صدر علوی کے یوٹرن کے بعد دو ماہ میں پنجاب کا تیسرا گورنر


پاکستان کے پہلے آئین شکن سویلین صدر عارف علوی نے نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے میاں بلیغ الرحمن کی گورنر پنجاب کے طور پر تعیناتی کی منظوری دے کر خود اپنے اس سابقہ موقف کی نفی کر دی ہے کہ عمر سرفراز چیمہ اب بھی قانونی طور پر گورنر پنجاب ہیں اس لیے بلیغ الرحمان کی تقرری نہیں کی جا سکتی۔ یوں دو ماہ کے قلیل عرصے میں پنجاب کا تیسرا گورنر تعینات کرتے ہوئے عارف علوی نے بھی کپتان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یوٹرن لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے اپنے ہی گورنر چوہدری سرور کو 3 اپریل 2022 کو برطرف کر دیا تھا جبکہ ان کی جگہ عمر چیمہ کو گورنر لگایا گیا تھا تاکہ وہ کپتان کا عمرانڈو ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے صوبے میں گند ڈال سکیں۔ لیکن اب ن لیگ کی حکومت نے عمر چیمہ کو گورنر کے عہدے سے ہٹا کر بلیغ الرحمن کو گورنر کا عہدہ دلوا دیا ہے جن کا تعلق جنوبی پنجاب کی بہاولپور ڈویژن سے ہے۔ بلیغ نے حلف اٹھاتے ہی وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کی پنجاب کابینہ کو بھی حلف دلوا دیا ہے۔

یاد رہے کہ آئین شکن صدر عارف علوی اپنے عمرانڈو ساتھی عمر چیمہ کے ساتھ مل کر پچھلے کئی ہفتوں سے پنجاب میں گند ڈال رہے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے 17 اپریل کو عمر چیمہ کی برطرفی کی سمری صدر کو بھجوائی تھی جس پر چیمہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعظم کے پاس انہیں برطرف کرنے کا اختیار نہیں اور صرف صدر ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس سمری میں شہباز شریف نے گورنر پنجاب کے لیے پیپلز پارٹی کے مخدوم احمد محمود کا نام تجویز کیا تھا، تاہم جب صدر نے سمری کو بغیر کسی فیصلے کے 15 دن تک روکے رکھنے کے بعد واپس کر دیا تو وزیراعظم نے یکم مئی کو عمر چیمہ کی برطرفی اور ان کی جگہ بہاولپور سے مسلم لیگ (ن) کے وفادار بلیغ الرحمان کے تقرر کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مشورے کی دوبارہ توثیق کی تھی۔ تاہم صدر نے دوسری سمری کو بھی مسترد کر دیا تھا اور شہباز کو آگاہ کیا تھا کہ گورنر کو انکی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا اور وہ آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق صدر کی خوشنودی کے مطابق اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔

عارف علوی نے وزیر اعظم کو اس گفتگو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے عمر چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے وزیر اعظم کے مشورے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ آرٹیکل 101 (2) کے تحت گورنر، صدر کی خوشنودی تک عہدے پر فائز رہے گا۔ صدر نے عمر چیمہ کے 23 اپریل 2022 کے خط اور مورخہ 4 مئی 2022 کی ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی کے اراکین کی وفاداریاں تبدیل ہوئیں، پنجاب اور اکثریت کو غیر قانونی طریقے سے جوڑ کر صوبے میں گورننس کے سنگین مسائل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

اب چونکہ آئین کے مطابق صدر کے پاس وزیراعظم کی جانب سے دوبارہ بھجوائے گئے نام کی منظوری کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا لہذا بلیغ الرحمن کو گورنر تعینات کر دیا گیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر ان کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ میاں بلیغ الرحمن کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے۔ ان کا خاندان بہاولپور کے متمول  اور قدیم خاندانوں میں سے ایک ہے۔ ان کے والد عقیل الرحمن نے 1985 میں سیاست کا آغاز کیا تھا۔ بعد ازاں وہ نواز شریف کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔ 1997 کے عام انتخابات میں نواز شریف نے حاصل پور کی سیٹ پر دو بڑے سیاسی ناموں ریاض پیرزاہ اور تسنیم گردیزی کی جگہ عقیل الرحمن کو بلا مقابلہ ممبر قومی اسمبلی منتخب کروایا۔بلیغ الرحمن نے باقاعدہ سیاست کا آغاز 2008 کے عام انتخابات سے کیا اور بہاولپور کے حلقہ این اے 185 سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔اسی طرح انہوں نے 2013 میں بھی اسی نشست سے الیکشن جیتا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بلیغ الرحمن کو اپنی کابینہ کا حصہ بنایا اور انہیں وزیر مملکت برائے تعلیم مقرر کیا جبکہ ان کے پاس وزیر مملکت برائے داخلہ کاچارج بھی رہا۔2017 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تو شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے۔ میاں بلیغ الرحمن ان کی کابینہ میں بھی وفاقی وزیر تعلیم رہے۔تاہم 2018 میں وہ اپنی نشست ہار گئے اور ممبر قومی اسمبلی منتخب نہ ہو سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ کا بلیغ الرحمن کو گورنر پنجاب تعینات کرنا جنوبی پنجاب کو نمائندگی دینے کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ گورنر تعینات ہونے کے بعد ان کے حلقہ این اے 185 کا ٹکٹ قاف لیگ کے طارق بشیر چیمہ کو دیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دینے کے وعدے بھی کیے گئے ہیں۔ بلیغ الرحمن نے ابتدائی تعلیم بہاولپور کے مشہور زمانہ صادق پبلک سکول سے حاصل کی اور اس کے بعد آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ آٹو موبائلز کے کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ ان پر غیر قانونی زمین کی الاٹمنٹ کا کیس بھی چل رہا ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق بلیغ الرحمن نواز شریف کے قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور جنوبی پنجاب صوبہ اور عوام کی ایک توانا آواز ہیں۔بلیغ الرحمن کے گورنر تعینات ہونے کے بعد پنجاب میں جاری اس آئینی بحران میں کمی متوقع ہے جو 3 اپریل سے جاری ہے۔

Related Articles

Back to top button