شہباز کے 100 روزہ دور میں ڈالر 50 روپے مہنگا ہو گیا


سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے والا امریکی ڈالر اب شہباز شریف کی حکومت کے پہلے 100 دنوں میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے 50 روپے تک مہنگا ہوگیا ہے جس سے پاکستانی روپے کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کرنے میں مسلسل تاخیر ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن کے نتائج کے بعد سے ملک میں شروع ہونے والے سیاسی بحران سے پورا نظام حکومت تعطل کا شکار ہے اور سٹاک مارکیٹ بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی بے یقینی کی وجہ سےاسٹاک مارکیٹ کا برا حال ہے اور روپیہ گرتا جا رہا ہے جبکہ ڈالر اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں 21 جولائی کی صبح ڈالر 230 روپے کی نفسیاتی حد بھی عبور کر چکا تھا لیکن پھر 227 روپے پر آ کر رک گیا جو ملکی تاریخ میں نیا ریکارڈ ہے۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سربراہ ملک بوستان نے روپے کی مسلسل گراوٹ کی وجہ سیاسی عدم استحکام اور افراتفری کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 5 ٹریڈنگ سیشنز میں روپے کے مسلسل گرنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے، امپورٹرز بھی پریشان ہو کر غیر ضروری طور پر مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کر رہے ہیں جس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ بے انتہا بڑھ رہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران امریکی ڈالر عالمی مارکیٹ میں جاپانی ین اور برطانوی پائونڈ سمیت 40 سے زائد کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں، ملک بوستان نے کہا کہ سٹیٹ بینک کو سٹہ بازی میں ملوث بینکوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت میں کیا جانے والا اضافہ روکا جا سکے۔ ملک بوستان نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وہ آئی ایم ایف سے جلد قرضے کی قسط کا بندوبست کرے تاکہ مارکیٹ کا اعتماد حکومت پر بحال ہوسکے۔

معاشی تجزیہ کار اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر عبداللہ ذکی نے روپے کی قدر میں گراوٹ کی بنیادی وجہ گھبراہٹ میں ڈالر کی ریکارڈ خریداری کو قرار دیا اور وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ روپے کی قدر سے متعلق شرائط پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری طور پر مشاورت کریں۔ ان کے بقول درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان دونوں ہی مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں، ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر کو 240 تک لے جانے کے حوالے سے مارکیٹ میں افواہیں گردش کر رہی ہیں جس سے خوف و ہراس پھیل رہا ہے، وزیر خزانہ کو ان افواہوں کو مسترد کرنا چاہئے تاکہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے۔

خیال رہے کہ 22 جون کو 211.93 کو چھونے کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں روپیہ بڑھ کر 204.56 پر آ گیا تھا، اس کے بعد یہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھوتا رہا لیکن جب 15 جولائی کو پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے عملے کی سطح پر معاہدہ کیا تو اس میں معمولی اضافہ ہوا۔ تاہم اس کے بعد سے ہر سیشن میں مسلسل روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ مندی مارکیٹ کے طے شدہ شرح تبادلہ کے نظام کی ایک خصوصیت ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت کرنٹ اکاؤنٹ پوزیشن اور اندرونی غیریقینی صورت حال مل کر روزانہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا تعین کرتی ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی کی وضاحت ٹویٹر پر ٹویٹس کے ذریعے کرتے ہوئے سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں کمی بھی بڑی حد تک ایک عالمی رجحان ہے۔ ’عالمی سطح پر گذشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی ڈالر 12 فیصد اضافے کے ساتھ 20 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے کیونکہ امریکی ادارے فیڈ نے بڑھتی ہوئی افراط زر کے جواب میں جارحانہ انداز میں شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔‘ سٹیٹ بینک کے مطابق سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں پاکستان کی فچ کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے جبکہ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہوئی ہے۔

Related Articles

Back to top button