شہباز حکومت کا اپنے ہی خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کا معاملہ اب تحریک انصاف کے کیے ایک مذاق بن چکا ہے کیونکہ خان کی اپنی پنجاب حکومت چار روز گزرنے کے بعد بھی کیس درج نہیں کر پائی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران کی جانب سے ایک نامزد ملزم وزیر اعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر جلد از جلد درج کروائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ یاد رہے کہ عمران جن لوگوں پر ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں ان میں شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ بھی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ عمران خان کے اتحادی وزیراعلی چوہدری پرویز الہی کی پنجاب حکومت نہ صرف عمران کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی بلکہ لانگ مارچ کے قافلے کے حوالے سے ایس او پیز پر بھی عمل درآمد کرنے میں ناکامی کا شکار ہوئی، جس کی تحقیقات ہونے چاہئیں ۔

یاد رہے کہ حملے کی ایف آئی آر اس لئے درج نہیں ہو پا رہی کہ عمران خان شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے علاوہ موجودہ ڈی جی “سی” میجر جنرل فیصل نصیر کو بھی بطور ملزم نامزد کرنا چاہتے ہیں، لیکن پرویز الہی ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عمران پر فائرنگ کرنے والا ملزم زندہ گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے اقبالی بیان بھی دے دیا ہے جس کے بعد خفیہ ایجنسی کے سینئر افسر کا نام بطور ملزم ایف آئی آر میں ڈالنا جائز نہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ نواز شریف اور رانا ثناءاللہ کا نام ایف آئی آر میں ڈالنے پر تیار ہیں۔ دوسری جانب عمران خان اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اگر میجر جنرل فیصل نصیر کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا جاتا تو پھر پرچی درج کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

اسی دوران فوجی ترجمان سختی کے ساتھ عمران کے الزام کو مسترد کر چکا ہے اور اور واضح کیا ہے کہ ادارہ اپنے افیسر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے کیونکہ عمران کے الزام کا بنیادی مقصد فوج کی ساکھ کو خراب کرنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی آپسی جنگ میں وفاقی حکومت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک خط لکھ ڈالا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر جلدازجلد درج کی جائے۔ اس سے پہلے شہباز شریف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے عمران پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے لیے فل کورٹ کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ چیف سیکریٹری پنجاب کو لکھے گئے خط میں وفاقی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کو ہائی پروفائل حملہ کیس سے نمٹنے کے معاملے میں اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔وفاقی حکومت نے اس حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر اب تک درج نہیں کی جا سکی حالانکہ عمومی حالات میں واقعے کے 24؍ گھنٹے کے اندر ہی پرچہ کاٹا جاتا ہے۔ 5؍ نومبر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ واقعہ صوبائی پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی میں ہونے کے باوجود پرچہ نہ کاٹا جانا صوبائی حکومت کی کمزوری کا اشارہ ہے۔ خط میں مزید لکھا ہے،’’واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے یا سابق وزیراعظم کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے اور کاررواں کے متعلق ایس او پیز پر عمل نہ کیے جانے کے حوالے سے کسی طرح کی وضاحت پیش کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی حکومت اس بات کو بھی دیکھ رہی ہے کہ تاحال سابق وزیراعظم کا میڈیکو لیگل بھی نہیں ہوا۔ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ صوبائی حکومت جرم میں استعمال ہونے والے اسلحے کے حوالے سے بھی کوئی معلومات نہیں دے پائی اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس اسلحے کا فارنزک جائزہ لیا گیا ہے یا نہیں۔ اسکے علاوہ کئی گھنٹوں تک جائے وقوع کو بھی محفوظ نہیں کیا جا سکا جو طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ متاثرین کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے بھی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ اسکے علاوہ حملہ آور کے ’’اعترافِ جرم‘‘ کی ویڈیو جاری ہونے کے معاملے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تحقیقات کے عمل میں کس قدر خامیاں ہیں۔ صوبائی حکومت اور اس کے اداروں کی مذکورہ بالا ناکامیاں معاملے سے نمٹنے میں نا اہلی کو واضح کرتی ہیں اور یہ مجرمانہ غفلت ہے۔‘‘

وفاقی حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھے گئے خط کے مطابق، ’’واقعے کے بعد صوبے میں قانون اور امن عامہ کی صورتحال سے بھی موثر انداز سے نہیں نمٹا گیا جس کی وجہ سے عام عوام کیلئے مسائل پیدا ہوئے۔ شر پسندوں کے چھوٹے گروہوں کی جانب سے مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں کی بندش سے پنجاب کے کئی شہروں میں کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو گیا اور ساتھ ہی بین الاضلاع نقل و حرکت بھی بند ہوگئی۔ صوبائی پولیس اور انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے نقل و حرکت کی اُس آزادی پر قدغن لگی جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 15؍ میں دی گئی ہے۔ شر پسندوں کی جانب سے لاہور میں گورنر ہاؤس پر حملے سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ صوبائی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے میں غفلت دکھائی کیونکہ صوبائی حکومت صوبے کے اعلیٰ ترین عہدیدار کے دفتر اور رہائش گاہ کے تحفظ میں ناکام دکھائی دی۔

مذکورہ بالا باتوں کی روشنی میں، یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر مستعدی دکھاتے ہوئے صوبے میں تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کو یقینی بنائے۔ وزیر آباد میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں سی آر پی سی 1898ء کی شق نمبر 154؍ کے تحت ایس ایچ او اور سی ٹی ڈی پنجاب کی مدعیت میں حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر نہ کہ قیاس آرائیوں یا مبینہ الزامات کی روشنی میں فوری ایف آئی آر کاٹی جائے اور مزید وقت ضایع نہ کیا جائے کیونکہ اس معاملے میں تاخیر غیر قانونی ہے اور اس سے ملزم کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کے معاملے میں پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے۔‘‘

Related Articles

Back to top button