صدر علوی، باجوہ اور عمران کی لاہور میں موجودگی پر افواہیں

11 نومبر کو ایک ہی وقت میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، صدر عارف علوی اور عمران خان کی لاہور میں موجودگی نے سوشل میڈیا پر پھر سے افواہوں کا بازار گرم کر دیا ہے اور تینوں کی ممکنہ ملاقات کے قصے چلائے جا رہے ہیں، تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ آرمی چیف کی جانب سے عمران خان سے رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی گئی ہے، یہ تمام تر افواہیں ایسے وقت میں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی اور سربراہ مسلم لیگ (ن) سے نئے آرمی چیف کے تقرر پر مشاورت کے بعد لندن میں موجود ہیں جبکہ وزیر آباد حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے عمران لاہور میں موجود ہیں اور روزانہ اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے میں سختی لاتے چلے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے فوج کے ساتھ جاری ’بیک چینل مذاکرات‘ میں صدر عارف علوی ایک کلیدی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، وہ پہلے ہی جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کے درمیان ایوان صدر میں کم از کم دو براہ راست ملاقات کروا چکے ہیں جو کہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تھی جو کہ عمران خان کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کو ناقابل عمل قرار دے دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی ذرائع نے تصدیق کی کہ صدر عارف علوی گزشتہ ہفتے عمران خان کی عیادت کے لیے پہنچے جہاں انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام عمران خان تک پہنچایا۔ جنرل قمر باجوہ ملتان گیریژن میں تعینات فوجیوں اور افسران سے الوداعی ملاقات کے بعد واپس آتے ہوئے 11 نومبر کی رات رات لاہور میں ٹھہرے، پی ٹی آئی ذرائع نے تینوں کے درمیان ملاقات یا صدر علوی کے ذریعے عسکری قیادت کی جانب سے کوئی نیا پیغام بھیجے جانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے وزیر آباد حملے کے بعد فوج اور آئی ایس آئی پر جس طرح کے سنگین الزامات کی بوچھاڑ کی ہے اس کے بعد ایسی کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں صدر عارف علوی، عمران خان اور جنرل قمر باجوہ دونوں سے ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقاتیں ان اطلاعات کے پیشِ نظر ہو رہی ہیں کہ نواز شریف نے سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے عمران کو کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ فوج کی جانب سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) پر پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ فوجی کمان میں تبدیلی کا عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔ لیکن عسکری ذرائع نے تحریک انصاف کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کو کنفیوژن پھیلانے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button