عثمان کاکڑ کا 30 کلومیٹر لمبا تاریخی جنازے کا جلوس


23 جون کو کوئٹہ میں پشتون رہنما عثمان کاکڑ کے جنازے کو بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار دیا جارہا ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے جبکہ کاکر کے جنازے کے جلوس کی لمبائی 30 کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
کاکڑ کے جنازے کی کوریج کرنے والے کوئٹہ کے سینئیر صحافی حفیظ اللہ شیرانی نے بتایا کہ کوئٹہ سے عثمان کاکڑ کی میت لے جانے والے قافلے کی لمبائی 30 کلومیٹر سے زائد تھی۔ قافلے کا ایک سرا کچلاک اور دوسرا کوئٹہ میں تھا۔ کوئٹہ سے مسلم باغ تک جگہ جگہ ہزاروں لوگوں نے سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہوکر کاکڑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کئی مقامات پر خواتین بھی باہر نکلی ہوئی تھیں جنہوں نے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ کوئٹہ کی کئی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کیا تھا۔ مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ میں ہوٹلوں میں باہر سے آنے والے افراد کے لیے جگہ کم پڑگئی تو وہاں کے مقامی رہائشیوں نے انکے لیے اپنے مہمان خانے کھول دیے۔پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی بڑی تعداد میں افراد نے عثمان کاکڑ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
سینیئر صحافی ایوب ترین کے مطابق ’اگر میں یہ کہوں کہ اپنی زندگی میں کسی اجتماع میں لوگوں کا اتنا ہجوم نہیں دیکھا تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اس سے پہلے 2002 میں سی آئی اے اہلکاروں کے قتل کے الزام میں امریکہ میں سزائے موت پانے والے ایمل کاسی کا کوئٹہ میں تاریخی جنازہ ہوا تھا مگر عثمان کاکڑ کے جنازے میں لوگوں کی شرکت اس سے بھی زیادہ تھی۔‘ ان کے بقول ’عام و خاص لوگ اپنے کام چھوڑ کر اور کاروبار بند کرکے گرمی میں پیدل، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں دور دراز علاقوں سے اپنی مدد آپ کے تحت پہنچے تھے۔ وہ والہانہ انداز میں عثمان کاکڑ کے لیے احترام، محبت اور عقیدت کا اظہار کررہے تھے۔ ہر شخص ایسے سوگوار تھا جیسے ان کا اپنا بھائی یا کوئی بہت ہی قریبی رشتہ دار بچھڑ گیا ہو۔‘ ایوب ترین کے مطابق ’پشتون قوم پرست رہنما ہونے کے باوجود کراچی سے کوئٹہ تک 700 کلو میٹر راستے میں بلوچ علاقوں میں جس طرح میت لے جانے والے کے قافلے کا استقبال کیا گیا وہ بھی تاریخی تھا’۔ انکامکہنا تھا کہ عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں پسے ہوئے طبقات کے لیے جس طرح بے خوف ہوکر آواز بلند کی انہی طبقات کے لوگوں نے آخری سفر پر انہیں یادگار انداز میں رخصت کیا۔‘
یہ بھی یاد رہے کہ مسلم باغ کے جس قبرستان میں عثمان کاکڑ کو مٹی کے سپرد کیا گیا وہاں یہ پہلی اور واحد قبر تھی مگر جنازے میں لوگوں کا جم غفیر شریک تھا۔ نہ صرف بلوچستان بھر بلکہ ملک کے کونے کونے سے لوگ مسلم باغ پہنچے۔پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ’عثمان کاکڑ کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔‘ پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی اسے ’پشتون خطے کا سب سے بڑا جنازہ‘ قرار دیا۔ سابق سینیٹر کی نماز جنازہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے پڑھائی۔ جنازے میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا تعزیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے عثمان کاکڑ کی سیاسی خدمات اور افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ’افغان عوام عثمان کاکڑ کے خاندان اور ان کی جماعت کے غم میں شریک ہیں۔
تدفین سے قبل تعزیتی جلسے سے خطاب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’عثمان خان کاکڑ کسی بیماری سے نہیں مرے بلکہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی۔‘ان کے گھر میں لوگ داخل ہوئے۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں جو کسی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے والے ادارے کو دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
مسلم باغ کے رہائشی اور عثمان کاکڑ کے ایک رشتہ دار محمد آصف سرگڑھ نے بتایا کہ ’پشتونوں کے کاکڑ قبیلے کی سرگڑھ شاخ سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑکے خاندان اور قبیلے کے افراد نے چند ماہ قبل آبائی قبرستان میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے کلی سٹیشن کے قریب اس نئے قبرستان کے لیے جگہ کا انتخاب کیا تھاَ۔ عثمان کاکڑ کے شاید گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قبرستان میں پہلی قبر ان کی اپنی ہی ہوگی۔‘ ان کے بقول قبرستان کا نام اب شہید عثمان کاکڑ قبرستان رکھ دیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button