عمار مسعود کا کہنا ہے کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ سیاست دان اتنے سادہ نہیں ہوتے۔ ابھی سب سیاسی جماعتوں کی بی ٹیم کھیل رہی ہے۔ اے ٹیم کو اپنی باری کا انتظار ہے۔ وہ ذرا کھیل جمنے کے منتظر ہیں۔ ابھی بساط پر مہرے رکھے جا رہے ہیں، کھیل کب شروع ہو گا؟ فیصلہ کچھ توقف کے بعد ہو گا۔ غور سے دیکھیں تو ابھی کسی جماعت نے اپنی اے ٹیم کو میدان میں نہیں اتارا۔ مسلم لیگ ن کی بی ٹیم کھیل رہی ہے۔ بی ٹیم میں برائی کوئی نہیں بس مسئلہ یہ ہے کہ یہ اے ٹیم نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن کی اے ٹیم میدان میں ہو گی تو نواز شریف ، مریم نواز ، پرویز رشید اور اسحاق ڈار فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی چاہتی تو آصف عکی زرداری بڑی سہولت سے وزیر اعظم بن سکتے تھے لیکن اس کےباوجود بلاول بھٹو کو میدان میں اتارا گیا۔بلاول بھٹو کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن پیپلز پارٹی کی اے ٹیم اب بھی آصف زرداری ہیں۔ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں۔ وہ چاہتے تو پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہونے کے باوجود کوئی بھی بڑا عہدہ لے سکتے تھے مولانا نے مگر بیٹے کو وزارت دلوائی کیونکہ مولانا جانتے ہیں کہ ابھی اے ٹیم کے کھیلنے کا وقت نہیں آیا۔ ایم کیو ایم اگرچہ کم از کم پانچ دھڑوں میں تقسیم ہے۔ اصل ایم کیو ایم وہی ہے جو خاموش ہے۔ وہ ایم کیو ایم جس کا جب اذن ہوتا ہے تو ایک ایک سیٹ پر دو دولاکھ ووٹ پڑتا ہے۔ ابھی اس ایم کیو ایم کی باری ہے جو نشست تو جیت جاتی ہے مگر ووٹ دس ہزار کے لگ بھگ ہی پڑتے ہیں۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ اے اور بی ٹیم کی تخصیص کی کیا ضرورت ہے۔ اچھا بھلا کام تو چل رہا ہے پھر یہ اے اور بی ٹیم کی تکرار کیوں۔ اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمار کہتے ہیں کہ بی ٹیم میں برائی کوئی نہیں، یہ بھی اچھے لوگ ہی۔ ان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ اے ٹیم نہیں۔ یاد رکھیں۔ بی ٹیم ہمیشہ کسی بھی میدان میں بہت محنت کرتی ہے۔ اے ٹیم کو شکست دینے کی کوشش کرتی ہے، اپنی کارکردگی سے حیران کرنا چاہتی ہے لیکن اب اسے شومئی قسمت کہیں کہ وہ ہمیشہ بی ٹیم ہی رہتی ہے۔ اس میں وہ وصف نہیں ہوتے جو اسے اولین کی فہرست میں لے آئیں۔ سیاست کی اے ٹیم وہ ہوتی ہے جس کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں جس کی پکار پر عوام لپک کر آتے ہیں، جس کے لہجے کی گرج سے حالات بدل جاتے ہیں۔ جو عوام کو اکٹھا کر سکتی ہے۔ جس کے نام کے نعرے لگتے ہوں، جس کے حکم پر ووٹروں کے دل دھڑکتے ہوں وہی اے ٹیم ہوتی ہے۔

بقول عمار مسعود حکومت کو آئے ہوئے دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، بھلے معیشت نہیں سنبھل رہی مگر حکومت سنبھل گئی ہے۔ اب آہستہ آہستہ اے ٹیم کے کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں گے۔ اس میں پہل مسلم لیگ ن نے کی ہے۔اسحاق ڈار کی ممکنہ وطن واپسی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اب چاہے وہ وزیر خزانہ بنیں، ڈی فیکٹو وزیر اعظم کہلائیں، چیئرمین سینیٹ بن جائیں یا پھر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھال لیں، وہ اے ٹیم کے پہلے کھلاڑی ہوں گے جس نے میدان میں قدم رکھا ہو گا۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ سب جماعتوں کے ذکر میں پی ٹی آئی کا تذکرہ کیسے بھول گیا۔ تو جناب پی ٹی آئی نے بھی اپنی اے ٹیم کو میدان میں اتار دیا ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے جلسے سے خطاب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ تحریک انصاف کی اے ٹیم منظر عام پر آگئی ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ جب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو حکومت مل رہی تھی اور انکے مطالبات بھی مانے جارہے تھے تو یہ اے ٹیم اور بی ٹیم کا کیسا بکھیڑا؟ بات بہت واضح ہے پاکستان کی سب سے بڑی اے ٹیم کا اعلان نومبر کے آخر میں ہونا ہے۔ اس ٹیم کے میدان میں اترنے کے بعد سارے کھلاڑی اپنے پتے سامنے لائیں گے۔ تو جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور عمران کی سب تہمتیں ان کے سر ہو گئی ہیں وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ سیاست دان کو تب تک بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ وہ خود بے وقوف نہ بننا چاہے۔

Related Articles

Back to top button