عدالتی حکم کے باوجود عمران کا بنی گالہ محل غیر قانونی قرار


معلوم ہوا ہے کہ دسمبر2020 میں سپریم کورٹ کی جانب سے اپنی رہائش گاہ ریگولرائزکرانے کے احکامات کے باوجود عمران خان نے اسلام آباد کی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے اپنا 300 کنال پرمحیط محل نما گھر ابھی تک ریگولرائز نہیں کروایا اور اسکا سٹیٹس اب بھی غیر قانونی رہائش گاہ کا ہے۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سرکاری دستاویزات کے مطابق عمران خان نے ابھی تک اپنی غیر قانونی تعمیرات کو قانونی درجہ دلوانے کے لیے ریگولرائزیشن کے قواعد اور شرائط کو پورا نہیں کیا۔ 3 مارچ 2020 کو عمران خان نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنے 300 کنال کے گھر کو ریگولرائز کرنے کے لیے محض 12 لاکھ روپے ادا کیے۔ خان نے یہ رقم اپنے گھر کے صرف گراؤنڈ فلور کے بلڈنگ پلان کی منظوری کے لیے ادا کی تھی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم نے شہری ادارے کو آگاہ کیا کہ ان کے گھر کے گراؤنڈ فلور کا احاطہ 11371 مربع فٹ کا ہے۔ سی ڈی اے نے گرائونڈ فلور کی ریگولرائزیشن فیس کا حساب لگا کر ان سے12لاکھ 6 ہزار روپے وصول کیے تھے۔ تاہم اسکے باوجود عمران کے 300 کنال کے رہائشی مکان کے پورے لے آؤٹ کی ریگولرائزیشن اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے بلڈنگ کنٹرول رولز 2020 کی دیگر کئی شرائط کو پورا کرنے سے مشروط ہے۔ ان شرائط کے پورا ہونے کے بعد بھی حتمی منظوری کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سفارشات پر دی جائے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود سابق وزیراعظم اپنے ہی دورحکومت میں اپنا گھر کیوں ریگولرائز نہیں کرا سکے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں اپنی غیر قانونی قرار دی گئی بنی گالہ رہائش گاہ کو ریگولرائز کروا کے بچا لیا تھا جب کہ وہیں موجود درجنوں دوسری رہائش گاہوں کو گرادیا گیا تھا۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر کو ریگولرائز کروانے کا عمل مکمل نہیں کروایا۔

اس سے پہلے اسلام آباد کے لینڈ ریونیو ریکارڈ اور جمائما خان کے بیان حلفی سے اس فراڈ کا انکشاف ہوا تھا کہ عمران خان سال 2003 میں بنی گالہ کی جائیداد کے مالک نہیں تھے لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں جمع کروایا گیا کمپیوٹرائزڈ این او سی عمران کے نام پر ہے اور اس کی تاریخ سال 2003 کی ہے۔ یاد رہے کہ این او سی صرف جائیداد کے مالک کے نام پر جاری کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ میں کپتان کی جانب سےبنی گالہ کی زمین ریگولرائز کروانے کے لیے جمع کروایا گیا این او سی جعلی ہے؟ سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا این او سی یونین کونسل بھارہ کہو نے عمران خان کے نام پر 2003 میں ایشو کیا تھا۔ یاد رہے کہ بنی گالہ کی جائیداد عمران کے نام پر 11 جون 2005 میں ٹرانسفر کی گئی تھی۔ جمائما خان نے خود 21 ستمبر 2004 کو بنائی گئی ایک پاور آف اٹارنی میں یہ لکھا ہے کہ زمین کی مالک وہ ہیں اور وہ اسے عمران کے نام پر ٹرانسفر کرنا چاہتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق یہ ناممکن ہے کہ یونین کونسل یا محکمہ مال کا کوئی دوسرا افسر کسی ایسے شخص کے نام پر این او سی جاری کرے جو جائیداد کا مالک نہیں ہے۔ تاہم دوسری طرف کپتان کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا کمپیوٹرائزڈ این او سی عمران خان کے نام پر ہے اور اس کی تاریخ 2003 ہے۔

اسلام آباد کے محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق جمائما خان نے 300 کنال اور پانچ مرلے زمین اپریل 2002 سے جون 2005 کے درمیان خریدی۔ یعنی جون 2005 تک زمین کی ملکیت جمائما کے نام پر تھی اور قانونی طور پر عمران خان کے نام پر اس کا ملکیتی این او سی جاری نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا قرین از قیاس یہی ہے کہ عمران خان نے جعلی دستاویز سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

یاد رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو خط لکھ کر ان کی توجہ اس بات پر مبذول کرائی تھی کہ بنی گالہ کے علاقے میں بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزی میں غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہے۔ اس پر عمران کے مخالفین نے یہ نقطہ اٹھایا کہ ان کی اپنی رہائش گاہ اسلام آباد کے زون تھری میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایریا میں واقع ہے اور اس کی تعمیر اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس 1979 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری زوننگ ریگولیشن 1992 کی خلاف ورزی ہے کیونکہ زون تھری میں کوئی نجی رہائش گاہ یا فارم ہاؤس بنانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ اس علاقے کے قدیم رہائشیوں کو وہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن وہ اپنے گھروں میں کسی قسم کی توسیع نہیں کرسکتے ہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے عمران کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بنی گالا رہائش گاہ ریگولائز کروائیں۔

Related Articles

Back to top button